حدیث نمبر: 3918
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيِّ قَالَ : شَهِدْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ وَهُوَ فِي النَّزْعِ فَقَالَ : إِذَا أَنَا مِتُّ فَاصْنَعُوا بِي كَمَا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، فَقَالَ : " إِذَا مَاتَ أَحَدٌ مِنْ إِخْوَانِكُمْ فَسَوَّيْتُمُ التُّرَابَ عَلَيْهِ فَلْيَقُمْ أَحَدُكُمْ عَلَى رَأْسِ قَبْرِهِ ثُمَّ لْيَقُلْ : يَا فُلَانُ بْنَ فُلَانِ ابْنَ فُلَانَةٍ فَإِنَّهُ يَسْمَعُ وَلَا يُجِيبُ ثُمَّ يَقُولُ : يَا فُلَانُ ابْنَ فُلَانَةٍ ، فَإِنَّهُ يَسْتَوِي قَاعِدًا ثُمَّ يَقُولُ : يَا فُلَانُ ابْنَ فُلَانَةٍ ، فَإِنَّهُ يَقُولُ : أَرْشِدْنَا رَحِمَكَ اللَّهُ ، وَلَكِنْ لَا تَشْعُرُونَ فَلْيَقُلْ : اذْكُرْ مَا خَرَجْتَ عَلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا شَهَادَةَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَأَنَّكَ رَضِيتَ بِاللَّهِ رِبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا وَبِالْقُرْآنِ إِمَامًا ، فَإِنَّ مُنْكِرًا وَنَكِيرًا يَأْخُذُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِيَدِ صَاحِبِهِ وَيَقُولُ : انْطَلِقْ بِنَا مَا نَقْعُدُ عِنْدَ مَنْ لُقِّنَ حُجَّتَهُ فَيَكُونُ اللَّهُ حَجِيجَهُ دُونَهُمَا " قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ يَعْرِفْ أُمَّهُ ؟ قَالَ : " فَيَنْسُبُهُ إِلَى حَوَّاءَ يَا فُلَانُ بْنَ حَوَّاءَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ ، جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سعید بن عبداللہ اودی بیان کرتے ہیں : میں سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ان پر نزع کا عالم طاری تھا انہوں نے ارشاد فرمایا : جب میں مر جاؤں تو میرے ساتھ ویسا کرنا جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا آپ نے ارشاد فرمایا تھا : ” جب تمہارے بھائیوں میں سے کوئی ایک انتقال کر جائے تو تم اس پر مٹی برابر کرنا اور تم میں سے کوئی ایک شخص اس کی قبر کے سرہانے کھڑا ہو کر یہ کہے اے فلاں بن فلاں اے فلانہ کے صاحبزادے ! کیونکہ وہ شخص سنتا بھی ہو گا ، اور جواب بھی دیتا ہو گا پھر وہ شخص یہ کہے : اے فلاں بن فلانہ تو وہ سیدھا ہو کر بیٹھ جائے گا پھر وہ کہے اے فلاں بن فلانہ تم ہماری رہنمائی کرو اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے ، لیکن تم لوگوں کو اس کا شعور نہیں ہو گا اس وقت آدمی یہ کہے گا : تم اس چیز کو یاد کرو جس پر تم دنیا سے نکلتے وقت تھے ، اور وہ اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور تم اللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے اور اسلام کے دین ہونے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے قرآن کے امام ہونے سے راضی تھے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) تو منکر نکیر میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کے ہاتھ کو پکڑتا ہے ، اور یہ کہتا ہے تم ہمارے ساتھ چلو ! ہم ایسے شخص کے پاس نہیں بیٹھیں گے ، جس کی حجت کی اسے تلقین کر دی گئی ہو اور منکر نکیر سے پہلے اللہ تعالی اس کی طرف سے حجت کی تلقین کرنے والا ہو ، ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آدمی اس شخص کی ماں کے نام سے واقف نہ ہو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو پھر آدمی اس کی نسبت سیدہ حواء رضی اللہ عنہا کی طرف کر دے اور یہ کہے : اے فلاں بن حواء ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3918
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف