حدیث نمبر: 4104
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ يُؤْذِنُ بِجِنَازَةِ النَّاسِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّهَا النَّاسُ سَلُوا إِلَى اللَّهِ مَوْتَاكُمْ ، وَلَا تُؤْذِنُونَ بِهِمُ النَّاسَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ ; ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص لوگوں کے جنازے کا اعلان کرنے کے لئے آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! اپنے مرحومین کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرو اور لوگوں کو ان کے بارے میں اطلاع نہ دو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن خراش ہے ، جسے ایک جماعت نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔ ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن خراش ہے ، جسے ایک جماعت نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔ ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 4105
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كُنَّا نُؤْذِنُهُ بِمَنْ حَضَرَ مِنْ مَوْتَانَا ، فَيَأْتِيهِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ ، فَيَحْضُرُهُ وَيَسْتَغْفِرُ لَهُ ، وَيَنْتَظِرُ مَوْتَهُ ، قَالَ : فَكَانَ ذَلِكَ رُبَّمَا حَبَسَهُ الْحَبْسَ الطَّوِيلَ فَيَشُقُّ عَلَيْهِ ، قَالَ : فَقُلْنَا : إِنَّهُ أَرْفَقَ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ لَا نُؤْذِنَهُ بِالْمَيِّتِ حَتَّى يَمُوتَ ، قَالَ : فَكُنَّا إِذَا مَاتَ الْمَيِّتُ آذَنَّاهُ بِهِ ، فَجَاءَ فِي أَهْلِهِ ، فَاسْتَغْفَرَ لَهُ وَصَلَّى عَلَيْهِ ، ثُمَّ إِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يَشْهَدَهُ انْتَظَرَ شُهُودَهُ ، وَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يَنْصَرِفَ انْصَرَفَ ، قَالَ : فَكُنَّا عَلَى ذَلِكَ طَبَقَةً أُخْرَى ؟ قَالَ : فَقُلْنَا : إِنَّهُ أَرْفَقُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ نَحْمِلَ مَوْتَانَا إِلَى بَيْتِهِ وَلَا نُشَخِّصَهُ وَلَا نُتْعِبَهُ ، قَالَ : فَفَعَلْنَا ذَلِكَ ، فَكَانَ الْأَمَرُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو ہمارا جو شخص قریب المرگ ہوتا تھا ہم اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دے دیتے تھے اس کے مرنے سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے آتے تھے ۔ آپ اس کے پاس موجود ہوتے تھے اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے تھے ، اور اس کی موت کا انتظار کیا کرتے تھے راوی بیان کرتے ہیں : بعض اوقات ایسا بھی ہوا کہ آپ کو خاصی دیر تک رکنا پڑتا تھا ، تو یہ بات آپ پر گراں گزرتی تھی راوی بیان کرتے ہیں : ہم نے طے کیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے زیادہ موزوں یہ ہے کہ ہم کسی قریب المرگ شخص کے بارے میں اس وقت تک اطلاع نہ دیں جب تک اس کا انتقال نہیں ہو جاتا راوی کہتے ہیں : اسی طرح جب ایک شخص فوت ہوا تو ہم نے آپ کو اس کے بارے میں اطلاع دی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اہل خانہ کے پاس تشریف لائے آپ نے اس شخص کے لئے دعائے مغفرت کی اس کے لئے دعائے رحمت کی پھر آپ کو یہ مناسب لگتا کہ آپ جنازے میں شریک ہوں تو آپ اس کا انتظار کرتے تھے ، اور اگر آپ کو یہ مناسب لگتا کہ آپ واپس تشریف لے جائیں تو واپس تشریف لے جاتے تھے راوی کہتے ہیں : ہم اس وقت دوسرے طبقے میں تھے راوی کہتے ہیں : ہم نے کہا: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے زیادہ موزوں ہے کہ ہم اپنے مرحومین کو اٹھا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر لے جایا کریں اور آپ کو تکلیف اور زحمت نہ دیں ۔ راوی کہتے ہیں : تو ہم نے ایسا ہی کیا ، پھر معاملہ یوں ہی رہا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔