حدیث نمبر: 3917
وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى غُلَامٍ مِنَ الْيَهُودِ وَهُوَ مَرِيضٌ فَقَالَ : " أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ؟ " قَالَ : نَعَمْ قَالَ : " أَتَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، ثُمَّ قُبِضَ فَوَلِيَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْمُسْلِمُونَ فَغَسَّلُوهُ وَدَفَنُوهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی لڑکے پاس تشریف لائے جو بیمار تھا آپ نے ارشاد فرمایا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ سیدنا محمد ، اللہ کے رسول ہیں اس نے عرض کی : جی ہاں ۔ پھر اس کا انتقال ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان اس کے نگران بنے اور انہوں نے اسے غسل دیا اور اسے دفن کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3917
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔