مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْكَفَنِ . باب: کفن کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قُتِلَ حَمْزَةُ يَوْمَ أُحُدٍ ، وَقُتِلَ مَعَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَجَاءَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بِثَوْبَيْنِ لِتُكَفِّنَ فِيهِمَا حَمْزَةَ ، فَلَمْ يَكُنْ لِلْأَنْصَارِيِّ كَفَنٌ ، فَأَسْهَمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ الثَّوْبَيْنِ ، ثُمَّ كُفِّنَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِي ثَوْبٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ الْجَزَرِيُّ الشَّاهِدُ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے موقع پر سیدنا حمزہ رضی اللہ شہید ہو گئے ان کے ساتھ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بھی شہید ہوئے سیدہ صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہما دو کپڑے لے کے آئی تھیں تاکہ ان میں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو کفن دیا جائے انصاری کے لئے کوئی کفن نہیں تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو کپڑوں کے دو حصے کیے اور ان دونوں صاحبان میں سے ہر ایک کو ایک ایک کپڑے میں کفن دیا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان جزری شاہد ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔