کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: میت کو لا الہ الا اللہ کی تلقین کرنا
عَنْ زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ قَالَ : حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ لُقِّنَ عِنْدَ الْمَوْتِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَفِيهِ كَلَامٌ لِاخْتِلَاطِهِ . ¤
محمد محی الدین
زاذان ابوعمر بیان کرتے ہیں : مجھے اس شخص نے یہ بات بیان کی ہے ، جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس شخص کو موت کے قریب «لا اله الا الله» کی تلقین کر دی جائے وہ جنت میں داخل ہو گا“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، اور اس کے اختلاط کا شکار ہونے کی وجہ سے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3908
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنْ زَاذَانِ أَبِي عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ لُقِّنَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عِنْدَ الْمَوْتِ دَخَلَ الْجَنَّةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
زاذان ابوعمر روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کو موت کے قریب «لا اله الا الله» کی تلقین کر دی جائے وہ جنت میں داخل ہو گا“ ۔

یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3909
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ كَئِيبٌ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا لِي أَرَاكَ كَئِيبًا ؟ " قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَمٍّ لِيَ الْبَارِحَةَ - فُلَانٍ - وَهُوَ يَكِيدُ بِنَفْسِهِ قَالَ : " فَهَلْ لَقَّنْتَهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " قَالَ : قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : " فَقَالَهَا ؟ " قَالَ : نَعَمْ قَالَ : " وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " قَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ هِيَ لِلْأَحْيَاءِ ؟ قَالَ : " هِيَ أَهْدَمُ لِذُنُوبِهِمْ هِيَ أَهْدَمُ لِذُنُوبِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ زَائِدَةُ بْنُ أَبِي الْوَقَّادِ ، وَثَّقَهُ الْقَوَارِيرِيُّ وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے وہ پریشان تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا وجہ ہے میں تمہیں پریشان دیکھ رہا ہوں ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! گزشتہ رات میں اپنے فلاں چچا زاد کے پاس موجود تھا اور اس شخص کی روح اس وقت قبض ہو رہی تھی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم نے اس وقت اسے «لا اله الا الله» پڑھنے کی تلقین کی تھی ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے ایسا کیا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا اس نے وہ کلمہ پڑھ لیا تھا ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کے لئے جنت واجب ہو گئی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! زندہ لوگوں کے حق میں یہ کیسا ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ ان کے گناہوں کو زیادہ منہدم کر دے گا ، یہ ان کے گناہوں کو زیادہ منہدم کر دے گا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زائدہ بن ابووقاد ہے ، جسے قواریری نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔ امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3910
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «مسند أبى يعلى الموصلي، مسند أبى بكر الصديق رضي الله عنه، 63»
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّازُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ مُجَاهِدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اپنے قریب المرگ لوگوں کو «لا اله الا الله» پڑھنے کی تلقین کرو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالوہاب بن مجاہد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3911
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ كَانَ آخِرُ كَلَامِهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ لَمْ يَدْخُلِ النَّارَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ ضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کا آخری کلام «لا اله الا الله» ہو ، وہ جہنم میں داخل نہیں ہو گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبلال اشعری ہے ، جسے امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3912
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَقُولُوا : الثَّبَاتَ الثَّبَاتَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَرُ [ بْنُ مُحَمَّدِ ] بْنِ صَهْبَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اپنے قریب المرگ لوگوں کو «لا اله الا الله» پڑھنے کی تلقین کرو اور کہو : ثابت قدم رہو ثابت قدم رہو ! اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن محمد بن صھبان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3913
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ لُقِّنَ عِنْدَ الْمَوْتِ شَهَادَةَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَعَطَاءٌ فِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
عطاء بن سائب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کو موت کے قریب «لا اله الا الله» کی گواہی دینے کی تلقین کر دی جائے ( اور وہ یہ کلمہ پڑھ لے ) وہ جنت میں داخل ہو گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ عطاء نامی راوی کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3914
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَفَعَهُ قَالَ : " لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَإِنَّ نَفْسَ الْمُؤْمِنِ تَخْرُجُ رَشْحًا ، وَنَفْسُ الْكَافِرِ تَخْرُجُ مِنْ شِدْقِهِ كَمَا تَخْرُجُ نَفْسُ الْحِمَارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ” مرفوع “ حدیث کے طور پر یہ حدیث نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اپنے قریب المرگ لوگوں کو «لا اله الا الله» پڑھنے کی تلقین کرو ، کیونکہ مؤمن کی جان پسینے میں نکلتی ہے ، اور کافر کی جان اس کی باچھوں سے نکلتی ہے ، جس طرح گدھے کی جان نکلتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3915
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ شَهَادَةَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَمَنْ قَالَهَا عِنْدَ مَوْتِهِ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَنْ قَالَهَا فِي صِحَّتِهِ ؟ قَالَ : " تِلْكَ أَوْجَبُ وَأَوْجَبُ " ، ثُمَّ قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ جِيءَ بِالسَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَمَا بَيْنَهُنَّ وَمَا تَحْتَهُنَّ فَوُضِعْنَ فِي كِفَّةِ الْمِيزَانِ وَوُضِعَتْ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فِي الْكِفَّةِ الْأُخْرَى لَرَجَحَتْ بِهِنَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ ابْنَ أَبِي طَلْحَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ عَبَّاسٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اپنے قریب المرگ لوگوں کو «لا اله الا الله» کی گواہی دینے کی تلقین کرو جو شخص مرنے کے قریب اس کلمے کو پڑھ لے گا اس کے لئے جنت واجب ہو جائے گی لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جو شخص صحت کے دوران اس کلمہ کو پڑھے گا اسے کیا نصیب ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ زیادہ واجب کرنے والا ہو گا زیادہ واجب کرنے والا ہو گا پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر تمام آسمانوں اور زمین اور ان میں موجود اور ان کے درمیان موجود اور ان کے نیچے موجود سب چیزوں کو لایا جائے اور انہیں میزان کے ایک پلڑے میں رکھا جائے اور «لا اله الا الله» کی گواہی کو دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو یہ سب پر بھاری ہو جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں صرف ابن ابوطلحہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3916
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى غُلَامٍ مِنَ الْيَهُودِ وَهُوَ مَرِيضٌ فَقَالَ : " أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ؟ " قَالَ : نَعَمْ قَالَ : " أَتَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، ثُمَّ قُبِضَ فَوَلِيَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْمُسْلِمُونَ فَغَسَّلُوهُ وَدَفَنُوهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی لڑکے پاس تشریف لائے جو بیمار تھا آپ نے ارشاد فرمایا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ سیدنا محمد ، اللہ کے رسول ہیں اس نے عرض کی : جی ہاں ۔ پھر اس کا انتقال ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان اس کے نگران بنے اور انہوں نے اسے غسل دیا اور اسے دفن کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3917
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيِّ قَالَ : شَهِدْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ وَهُوَ فِي النَّزْعِ فَقَالَ : إِذَا أَنَا مِتُّ فَاصْنَعُوا بِي كَمَا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، فَقَالَ : " إِذَا مَاتَ أَحَدٌ مِنْ إِخْوَانِكُمْ فَسَوَّيْتُمُ التُّرَابَ عَلَيْهِ فَلْيَقُمْ أَحَدُكُمْ عَلَى رَأْسِ قَبْرِهِ ثُمَّ لْيَقُلْ : يَا فُلَانُ بْنَ فُلَانِ ابْنَ فُلَانَةٍ فَإِنَّهُ يَسْمَعُ وَلَا يُجِيبُ ثُمَّ يَقُولُ : يَا فُلَانُ ابْنَ فُلَانَةٍ ، فَإِنَّهُ يَسْتَوِي قَاعِدًا ثُمَّ يَقُولُ : يَا فُلَانُ ابْنَ فُلَانَةٍ ، فَإِنَّهُ يَقُولُ : أَرْشِدْنَا رَحِمَكَ اللَّهُ ، وَلَكِنْ لَا تَشْعُرُونَ فَلْيَقُلْ : اذْكُرْ مَا خَرَجْتَ عَلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا شَهَادَةَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَأَنَّكَ رَضِيتَ بِاللَّهِ رِبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا وَبِالْقُرْآنِ إِمَامًا ، فَإِنَّ مُنْكِرًا وَنَكِيرًا يَأْخُذُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِيَدِ صَاحِبِهِ وَيَقُولُ : انْطَلِقْ بِنَا مَا نَقْعُدُ عِنْدَ مَنْ لُقِّنَ حُجَّتَهُ فَيَكُونُ اللَّهُ حَجِيجَهُ دُونَهُمَا " قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ يَعْرِفْ أُمَّهُ ؟ قَالَ : " فَيَنْسُبُهُ إِلَى حَوَّاءَ يَا فُلَانُ بْنَ حَوَّاءَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ ، جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سعید بن عبداللہ اودی بیان کرتے ہیں : میں سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ان پر نزع کا عالم طاری تھا انہوں نے ارشاد فرمایا : جب میں مر جاؤں تو میرے ساتھ ویسا کرنا جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا آپ نے ارشاد فرمایا تھا : ” جب تمہارے بھائیوں میں سے کوئی ایک انتقال کر جائے تو تم اس پر مٹی برابر کرنا اور تم میں سے کوئی ایک شخص اس کی قبر کے سرہانے کھڑا ہو کر یہ کہے اے فلاں بن فلاں اے فلانہ کے صاحبزادے ! کیونکہ وہ شخص سنتا بھی ہو گا ، اور جواب بھی دیتا ہو گا پھر وہ شخص یہ کہے : اے فلاں بن فلانہ تو وہ سیدھا ہو کر بیٹھ جائے گا پھر وہ کہے اے فلاں بن فلانہ تم ہماری رہنمائی کرو اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے ، لیکن تم لوگوں کو اس کا شعور نہیں ہو گا اس وقت آدمی یہ کہے گا : تم اس چیز کو یاد کرو جس پر تم دنیا سے نکلتے وقت تھے ، اور وہ اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور تم اللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے اور اسلام کے دین ہونے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے قرآن کے امام ہونے سے راضی تھے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) تو منکر نکیر میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کے ہاتھ کو پکڑتا ہے ، اور یہ کہتا ہے تم ہمارے ساتھ چلو ! ہم ایسے شخص کے پاس نہیں بیٹھیں گے ، جس کی حجت کی اسے تلقین کر دی گئی ہو اور منکر نکیر سے پہلے اللہ تعالی اس کی طرف سے حجت کی تلقین کرنے والا ہو ، ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آدمی اس شخص کی ماں کے نام سے واقف نہ ہو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو پھر آدمی اس کی نسبت سیدہ حواء رضی اللہ عنہا کی طرف کر دے اور یہ کہے : اے فلاں بن حواء ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3918
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : أَسْنَدْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى صَدْرِي فَقَالَ : " مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ خُتِمَ لَهُ بِهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ ، وَمَنْ صَامَ يَوْمًا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ خُتِمَ لَهُ بِهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ ، وَمِنْ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ خُتِمَ لَهُ بِهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرَوَى الْبَزَّارُ طَرَفًا مِنْهُ فِي الصِّيَامِ فَقَطْ ، ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سینے کے ساتھ ٹیک لگوائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص «لا اله الا الله» پڑھ لے اور اس کے ذریعے اس پر مہر لگا دی جائے وہ شخص جنت میں داخل ہو گا ، جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ایک دن کا روزہ رکھے اور اس کے حوالے سے اس کے لئے مہر لگا دی جائے وہ جنت میں داخل ہو گا ، جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کوئی صدقہ کرے اور اس کے حوالے سے اس کے لئے مہر لگا دی جائے وہ جنت میں داخل ہو گا“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ، جو صرف روزے کے بارے میں ہے ۔ اس روایت کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3919
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ يَقُولُ لِطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ : مَا لِي أَرَاكَ شَعِثًا أَغْبَرَ مُنْذُ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَعَلَّهُ أَنَّ مَا بِكَ أَمَارَةُ ابْنِ عَمِّكَ ؟ قَالَ : فَقَالَ : مَعَاذَ اللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَا يَقُولُهَا رَجُلٌ يَحْضُرُهُ الْمَوْتُ إِلَّا وَجَدَ رُوحَهُ لَهَا رَوْحَةٌ حَتَّى تَخْرُجَ مَنْ جَسَدِهِ ، وَكَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، فَلَمْ أَسْأَلْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْهَا وَلَمْ يُخْبِرْنِي بِهَا ! فَذَاكَ الَّذِي دَخَلَنِي ! ! قَالَ عُمَرُ : فَإِنِّي أَعْلَمُهَا قَالَ : فَلِلَّهِ الْحَمْدُ فَمَا هِيَ قَالَ : الْكَلِمَةُ الَّتِي قَالَهَا لِعَمِّهِ قَالَ : صَدَقْتَ . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے یہ کہتے ہوئے سنا : کیا وجہ ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد میں مسلسل تمہیں بکھرے ہوئے بالوں والا اور غبار آلود دیکھ رہا ہوں شاید تمہیں اپنے چچا زاد کی امارت ( یعنی حکومت ) کے حوالے سے کوئی الجھن ہے ، تو انہوں نے کہا: اس بات سے اللہ کی پناہ ہے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میں ایک ایسے کلمہ کے بارے میں جانتا ہوں کہ جسے کوئی شخص موت کے قریب پڑھ لے تو اس کی روح کو اس کی راحت محسوس ہو گی یہاں تک کہ وہ روح اس کے جسم سے نکل جائے اور وہ کلمہ قیامت کے دن اس شخص کے لئے نور ہو گا “ ۔ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے بتایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کلمے کے بارے میں دریافت بھی نہیں کیا ، اور آپ نے مجھے اس کے بارے میں بتایا بھی نہیں تو اس چیز نے مجھے پریشان کیا ہوا ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اس کلمے کے بارے میں جانتا ہوں تو سیدنا طلحہ نے کہا: ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے وہ کلمہ کون سا ہے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ وہ کلمہ ہے ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا کو پڑھنے کے لئے کہا: تھا ، تو سیدنا طلحہ نے کہا: آپ نے ٹھیک کہا: ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3920
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «مسند أبى يعلى الموصلى ، مسند طلحة بن عبيد الله ، 615»
وَعَنْ يَحْيَى بْنَ طَلْحَةَ قَالَ : رَأَى عُمَرُ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ حَزِينًا فَقَالَ : مَا لَكَ ؟ قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَاتٍ لَا يَقُولُهُنَّ عَبْدٌ عِنْدَ الْمَوْتِ إِلَّا نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَشْرَقَ لَهُ لَوْنَهُ ، [ وَرَأَى ] مَا يَسُرُّهُ " قَالَ : فَمَا يَمْنَعُنِي أَنْ أَسْأَلَهُ عَنْهَا إِلَّا الْقُدْرَةُ عَلَيْهَا فَقَالَ عُمَرُ : إِنِّي لَأَعْلَمُ مَا هِيَ قَالَ طَلْحَةُ : مَا هِيَ ؟ قَالَ : هَلْ تَعْلَمُ كَلِمَةً هِيَ أَفْضَلُ مِنْ كَلِمَةٍ دَعَا إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَمَّهُ عِنْدَ الْمَوْتِ ، قَالَ طَلْحَةُ : هِيَ - وَاللَّهِ - هِيَ [ قَالَ عُمَرُ ] لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن طلحہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کو غمگین دیکھا تو دریافت کیا : تمہیں کیا ہوا ہے ؟ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے بتایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میں کچھ کلمات کے بارے میں جانتا ہوں جنہیں کوئی شخص مرتے وقت پڑھ لے تو اللہ تعالیٰ اس کی پریشانی ختم کر دے گا ، اور اس کے رنگ کو روشن کر دے گا ، اور وہ شخص ایسی چیز دیکھے گا ، جو اسے خوش کر دے گی “ ۔ پھر سیدنا طلحہ نے فرمایا : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کر سکتا تھا ، لیکن میں نے پھر بھی اس بارے میں آپ سے دریافت نہیں کیا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں جانتا ہوں کہ وہ کلمات کون سے ہیں ؟ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : وہ کون سے ہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا آپ کسی ایسے کلے سے واقف ہیں جو اس کلمہ سے زیادہ فضیلت رکھتا ہو جس کی طرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا ( جناب ابوطالب ) کو ان کے انتقال کے قریب دعوت دی تھی ؟ تو سیدنا طلحہ نے کہا: وہی ہے اللہ کی قسم وہی ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ «لا اله الا الله» ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3921
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَادَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ : " يَا خَالِ قُلْ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " ، فَقَالَ : خَالٌ أَمْ عَمٌّ ؟ قَالَ : " لَا بَلْ خَالٌ " [ وَقَالَ ] خَيْرٌ إِلَيَّ أَنْ أَقُولَهَا قَالَ : " نَعَمْ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے آپ نے فرمایا : اے ماموں ! آپ «لا اله الا الله» پڑھ لیں تو اس شخص نے دریافت کیا : ماموں یا چچا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ ماموں ، اس شخص نے کہا: اگر میں یہ کلمہ پڑھ لوں گا ، تو کیا مجھے بھلائی نصیب ہو گی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3922
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ : اللَّهُمَّ لَقِّنِّي حُجَّتِي ، فَإِنَّ الْكَافِرَ يُلَقَّنُ حُجَّتَهُ ، وَلَكِنْ لِيَقُلِ : اللَّهُمَّ لَقِّنِّي حُجَّةَ الْإِيمَانِ عِنْدَ الْمَمَاتِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ وَفِيهِ السَّكَنُ بْنُ أَبِي كَرِعَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے کوئی ایک شخص یہ ہرگز نہ کہے کہ اے اللہ ! مجھے میری حجت کی تلقین کرنا کیونکہ کافر کو اس کی حجت کی تلقین کی جاتی ہے آدمی کو یہ کہنا چاہیے : اے اللہ ! موت کے قریب ایمان کی حجت کی مجھے تلقین کرنا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سکن بن ابوکرعہ ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3923
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف