مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْكَفَنِ . باب: کفن کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِحَمْزَةَ وَقَدْ جُدِعَ أَنْفُهُ وَمُثِّلَ بِهِ فَقَالَ : " لَوْلَا أَنْ تَجِدَ صَفِيَّةُ فِي نَفْسِهَا تَرَكْتُهُ حَتَّى يَحْشُرَهُ اللَّهُ مِنْ بُطُونِ السِّبَاعِ وَالطَّيْرِ " ، فَكُفِّنَ فِي نَمِرَةٍ ; إِذَا خُمِّرَ رَأْسُهُ بَدَتْ رِجْلَاهُ ، وَإِذَا خُمِّرَ رِجْلَاهُ بَدَا رَأْسُهُ ، فَخَمَّرُوا رَأْسَهُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ بَعْضَهُ مِنْ غَيْرِ ذِكْرِ الْكَفَنِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ ( کی میت ) کے پاس سے ہوا ان کی لاش کاٹ دی گئی تھی اور مثلہ کر دیا گیا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہما پریشان ہو جائیں گی میں ان کو یوں ہی رہنے دیتا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ حشر کے دن انہیں درندوں اور پرندوں کے پیٹوں میں سے اٹھا لیتا انہیں ایک چادر میں کفن دیا گیا جب ان کا سر ڈھانپا جاتا تھا ، تو پاؤں ظاہر ہو جاتے تھے ، اور جب پاؤں ڈھانپے جاتے تھے تو سر ظاہر ہو جاتا تھا ، تو لوگوں نے ان کے سر کو ڈھانپ دیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ امام ابوداؤد نے اس کا کچھ حصہ ذکر کیا ہے ، جس میں کفن کا ذکر نہیں ہے ۔ اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔