حدیث نمبر: 3910
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ كَئِيبٌ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا لِي أَرَاكَ كَئِيبًا ؟ " قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَمٍّ لِيَ الْبَارِحَةَ - فُلَانٍ - وَهُوَ يَكِيدُ بِنَفْسِهِ قَالَ : " فَهَلْ لَقَّنْتَهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " قَالَ : قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : " فَقَالَهَا ؟ " قَالَ : نَعَمْ قَالَ : " وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " قَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ هِيَ لِلْأَحْيَاءِ ؟ قَالَ : " هِيَ أَهْدَمُ لِذُنُوبِهِمْ هِيَ أَهْدَمُ لِذُنُوبِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ زَائِدَةُ بْنُ أَبِي الْوَقَّادِ ، وَثَّقَهُ الْقَوَارِيرِيُّ وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے وہ پریشان تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا وجہ ہے میں تمہیں پریشان دیکھ رہا ہوں ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! گزشتہ رات میں اپنے فلاں چچا زاد کے پاس موجود تھا اور اس شخص کی روح اس وقت قبض ہو رہی تھی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم نے اس وقت اسے «لا اله الا الله» پڑھنے کی تلقین کی تھی ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے ایسا کیا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا اس نے وہ کلمہ پڑھ لیا تھا ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کے لئے جنت واجب ہو گئی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! زندہ لوگوں کے حق میں یہ کیسا ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ ان کے گناہوں کو زیادہ منہدم کر دے گا ، یہ ان کے گناہوں کو زیادہ منہدم کر دے گا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زائدہ بن ابووقاد ہے ، جسے قواریری نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔ امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3910
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «مسند أبى يعلى الموصلي، مسند أبى بكر الصديق رضي الله عنه، 63»