مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْكَفَنِ . باب: کفن کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ شَيْخٍ مِنْ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : جَاءَنَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِنْدَنَا بَكْرَةٌ صَعْبَةٌ لَا نَقْدِرُ عَلَيْهَا ، قَالَ : فَدَنَا مِنْهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَسَحَ ضَرْعَهَا فَاحْتَفَلَ فَحَلَبَ ، [ قَالَ ] : فَلَمَّا مَاتَ أَبِي جَاءَ وَقَدْ شَدَدْتُهُ فِي كَفَنِهِ وَأَخَذْتُ سُلَّاءَةً ، فَشَدَدْتُ بِهَا الْكَفَنُ فَقَالَ : " لَا تُعَذِّبْ أَبَاكَ بِالسُّلَّى " ، ثُمَّ بَزَقَ عَلَى صَدْرِهِ حَتَّى رَأَيْتُ رُضَابَ بُزَاقِهِ عَلَى صَدْرِهِ .
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ .
قیس قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے ہمارے پاس ایک جوان اونٹنی تھی جس پر قابو پانا مشکل تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے قریب ہوئے آپ نے اس کے تھن پر ہاتھ پھیرا تو وہ دودھ دینے کے لئے تیار ہو گئی آپ نے دودھ دوہ لیا راوی بیان کرتے ہیں : جب میرے والد کا انتقال ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے میں نے ان کے کفن کو باندھ دیا تھا اور میں نے سلاۃ ( کھجور کا کانٹا ) لے لیا ، اور میں نے اس کے ذریعے کفن کو باندھ دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم ” سلی“ ( کانٹے ) کے ذریعے اپنے باپ کو عذاب نہ دو ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سینے پر لعاب دہن ڈالا ، یہاں تک کہ میں نے ان کے سینے پر آپ کے لعاب دہن کا رضاب ( باریک اور پتلا مواد ) دیکھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔