حدیث نمبر: 4098
وَعَنْ شَيْخٍ مِنْ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : جَاءَنَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِنْدَنَا بَكْرَةٌ صَعْبَةٌ لَا نَقْدِرُ عَلَيْهَا ، قَالَ : فَدَنَا مِنْهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَسَحَ ضَرْعَهَا فَاحْتَفَلَ فَحَلَبَ ، [ قَالَ ] : فَلَمَّا مَاتَ أَبِي جَاءَ وَقَدْ شَدَدْتُهُ فِي كَفَنِهِ وَأَخَذْتُ سُلَّاءَةً ، فَشَدَدْتُ بِهَا الْكَفَنُ فَقَالَ : " لَا تُعَذِّبْ أَبَاكَ بِالسُّلَّى " ، ثُمَّ بَزَقَ عَلَى صَدْرِهِ حَتَّى رَأَيْتُ رُضَابَ بُزَاقِهِ عَلَى صَدْرِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

قیس قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے ہمارے پاس ایک جوان اونٹنی تھی جس پر ق ابوپانا مشکل تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے قریب ہوئے آپ نے اس کے تھن پر ہاتھ پھیرا تو وہ دودھ دینے کے لئے تیار ہو گئی آپ نے دودھ دوہ لیا راوی بیان کرتے ہیں : جب میرے والد کا انتقال ہوا تو میں نے ان کے کفن کو باندھ دیا اور میں نے سلاۃ ( وہ جھلی نما چیز کہ جانور کا بچہ ماں کے پیٹ میں اس کے اندر ہوتا ہے ) لے لیا ، اور میں نے اس کے ذریعے کفن کو باندھ دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم ” سلی“ کے ذریعے اپنے باپ کو عذاب نہ دو ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سینے پر لعاب دہن ڈالا ، یہاں تک کہ میں نے ان کے سینے پر آپ کے لعاب دہن کا رضاب ( باریک اور پتلا مواد ) دیکھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4098
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف