حدیث نمبر: 3924
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لِلنَّفْسِ : اخْرُجِي قَالَتْ : لَا أَخْرُجُ إِلَّا كَارِهَةً قَالَ : اخْرُجِي وَإِنْ كَرِهْتِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اللہ تعالیٰ نفس ( یعنی روح ) سے فرماتا ہے : تم نکل جاؤ ! تو وہ عرض کرتی ہے : میں صرف مجبوری کے عالم میں نکلوں گی تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : تم نکل جاؤ اگرچہ تمہیں ناپسند ہو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 3925
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَوْتُ الْمُؤْمِنِ بِعَرَقِ الْجَبِينِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ : الْقَاسِمُ بْنُ مُطَيَّبٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مومن کی موت پیشانی کے پسینے کے ہمراہ ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن مطیب ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن مطیب ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 3926
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْمُؤْمِنُ يَمُوتُ بِعَرَقِ الْجَبِينِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِي الْكَبِيرِ نَحْوَهُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَرِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مومن پیشانی کے پسینے کے ہمراہ مرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور معجم کبیر میں ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ۔ اس کے رجال ثقہ ہیں اور صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور معجم کبیر میں ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ۔ اس کے رجال ثقہ ہیں اور صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 3927
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " نَفْسُ الْمُؤْمِنِ تَخْرُجُ رَشْحًا ، وَلَا أُحِبُّ مَوْتًا كَمَوْتِ الْحِمَارِ " قِيلَ : وَمَا مَوْتُ الْحِمَارِ ؟ قَالَ : " مَوْتُ الْفَجْأَةِ " قَالَ : " وَرُوحُ الْكَافِرِ تَخْرُجُ مِنْ أَشْدَاقِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حُسَامُ بْنُ مِصَكٍّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” مومن کی جان پسینے میں نکلتی ہے ، اور مجھے ایسی موت پسند نہیں ہے ، جو گدھے کی موت کی مانند ہو ، عرض کی گئی : گدھے کی موت کیا ہوتی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اچانک موت ، آپ نے فرمایا : کافر کی روح ، اُس کی باچھوں میں سے نکلتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسام بن مصک ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسام بن مصک ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 3928
وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : وَنَظَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى مَلَكِ الْمَوْتِ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - عِنْدَ رَأْسِ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ : " يَا مَلَكَ الْمَوْتِ ارْفُقْ بِصَاحِبِي فَإِنَّهُ مُؤْمِنٌ " فَقَالَ مَلَكُ الْمَوْتِ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - : طِبْ نَفْسًا وَقَرَّ عَيْنًا وَاعْلَمْ أَنِّي بِكُلِّ مُؤْمِنٍ رَفِيقٌ ، وَاعْلَمْ يَا مُحَمَّدُ أَنِّي لَأَقْبِضُ رُوحَ ابْنِ آدَمَ فَإِذَا صَرَخَ صَارِخٌ مِنْ أَهْلِهِ قُمْتُ فِي الدَّارِ وَمَعِي رُوحُهُ فَقُلْتُ : مَا هَذَا الصَّارِخُ ؟ وَاللَّهِ مَا ظَلَمْنَاهُ وَلَا سَبَقْنَا أَجَلَهُ وَلَا اسْتَعْجَلْنَا قَدَرَهُ وَمَا لَنَا فِي قَبْضِهِ مِنْ ذَنْبٍ ، فَإِنْ تَرْضَوْا بِمَا صَنَعَ اللَّهُ تُؤْجَرُوا وَإِنْ تَحْزَنُوا وَتَسْخَطُوا تَأْثَمُوا وَتُؤْزَرُوا ، مَا لَكُمَ عِنْدَنَا مِنْهُ عُتْبَى وَإِنَّ لَنَا عِنْدَكُمْ بَعْدَ عَوْدَةٍ وَعَوْدَةٍ فَالْحَذَرَ الْحَذَرَ ، وَمَا مِنْ أَهْلِ بَيْتِ - يَا مُحَمَّدُ - شَعْرٍ وَلَا مَدَرٍ ، بَرٍّ وَلَا فَاجِرٍ ، سَهْلٍ وَلَا جَبَلٍ إِلَّا أَنَا أَتَصَفَّحُهُمْ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ حَتَّى لَأَنَا أَعْرَفُ بِصَغِيرِهِمْ وَكَبِيرِهِمْ مِنْهُمْ بِأَنْفُسِهِمْ ، وَاللَّهِ يَا مُحَمَّدُ لَوْ أَرَدْتُ أَقْبِضُ رُوحَ بَعُوضَةٍ مَا قَدَرْتُ عَلَى ذَلِكَ حَتَّى يَكُونَ اللَّهُ هُوَ أَذِنَ بِقَبْضِهَا . ¤ قَالَ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ : بَلَغَنِي أَنَّهُ إِنَّمَا يَتَصَفَّحُهُمْ عِنْدَ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ فَإِذَا نَظَرَ عِنْدَ الْمَوْتِ فَمَنْ كَانَ يُحَافِظُ عَلَى الصَّلَوَاتِ دَنَا مِنْهُ الْمَلَكُ وَطَرَدَ عَنْهُ الشَّيْطَانَ وَيُلَقِّنُهُ الْمَلَكُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَذَلِكَ الْحَالُ الْعَظِيمُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ شَمْرٍ الْجُعْفِيُّ وَالْحَارِثُ بْنُ الْخَزْرَجِ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ وَرَوَى الْبَزَّارُ مِنْهُ إِلَى قَوْلِهِ : وَاعْلَمْ أَنِّي بِكُلِّ مُؤْمِنٍ رَفِيقٌ . ¤
محمد محی الدین
حارث بن خزرج نے اپنے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ( راوی بیان کرتے ہیں : ) ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے سرہانے ملک الموت کو دیکھ کر ارشاد فرمایا : اے ملک الموت میرے ساتھی کے ساتھ نرمی کرنا کیونکہ یہ مؤمن ہے ، تو ملک الموت نے کہا: آپ اطمینان سے رہیں اور اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا رکھیں آپ یہ بات جان لیں کہ میں ہر مومن کے لئے مہربان ہوں اے سیدنا محمد آپ یہ بات جان لیں کہ جب میں کسی انسان کی روح قبض کرتا ہوں اور اس کے اہل خانہ میں سے کوئی چیخ کر روتا ہے ، تو میں دروازے میں کھڑا ہو جاتا ہوں ۔ میرے ساتھ اس شخص کی روح ہوتی ہے میں دریافت کرتا ہوں : یہ شخص کون ہے ؟ اللہ کی قسم ہم نے اس پر کوئی ظلم نہیں کیا ہم نے اس کے مخصوص وقت سے پہلے اس کی روح کو قبض نہیں کیا اس کی متعین مقدار سے جلدی نہیں کی ، تو اس کی روح قبض کرنے میں ہمارا کیا گناہ ہے اگر تم لوگ اس چیز سے راضی ہو جو اللہ تعالیٰ نے طے کیا ہے ، تو تمہیں اجر نصیب ہو گا ، اور اگر تم غمگین ہوتے ہو ، اور ناراض ہوتے ہو ، تو تم پر بوجھ آئے گا ہمیں اس حوالے سے کوئی عتاب نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ہم نے تو تمہارے پاس یکے بعد دیگرے آتے رہنا ہے ، تو تم احتیاط کرو احتیاط کرواے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! ہر گھر خواہ وہ بالوں سے بنا ہوا ہو ، یا کچی مٹی سے بنا ہوا ہو نیک آدمی کا ہو ، یا گناہ گار کا ہو نرم جگہ پر ہو ، یا پہاڑ پر ہو میں ہر گھرانے میں روزانہ چکر لگاتا ہوں یہاں تک کہ میں ان کے چھوٹے اور بڑوں کو خود ان سے بھی زیادہ بہتر طور پر جانتا ہوں اللہ کی قسم ! اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اگر میں کسی مکھی کی روح قبض کرنے کا ارادہ کروں تو میں اس کی بھی قدرت نہیں رکھتا جب تک اللہ تعالیٰ اس کی روح قبض کرنے کی اجازت نہیں دیتا ۔
جعفر بن محمد ( شاید اس سے مراد امام جعفر صادق ہیں : ) یہ فرماتے ہیں : مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے کہ ملک الموت نمازوں کے اوقات کے وقت ان لوگوں کے گھروں میں آتا جاتا ہے ، اور جب وہ موت کے قریب کسی ایسے شخص کو پاتا ہے ، جو نمازیں باقاعدگی سے ادا کیا کرتا تھا ، تو ملک الموت اس کے پاس آ جاتا ہے ، اور شیطان اس شخص سے دور ہو جاتا ہے ملک الموت اسے« لا اله الا الله محمد رسول الله» پڑھنے کی تلقین کرتا ہے ، اور یہ بڑی بہترین حالت ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن شمر جعفی اور ایک راوی حارث بن خزرج ہے میں نے کسی کو ان دونوں کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں امام بزار نے اس روایت میں سے ان الفاظ تک کا حصہ نقل کیا ہے : ” آپ یہ بات جان لیں کہ میں ہر مومن کے لئے مہربان ہوں“ ۔
جعفر بن محمد ( شاید اس سے مراد امام جعفر صادق ہیں : ) یہ فرماتے ہیں : مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے کہ ملک الموت نمازوں کے اوقات کے وقت ان لوگوں کے گھروں میں آتا جاتا ہے ، اور جب وہ موت کے قریب کسی ایسے شخص کو پاتا ہے ، جو نمازیں باقاعدگی سے ادا کیا کرتا تھا ، تو ملک الموت اس کے پاس آ جاتا ہے ، اور شیطان اس شخص سے دور ہو جاتا ہے ملک الموت اسے« لا اله الا الله محمد رسول الله» پڑھنے کی تلقین کرتا ہے ، اور یہ بڑی بہترین حالت ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن شمر جعفی اور ایک راوی حارث بن خزرج ہے میں نے کسی کو ان دونوں کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں امام بزار نے اس روایت میں سے ان الفاظ تک کا حصہ نقل کیا ہے : ” آپ یہ بات جان لیں کہ میں ہر مومن کے لئے مہربان ہوں“ ۔
حدیث نمبر: 3929
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ نَفْسَ الْمُؤْمِنِ تَخْرُجُ رَشْحًا وَإِنَّ نَفْسَ الْكَافِرِ تَسِلُ كَمَا تَخْرُجُ نَفْسُ الْحِمَارِ ، وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ لِيَعْمَلُ الْخَطِيئَةَ فَيُشَدَّدُ بِهَا عَلَيْهِ عِنْدَ الْمَوْتِ لِيُكَفَّرَ بِهَا ، وَإِنَّ الْكَافِرَ لِيَعْمَلُ الْحَسَنَةَ فَيَسْهُلُ عَلَيْهِ عِنْدَ الْمَوْتِ لِيُجْزَى بِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ مُطَيَّبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مومن کی جان پسینے میں سے نکلتی ہے ، اور کافر کی جان یوں نکلتی ہے ، جس طرح گدھے کی جان نکلتی ہے مؤمن نے گناہ کیا ہوا ہوتا ہے ، تو مرتے وقت اس پر سختی کی جاتی ہے تاکہ یہ چیز اس کا کفارہ بن جائے اور کافر نے اچھائی کی ہوئی ہوتی ہے ، تو مرتے وقت اس پر آسانی کی جاتی ہے ، تاکہ وہ اس اچھائی کا بدلہ بن جائے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن مطیب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن مطیب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 3930
وَعَنْ سَلْمَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ يَعُودُ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبِينِهِ فَقَالَ : " كَيْفَ تَجِدُكَ ؟ " فَلَمْ يَحُرْ إِلَيْهِ شَيْئًا فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ عَنْكَ مَشْغُولٌ قَالَ : " خَلُّوا بَيْنِي وَبَيْنَهُ " فَخَرَجَ النَّاسُ مِنْ عِنْدِهِ وَتَرَكُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ فَأَشَارَ الْمَرِيضُ أَيْ أَعِدْ يَدَكَ حَيْثُ كَانَتْ ، ثُمَّ نَادَى : " يَا فُلَانُ مَا تَجِدُ ؟ " قَالَ : أَجِدُ خَيْرًا وَقَدْ حَضَرَنِي اثْنَانِ أَحَدُهُمَا أَسْوَدُ وَالْآخَرُ أَبْيَضُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيُّهُمَا أَقْرَبُ مِنْكَ ؟ " قَالَ : الْأَسْوَدُ قَالَ : " إِنَّ الْخَيْرَ قَلِيلٌ وَإِنَّ الشَّرَّ كَثِيرٌ " قَالَ : فَمَتِّعْنِي مِنْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِدَعْوَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ اغْفِرِ الْكَثِيرَ وَأَنْمِ الْقَلِيلَ " ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا تَرَى ؟ " قَالَ : [ خَيْرًا ] بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي الْخَيْرَ يُنْمَى وَأَرَى الشَّرَّ يَضْمَحِلُّ وَقَدِ اسْتَأْخَرَ عَنِّي الْأَسْوَدُ قَالَ : " أَيُّ عَمَلِكَ كَانَ أَمْلَكَ بِكَ ؟ " قَالَ : كُنْتُ أَسْقِي الْمَاءَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اسْمَعْ يَا سَلْمَانُ هَلْ تُنْكِرُ مِنِّي شَيْئًا ؟ " قَالَ : نَعَمْ - بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي - قَدْ رَأَيْتُكَ فِي مَوَاطِنَ مَا رَأَيْتُكُ عَلَى مِثْلِ حَالِكَ الْيَوْمَ ! قَالَ : " إِنِّي لِأَعْلَمُ مَا يَلْقَى ، مَا مِنْهُ عِرْقٌ إِلَّا وَهُوَ يَأْلَمُ الْمَوْتِ عَلَى حِدَّتِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی عیادت کرنے کے لئے تشریف لے گئے جب آپ اس کے پاس تشریف لائے تو آپ نے اپنا دست مبارک اس کی پیشانی پر رکھا آپ نے دریافت کیا : تم کیا محسوس کر رہے ہو ؟ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی جواب نہیں دیا عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! اس کی توجہ آپ کی طرف نہیں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے اور اس کو تنہا چھوڑ دو تو لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھ کر باہر چلے گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہیں رہنے دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اٹھایا تو بیمار نے اشارہ کیا کہ آپ اپنا دست مبارک وہیں رکھ دیں جہاں پہلے موجود تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے فلاں تم کیا محسوس کر رہے ہو اس نے عرض کی : میں بھلائی محسوس کر رہا ہوں میرے پاس دو چیزیں آئی ہیں ان میں سے ایک سفید ہے ، اور دوسری سیاہ ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : ان میں سے کون سی تمہارے زیادہ قریب ہے ؟ اس نے جواب دیا : سیاہ والی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کا مطلب ہے بھلائی کم ہے ، اور برائی زیادہ ہے اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے دعا سے نوازیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اے اللہ ! زیادہ والی چیز ( یعنی گناہوں کی ) مغفرت کر دے اور تھوڑی والی چیز ( یعنی بھلائی ) کو بڑھا دے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم کیا دیکھ رہے ہو ؟ اس نے عرض کی : بھلائی ، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں بھلائی بڑھ رہی ہے ، اور میں برائی کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ مضمحل ہو رہی ہے ، اور سیاہ چیز مجھ سے پیچھے ہٹ رہی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارے عمل میں سے کون سا عمل تمہیں موزوں لگ رہا ہے ؟ اس نے جواب دیا : میں پانی پلایا کرتا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم سن لو کیا تمہیں میری طرف سے کوئی چیز مختلف محسوس ہوئی سیدنا سلمان نے عرض کی : جی ہاں ۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں نے آپ کو مختلف قسم کی صورت حال میں دیکھا ہے ، لیکن جس طرح کی صورت حال آج ہے اس طرح کبھی آپ کو نہیں دیکھا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ جس چیز کا سامنا کر رہا ہے میں اس کو دیکھ رہا ہوں ہر ایک رگ موت کی تکلیف کو الگ سے محسوس کرتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 3931
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ نَفْسَ الْمُؤْمِنِ إِذَا قُبِضَتْ تَلَقَّاهَا مِنْ أَهْلِ الرَّحْمَةِ مِنْ عِبَادِهِ كَمَا يَلْقَوْنَ الْبَشِيرَ مِنَ الدُّنْيَا فَيَقُولُونَ : أَنْظِرُوا صَاحِبَكُمْ يَسْتَرِيحُ فَإِنَّهُ قَدْ كَانَ فِي كَرْبٍ شَدِيدٍ ثُمَّ يَسْأَلُوهُ : مَاذَا فَعَلَ فُلَانٌ ؟ وَمَاذَا فَعَلَتْ فُلَانَةٌ ؟ هَلْ تَزَوَّجَتْ ؟ فَإِذَا سَأَلُوهُ عَنِ الرَّجُلِ قَدْ مَاتَ قَبْلَهُ فَيَقُولُ : هَيْهَاتَ قَدْ مَاتَ ذَلِكَ قَبْلِي ! ! فَيَقُولُونَ : إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ذُهِبَ بِهِ إِلَى أُمِّهِ الْهَاوِيَةِ فَبِئْسَتِ الْأُمُّ وَبِئْسَتِ الْمُرَبِّيَةُ ، وَإِنَّ أَعْمَالَكُمْ تُعْرَضُ عَلَى أَقَارِبِكُمْ وَعَشَائِرِكُمْ [ مِنْ أَهْلِ الْآخِرَةِ ] فَإِنْ كَانَ خَيْرًا فَرِحُوا وَاسْتَبْشَرُوا وَقَالُوا : اللَّهُمَّ هَذَا فَضْلُكَ وَرَحْمَتُكَ فَأَتْمِمْ نِعْمَتَكَ عَلَيْهِ وَأَمِتْهُ عَلَيْهَا ، وَيَعْرِضُ عَلَيْهِمْ عَمَلَهُمُ الْمُسِيءَ فَيَقُولُونَ : اللَّهُمَّ أَلْهِمْهُ عَمَلًا صَالِحًا تَرْضَى بِهِ عَنْهُ وَتُقَرِّبُهُ إِلَيْكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَسْلَمَةُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مومن کی جان جب قبض کی جاتی ہے ، تو رحمت والے فرشتے اسے یوں ملتے ہیں جس طرح دنیا میں کوئی خوشخبری سنانے والا ملتا ہے وہ کہتے ہیں : تم اپنے ساتھی کا جائزہ لو کہ اس نے راحت حاصل کر لی ہے اس سے پہلے وہ شدید مشکل میں تھا پھر وہ اس سے دریافت کرتے ہیں کہ فلاں کا کیا حال ہے فلاں کا کیا حال ہے فلاں کا کیا حال ہے کیا اس نے شادی کر لی ہے ، جب وہ اس سے کسی ایسے شخص کے بارے میں دریافت کرتے ہیں جو پہلے مر چکا ہو تو وہ کہتا ہے ارے بھائی وہ تو مجھ سے پہلے ہی فوت ہو چکا ہے ، تو دوسرے لوگ کہتے ہیں : بے شک ہم اللہ تعالٰی کے مخصوص ہے ، اور بے شک ہم نے اسی کی طرف لوٹ کے جانا ہے وہ اپنے ٹھکانے حاویہ ( یعنی جہنم ) کی طرف چلا گیا ہو گا ، اور وہ برا ٹھکانہ ہے ، اور بری تربیت کرنے والی ہے ۔ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) تمہارے اعمال اہل آخرت سے تعلق رکھنے والے تمہارے قریبی رشتہ داروں اور تعلق داروں کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں اگر وہ عمل بہتر ہو تو وہ اس سے خوش ہوتے ہیں اور خوشخبری حاصل کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں : اے اللہ ! یہ تیرا فضل ہے ، اور تیری رحمت ہے ، تو اس پر اپنی نعمت کو مکمل کر دے اور اس نعمت پر اسے موت دینا اور برائی کرنے والے کا عمل بھی ان لوگوں کے سامنے پیش کیا جاتا ہے ، تو وہ کہتے ہیں : اے اللہ ! اسے نیک عمل کی ، توفیق دے جس کے ذریعے تو اس سے راضی ہو جائے اور تو اس کو اپنی بارگاہ میں مقرب کر لے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسلمہ بن علی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسلمہ بن علی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔