کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: کفن کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
عَنْ عَلِيٍّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْكَفَنُ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَارُونَ الْفَرْوِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” کفن ( میت کے ) پورے مال میں سے دیا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن ہارون فروی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4083
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : كُفِّنَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَبْعَةِ أَثْوَابٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، [ وَالْبَزَّارُ ] . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سات کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ، اور اسے امام بزار نے بھی نقل کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4084
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كُفِّنَ فِي رَيْطَتَيْنِ وَبُرْدٍ نَجْرَانِيٍّ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دو چادروں میں اور ایک نجرانی چادر میں کفن دیا گیا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4085
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الامام البزار فى المسند (812).»
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : كُفِّنَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ وَإِزَارٍ وَلِفَافَةٍ ، وَكُفِّنَ عُمَرُ فِي ثَوْبَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ نَاصِحٌ الْمُحَلِّمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سفید کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا ایک تہبند تھا اور ایک لفافہ تھا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دو کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ناصح محلمی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4086
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : إِذَا مِتُّ فَلَا تُقَمِّصُونِي ; فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يُقَمَّصْ ، وَلَمْ يُعَمَّمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْعُمَرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ۔ انہوں نے فرمایا : جب میں مر جاؤں تو تم مجھے قمیص نہ پہنانا کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا نہ تو آپ کو قمیص پہنائی گئی تھی اور نہ ہی عمامہ باندھا گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خالد بن یزید عمری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4087
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ أَحَدُهَا قَمِيصٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا جن میں سے ایک قمیص تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4088
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْأَسَدِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن قاسم اسدی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4089
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كُفِّنَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ : بُرْدٍ صَنْعَانِيٍّ وَبُرْدَيْ حِبَرَةٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ قَعِيبُ بْنُ الْمُحْرِزِ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا ایک صنعانی چادر تھی اور دو حبرہ چادریں تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راؤی قعیب بن محرز ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4090
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ : إِذَا أَنَا مِتُّ فَاجْعَلُوا فِي غُسْلِي كَافُورًا ، وَكَفِّنُونِي فِي بُرْدَيْنِ وَقَمِيصٍ ، فَإِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَلَ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے فرمایا : جب میں مر جاؤں تو میرے غسل کے پانی میں کافور ملا دینا اور مجھے دو چادروں اور ایک قمیص میں کفن دینا کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن موسیٰ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4091
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ : سَأَلْتُ آلَ مُحَمَّدٍ وَفِيهِمُ ابْنُ نَوْفَلٍ : فِي أَيِّ شَيْءٍ كُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ ، وَجُعِلَ فِي قَبْرِهِ شِقُّ قَطِيفَةٍ كَانَتْ لَهُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابواسحاق بیان کرتے ہیں : میں نے آل محمد سے دریافت کیا : جن میں ابن نوفل بھی موجود تھے کہ کس چیز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کفن دیا گیا تھا ، تو انہوں نے جواب دیا : ایک سرخ حلے میں ، جس میں قمیص شامل نہیں تھی اور آپ کی قبر میں ان لوگوں کی ایک چادر کا ٹکڑا رکھا گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4092
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَلَهُ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى قَالَ : أَتَيْتُ حَلْقَةً مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَسَأَلْتُ أَشْيَاخَهُمْ فِي كَمْ كُفِّنَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی نے ان کے حوالے سے ایک اور روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : میں بنوعبدالمطلب کے ایک حلقے میں آیا میں نے ان کے بزرگوں سے دریافت کیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کتنے کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4093
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا قُتِلَ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ كَانَتْ عَلَيْهِ نَمِرَةٌ ، فَكَانَ عَلِيٌّ هُوَ الَّذِي أَدْخَلَهُ قَبْرَهُ ، فَكَانَ إِذَا غَطَّى بِهَا رَأْسَهُ خَرَجَتْ قَدَمَاهُ ، وَإِذَا غَطَّى قَدَمَيْهِ خَرَجَتْ رَأْسُهُ ، فَسَأَلَ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَهُ أَنْ يُغَطِّيَ رَأْسَهُ ، وَأَنْ يَأْخُذَ [ لَهُ ] شَجَرًا مِنَ الْعَلَجَانِ فَيَجْعَلَهُ عَلَى رِجْلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ أَيُّوبَ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُيَيْنَةَ ، وَأَيُّوبُ لَمْ أَعْرِفْ مَنْ هُوَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو قتل کیا گیا تو ان کے جسم پر دھاری دار چادر تھی ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں قبر میں داخل کیا تھا جب وہ اُن کے سر کو ڈھانپتے تھے تو پاؤں ظاہر ہو جاتے تھے ، اور جب وہ ان کے پاؤں کو ڈھانپتے تھے تو سر ظاہر ہو جاتا تھا انہوں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ ان کے سر کو ڈھانپ دیں اور علجان درخت کے کچھ پتے لے کر ان کے پاؤں پر ڈال دیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ایوب کی حکم بن عتیبہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ ایوب نامی شخص سے میں واقف نہیں ہوں کہ یہ کون ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4094
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12107)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قُتِلَ حَمْزَةُ يَوْمَ أُحُدٍ ، وَقُتِلَ مَعَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَجَاءَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بِثَوْبَيْنِ لِتُكَفِّنَ فِيهِمَا حَمْزَةَ ، فَلَمْ يَكُنْ لِلْأَنْصَارِيِّ كَفَنٌ ، فَأَسْهَمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ الثَّوْبَيْنِ ، ثُمَّ كُفِّنَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِي ثَوْبٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ الْجَزَرِيُّ الشَّاهِدُ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے موقع پر سیدنا حمزہ رضی اللہ شہید ہو گئے ان کے ساتھ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بھی شہید ہوئے سیدہ صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہما دو کپڑے لے کے آئی تھیں تاکہ ان میں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو کفن دیا جائے انصاری کے لئے کوئی کفن نہیں تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو کپڑوں کے دو حصے کیے اور ان دونوں صاحبان میں سے ہر ایک کو ایک ایک کپڑے میں کفن دیا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان جزری شاہد ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4095
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِحَمْزَةَ وَقَدْ جُدِعَ أَنْفُهُ وَمُثِّلَ بِهِ فَقَالَ : " لَوْلَا أَنْ تَجِدَ صَفِيَّةُ فِي نَفْسِهَا تَرَكْتُهُ حَتَّى يَحْشُرَهُ اللَّهُ مِنْ بُطُونِ السِّبَاعِ وَالطَّيْرِ " ، فَكُفِّنَ فِي نَمِرَةٍ ; إِذَا خُمِّرَ رَأْسُهُ بَدَتْ رِجْلَاهُ ، وَإِذَا خُمِّرَ رِجْلَاهُ بَدَا رَأْسُهُ ، فَخَمَّرُوا رَأْسَهُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ بَعْضَهُ مِنْ غَيْرِ ذِكْرِ الْكَفَنِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ ( کی میت ) کے پاس سے ہوا ان کی لاش کاٹ دی گئی تھی اور مثلہ کر دیا گیا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہما پریشان ہو جائیں گی میں ان کو یوں ہی رہنے دیتا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ حشر کے دن انہیں درندوں اور پرندوں کے پیٹوں میں سے اٹھا لیتا انہیں ایک چادر میں کفن دیا گیا جب ان کا سر ڈھانپا جاتا تھا ، تو پاؤں ظاہر ہو جاتے تھے ، اور جب پاؤں ڈھانپے جاتے تھے تو سر ظاہر ہو جاتا تھا ، تو لوگوں نے ان کے سر کو ڈھانپ دیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ امام ابوداؤد نے اس کا کچھ حصہ ذکر کیا ہے ، جس میں کفن کا ذکر نہیں ہے ۔ اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4096
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَمِّرُوا وُجُوهَ مَوْتَاكُمْ وَلَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اپنے مردوں کے چہرے ڈھانپ دیا کرو اور یہودیوں کے ساتھ مشابہت اختیار نہ کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4097
درجۂ حدیث محدثین: إسناده رجالہ
وَعَنْ شَيْخٍ مِنْ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : جَاءَنَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِنْدَنَا بَكْرَةٌ صَعْبَةٌ لَا نَقْدِرُ عَلَيْهَا ، قَالَ : فَدَنَا مِنْهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَسَحَ ضَرْعَهَا فَاحْتَفَلَ فَحَلَبَ ، [ قَالَ ] : فَلَمَّا مَاتَ أَبِي جَاءَ وَقَدْ شَدَدْتُهُ فِي كَفَنِهِ وَأَخَذْتُ سُلَّاءَةً ، فَشَدَدْتُ بِهَا الْكَفَنُ فَقَالَ : " لَا تُعَذِّبْ أَبَاكَ بِالسُّلَّى " ، ثُمَّ بَزَقَ عَلَى صَدْرِهِ حَتَّى رَأَيْتُ رُضَابَ بُزَاقِهِ عَلَى صَدْرِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
قیس قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے ہمارے پاس ایک جوان اونٹنی تھی جس پر ق ابوپانا مشکل تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے قریب ہوئے آپ نے اس کے تھن پر ہاتھ پھیرا تو وہ دودھ دینے کے لئے تیار ہو گئی آپ نے دودھ دوہ لیا راوی بیان کرتے ہیں : جب میرے والد کا انتقال ہوا تو میں نے ان کے کفن کو باندھ دیا اور میں نے سلاۃ ( وہ جھلی نما چیز کہ جانور کا بچہ ماں کے پیٹ میں اس کے اندر ہوتا ہے ) لے لیا ، اور میں نے اس کے ذریعے کفن کو باندھ دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم ” سلی“ کے ذریعے اپنے باپ کو عذاب نہ دو ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سینے پر لعاب دہن ڈالا ، یہاں تک کہ میں نے ان کے سینے پر آپ کے لعاب دہن کا رضاب ( باریک اور پتلا مواد ) دیکھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4098
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنِ ابْنَةِ أُهْبَانَ أَنَّ أَبَاهَا أَمَرَ أَهْلَهُ أَنْ يُكَفِّنُوهُ وَلَا يُلْبِسُوهُ قَمِصَيًا ، قَالَتْ : فَأَلْبَسْنَاهُ قَمِيصًا ، فَأَصْبَحْنَا وَالْقَمِيصُ عَلَى الْمِشْجَبِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ هَكَذَا . ¤
محمد محی الدین
بنت اہبان بیان کرتی ہیں : ان کے والد نے ان کے اہل خانہ کو یہ حکم دیا تھا کہ انہیں کفن دیتے ہوئے انہیں قمیص نہ پہنائیں وہ خاتون بیان کرتی ہیں : ہم نے انہیں ( کفن میں ) قمیص پہنا دی اگلے دن وہ قمیص کھونٹی پر لٹکی ہوئی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے اسی طرح نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4099
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدا
وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ فَقَالَ : عَنْ عُدَيْسَةَ بِنْتِ أُهْبَانَ قَالَتْ : حَيْثُ حَضَرَ أَبِي الْوَفَاةُ قَالَ : لَا تُكَفِّنُونِي فِي ثَوْبٍ مَخِيطٍ ، فَحَيْثُ قُبِضَ وَغُسِّلَ أَرْسَلُوا إِلَيَّ أَنْ أَرْسِلُوا بِالْكَفَنِ ، فَأُرْسِلَ إِلَيْهِمْ بِالْكَفَنِ ، قَالُوا : قَمِيصٌ ، قُلْتُ : إِنَّ أَبِي قَدْ نَهَانِي أَنْ أُكَفِّنَهُ فِي قَمِيصٍ مَخِيطٍ ، قَالَتْ : فَأَرْسَلْتُ إِلَى الْقِصَارِ وَلِأَبِي قَمِيصٍ فِي الْقِصَارِ ، فَأُتِيَ بِهِ ، فَأُلْبِسَ وَذَهَبَ بِهِ ، فَأَغْلَقْتُ بَابِي وَتَبِعْتُهُ ، وَرَجَعْتُ وَالْقَمِيصُ فِي الْبَيْتِ ، فَأَرْسَلْتُ إِلَى الَّذِينَ غَسَّلُوا أَبِي فَقُلْتُ : كَفَّنْتُمُوهُ فِي قَمِيصٍ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قُلْتُ : هُوَ ذَا ، قَالُوا : نَعَمْ . ¤ وَفِيهِ أَبُو عَمْرٍو الْقَسْمَلِيُّ ; قَالَ الْحُسَيْنِيُّ : لَا يُعْرَفُ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی نے معجم کبیر میں یہ روایت نقل کی ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : عدیسہ بنت اہبان بیان کرتی ہیں : جب میرے والد کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے فرمایا : مجھے کسی سلے ہوئے کپڑے میں کفن نہ دینا وہ خاتون بیان کرتی ہیں : جب انہیں غسل دے دیا گیا تو لوگوں نے مجھے پیغام بھیجا کہ تم کفن بھجوا دو میں نے ان کی طرف کفن بھجوایا لوگوں نے کہا: قمیص کہاں ہے ؟ میں نے کہا: میرے والد نے مجھے اس بات سے منع کیا ہے کہ میں انہیں سلی ہوئی قمیص میں کفن دوں وہ خاتون بیان کرتی ہیں : میں نے درزی کی طرف پیغام بھیجا میرے والد کی ایک قمیص درزی کے پاس تھی وہ لائی گئی اور انہیں پہنا دی گئی اور پھر ان کی میت کو لے گئے میں نے دروازہ بند کیا ، اور ان کے پیچھے گئی جب میں واپس آئی تو قمیص گھر میں موجود تھی جن لوگوں نے میرے والد کو غسل دیا تھا ۔ میں نے پیغام بھیجا اور میں نے دریافت کیا : تم نے انہیں قمیص میں کفن دیا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ میں نے دریافت کیا : کیا وہ یہی ہے ۔ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔
اس روایت کی سند میں ایک راوی ابوعمرو قسملی ہے حسینی فرماتے ہیں یہ معروف نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4100
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنِ الزُّهْرِيِّ أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ لَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ دَعَا بِخِلَقِ جُبَّةِ صُوفٍ فَقَالَ : كَفِّنُونِي فِيهَا فَإِنِّي لَقِيتُ فِيهَا الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ بَدْرٍ ، وَإِنَّمَا كُنْتُ أُخَبِّئُهَا لِهَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ الزُّهْرِيَّ لَمْ يُدْرِكْ سَعْدًا . ¤
محمد محی الدین
زہری بیان کرتے ہیں : جب سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی موت کا وقت قریب آیا تو انہوں نے ایک پرانا اونی جبہ منگوایا اور ارشاد فرمایا : تم لوگ مجھے اس میں کفن دے دینا کیونکہ غزوہ بدر کے موقع پر یہ پہن کر میں نے مشرکین کا سامنا کیا تھا اور میں نے اسے اس وقت کے لئے سنبھال کے رکھا ہوا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں تاہم زہری نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4101
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (316)»
وَعَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ أَنَّ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ كُفِّنَ فِي ثَوْبَيْنِ ، بَعَثَنِي وَأَبَا مَسْعُودٍ فَابْتَعْنَا لَهُ كَفَنًا ; حُلَّةَ عَصْبٍ بِثَلَاثِمِائَةِ دِرْهَمٍ ، قَالَ : أَرِيَانِي مَا ابْتَعْتُمَا لِي ، فَأَرَيْنَاهُ ، فَقَالَ : مَا هَذَا لِي بِكَفَنٍ ، إِنَّمَا يَكْفِينِي رَيْطَتَانِ بَيْضَاوَانِ ، لَيْسَ مِنْهَا قَمِيصٌ ، إِنِّي لَا أَتْرُكُ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى أَنَالَ خَيْرًا مِنْهُمَا أَوْ شَرًّا مِنْهُمَا ، فَابْتَعْنَا لَهُ رَيْطَتَيْنِ بَيْضَاوَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى : سَأَلْنَا أَبَا مَسْعُودٍ : مَا قَالَ حُذَيْفَةُ عِنْدَ الْمَوْتِ ؟ قَالَ : قَالَ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ صِيَاحٍ إِلَى النَّارِ وَاشْتَرُوا لِي ثَوْبَيْنِ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
صلہ بن زفر بیان کرتے ہیں : سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کو دو کپڑوں میں کفن دیا گیا انہوں نے مجھے اور سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ کو بھجوایا ہم نے ان کے لئے کفن خریدا ہم نے تین سو درہم کے عوض میں پٹی کا حلہ خریدا انہوں نے دریافت کیا : تم دونوں مجھے دکھاؤ کہ تم دونوں نے میرے لئے کیا خریدا ہے ؟ ہم نے وہ انہیں دکھایا تو انہوں نے فرمایا : یہ میرے کفن کے لئے مناسب نہیں ہے میرے لئے تو سفید رنگ کی دو چادریں کافی ہیں جن میں کوئی قمیص نہ ہو تھوڑی ہی دیر گزرنے کے بعد مجھے یا تو ان دونوں ( یعنی سادی چادروں ) سے زیادہ بہتر چیز مل جائے گی یا ان دونوں سے زیادہ بری چیز ملے گی راوی کہتے ہیں : تو ہم نے ان کے لئے دو سفید چادریں خرید لیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں : ہم نے سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مرتے وقت کیا کہا: تھا انہوں نے جواب دیا : انہوں نے یہ کہا: تھا : میں اس چیخ و پکار سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں جو جہنم کی طرف لے جائے تم میرے لئے دو کپڑے خرید لو ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4102
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3005)»
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّ مَيْمُونَةَ كُفِّنَتْ فِي دِرْعٍ مُعَصْفَرٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
علی بن ابوطلحہ بیان کرتے ہیں : سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کو معصفر ( زرد رنگ سے رنگی ہوئی ) قمیص میں کفن دیا گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عیاش ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4103
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (29/24)»