حدیث نمبر: 4100
وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ فَقَالَ : عَنْ عُدَيْسَةَ بِنْتِ أُهْبَانَ قَالَتْ : حَيْثُ حَضَرَ أَبِي الْوَفَاةُ قَالَ : لَا تُكَفِّنُونِي فِي ثَوْبٍ مَخِيطٍ ، فَحَيْثُ قُبِضَ وَغُسِّلَ أَرْسَلُوا إِلَيَّ أَنْ أَرْسِلُوا بِالْكَفَنِ ، فَأُرْسِلَ إِلَيْهِمْ بِالْكَفَنِ ، قَالُوا : قَمِيصٌ ، قُلْتُ : إِنَّ أَبِي قَدْ نَهَانِي أَنْ أُكَفِّنَهُ فِي قَمِيصٍ مَخِيطٍ ، قَالَتْ : فَأَرْسَلْتُ إِلَى الْقِصَارِ وَلِأَبِي قَمِيصٍ فِي الْقِصَارِ ، فَأُتِيَ بِهِ ، فَأُلْبِسَ وَذَهَبَ بِهِ ، فَأَغْلَقْتُ بَابِي وَتَبِعْتُهُ ، وَرَجَعْتُ وَالْقَمِيصُ فِي الْبَيْتِ ، فَأَرْسَلْتُ إِلَى الَّذِينَ غَسَّلُوا أَبِي فَقُلْتُ : كَفَّنْتُمُوهُ فِي قَمِيصٍ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قُلْتُ : هُوَ ذَا ، قَالُوا : نَعَمْ . ¤ وَفِيهِ أَبُو عَمْرٍو الْقَسْمَلِيُّ ; قَالَ الْحُسَيْنِيُّ : لَا يُعْرَفُ . ¤
محمد محی الدین

امام طبرانی نے معجم کبیر میں یہ روایت نقل کی ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : عدیسہ بنت اہبان بیان کرتی ہیں : جب میرے والد کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے فرمایا : مجھے کسی سلے ہوئے کپڑے میں کفن نہ دینا وہ خاتون بیان کرتی ہیں : جب انہیں غسل دے دیا گیا تو لوگوں نے مجھے پیغام بھیجا کہ تم کفن بھجوا دو میں نے ان کی طرف کفن بھجوایا لوگوں نے کہا: قمیص کہاں ہے ؟ میں نے کہا: میرے والد نے مجھے اس بات سے منع کیا ہے کہ میں انہیں سلی ہوئی قمیص میں کفن دوں وہ خاتون بیان کرتی ہیں : میں نے درزی کی طرف پیغام بھیجا میرے والد کی ایک قمیص درزی کے پاس تھی وہ لائی گئی اور انہیں پہنا دی گئی اور پھر ان کی میت کو لے گئے میں نے دروازہ بند کیا ، اور ان کے پیچھے گئی جب میں واپس آئی تو قمیص گھر میں موجود تھی جن لوگوں نے میرے والد کو غسل دیا تھا ۔ میں نے پیغام بھیجا اور میں نے دریافت کیا : تم نے انہیں قمیص میں کفن دیا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ میں نے دریافت کیا : کیا وہ یہی ہے ۔ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔
اس روایت کی سند میں ایک راوی ابوعمرو قسملی ہے حسینی فرماتے ہیں یہ معروف نہیں ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4100
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف