مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ تَلْقِينِ الْمَيِّتِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ . باب: میت کو لا الہ الا اللہ کی تلقین کرنا
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ يَقُولُ لِطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ : مَا لِي أَرَاكَ شَعِثًا أَغْبَرَ مُنْذُ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَعَلَّهُ أَنَّ مَا بِكَ أَمَارَةُ ابْنِ عَمِّكَ ؟ قَالَ : فَقَالَ : مَعَاذَ اللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَا يَقُولُهَا رَجُلٌ يَحْضُرُهُ الْمَوْتُ إِلَّا وَجَدَ رُوحَهُ لَهَا رَوْحَةٌ حَتَّى تَخْرُجَ مَنْ جَسَدِهِ ، وَكَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، فَلَمْ أَسْأَلْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْهَا وَلَمْ يُخْبِرْنِي بِهَا ! فَذَاكَ الَّذِي دَخَلَنِي ! ! قَالَ عُمَرُ : فَإِنِّي أَعْلَمُهَا قَالَ : فَلِلَّهِ الْحَمْدُ فَمَا هِيَ قَالَ : الْكَلِمَةُ الَّتِي قَالَهَا لِعَمِّهِ قَالَ : صَدَقْتَ . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے یہ کہتے ہوئے سنا : کیا وجہ ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد میں مسلسل تمہیں بکھرے ہوئے بالوں والا اور غبار آلود دیکھ رہا ہوں شاید تمہیں اپنے چچا زاد کی امارت ( یعنی حکومت ) کے حوالے سے کوئی الجھن ہے ، تو انہوں نے کہا: اس بات سے اللہ کی پناہ ہے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میں ایک ایسے کلمہ کے بارے میں جانتا ہوں کہ جسے کوئی شخص موت کے قریب پڑھ لے تو اس کی روح کو اس کی راحت محسوس ہو گی یہاں تک کہ وہ روح اس کے جسم سے نکل جائے اور وہ کلمہ قیامت کے دن اس شخص کے لئے نور ہو گا “ ۔ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے بتایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کلمے کے بارے میں دریافت بھی نہیں کیا ، اور آپ نے مجھے اس کے بارے میں بتایا بھی نہیں تو اس چیز نے مجھے پریشان کیا ہوا ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اس کلمے کے بارے میں جانتا ہوں تو سیدنا طلحہ نے کہا: ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے وہ کلمہ کون سا ہے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ وہ کلمہ ہے ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا کو پڑھنے کے لئے کہا: تھا ، تو سیدنا طلحہ نے کہا: آپ نے ٹھیک کہا: ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔