عَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَوْ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَرَأَ فِي الْمَغْرِبِ بِالْأَعْرَافِ فَرَّقَهَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ - وَحَدِيثُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ : فَرَّقَهَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ - وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری یا شاید سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز میں سورت اعراف کی تلاوت کی تو آپ نے اسے دونوں رکعات میں تلاوت کیا
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے سیدنا زید بن ثابت کی نقل کردہ حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں ” آپ نے اسے دونوں رکعات میں تلاوت کیا “ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے سیدنا زید بن ثابت کی نقل کردہ حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں ” آپ نے اسے دونوں رکعات میں تلاوت کیا “ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ مَرْوَانَ قَالَ : قَالَ لِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ : مَا لِي أَرَاكَ تَقْرَأُ فِي الصَّلَاةِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ بِالطُّولَيَيْنِ قُلْتُ : وَمَا الطُّولَيَيْنِ ؟ قَالَ : الْأَعْرَافُ وَيُونُسُ . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا سُورَةَ يُونُسَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
مروان بیان کرتے ہیں : سیدنا زید بن ثابت نے مجھ سے فرمایا کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم نماز میں قصار مفصل کی تلاوت کرتے ہو جب کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نماز میں دو طویل سورتوں کی تلاوت کرتے ہوئے سنا : میں نے دریافت کیا : دو طویل سورتیں کون سی ہیں سورت اعراف اور سورت یونس ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح“ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں سورت یونس کا ذکر نہیں ہے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ : كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ مِنَ الْمَغْرِبِ بِسُورَةِ الْأَنْفَالِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ مغرب کی نماز کی دو رکعات میں سورت انفال کی تلاوت کیا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ الْأَنْفَالَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورت انفال کی تلاوت کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقْرَأُ بِهِمْ فِي الْمَغْرِبِ ( الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ ) . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مغرب کی نماز پڑھاتے ہوئے صورت محمد کی تلاوت کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَرَأَ فِي الْمَغْرِبِ ( وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ ) . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ وَضَعَّفَهُ بَقِيَّةُ الْأَئِمَّةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن یزید بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز میں سورت والتین کی تلاوت کی تھی
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، اسے شعبہ اور سفیان نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، جب کہ بقیہ ائمہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، اسے شعبہ اور سفیان نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، جب کہ بقیہ ائمہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ : آخِرُ صَلَاةٍ صَلَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَغْرِبُ فَقَرَأَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى ( سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى ) وَفِي الثَّانِيَةِ ( قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ ) . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ ضَعَّفَهُ ابْنُ الْمَدِينِيِّ وَجَمَاعَةٌ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : آخری نماز جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( جماعت کے ساتھ ) ادا کی تھی وہ مغرب کی نماز تھی آپ نے اس میں پہلی رکعت میں سورت الاعلی کی تلاوت کی تھی اور دوسری رکعت میں سورت کافروں کی تلاوت کی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن نصیر ہے ، جسے علی بن مدینی اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ، جب کہ ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔ ابن حبان نے بھی اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن نصیر ہے ، جسے علی بن مدینی اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ، جب کہ ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔ ابن حبان نے بھی اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔