مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ الْقِرَاءَةِ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ . باب: مغرب کی نماز میں قرأت کرنا
حدیث نمبر: 2700
وَعَنْ مَرْوَانَ قَالَ : قَالَ لِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ : مَا لِي أَرَاكَ تَقْرَأُ فِي الصَّلَاةِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ بِالطُّولَيَيْنِ قُلْتُ : وَمَا الطُّولَيَيْنِ ؟ قَالَ : الْأَعْرَافُ وَيُونُسُ . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا سُورَةَ يُونُسَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
مروان بیان کرتے ہیں : سیدنا زید بن ثابت نے مجھ سے فرمایا کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم نماز میں قصار مفصل کی تلاوت کرتے ہو جب کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نماز میں دو طویل سورتوں کی تلاوت کرتے ہوئے سنا : میں نے دریافت کیا : دو طویل سورتیں کون سی ہیں سورت اعراف اور سورت یونس ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح“ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں سورت یونس کا ذکر نہیں ہے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں ۔