مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ تَلْقِينِ الْمَيِّتِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ . باب: میت کو لا الہ الا اللہ کی تلقین کرنا
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ شَهَادَةَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَمَنْ قَالَهَا عِنْدَ مَوْتِهِ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَنْ قَالَهَا فِي صِحَّتِهِ ؟ قَالَ : " تِلْكَ أَوْجَبُ وَأَوْجَبُ " ، ثُمَّ قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ جِيءَ بِالسَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَمَا بَيْنَهُنَّ وَمَا تَحْتَهُنَّ فَوُضِعْنَ فِي كِفَّةِ الْمِيزَانِ وَوُضِعَتْ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فِي الْكِفَّةِ الْأُخْرَى لَرَجَحَتْ بِهِنَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ ابْنَ أَبِي طَلْحَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ عَبَّاسٍ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اپنے قریب المرگ لوگوں کو «لا اله الا الله» کی گواہی دینے کی تلقین کرو جو شخص مرنے کے قریب اس کلمے کو پڑھ لے گا اس کے لئے جنت واجب ہو جائے گی لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جو شخص صحت کے دوران اس کلمہ کو پڑھے گا اسے کیا نصیب ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ زیادہ واجب کرنے والا ہو گا زیادہ واجب کرنے والا ہو گا پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر تمام آسمانوں اور زمین اور ان میں موجود اور ان کے درمیان موجود اور ان کے نیچے موجود سب چیزوں کو لایا جائے اور انہیں میزان کے ایک پلڑے میں رکھا جائے اور «لا اله الا الله» کی گواہی کو دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو یہ سب پر بھاری ہو جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں صرف ابن ابوطلحہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔