کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: عشاء کی نماز میں قرأت کرنا
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقْرَأُ فِي الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ بِـ ( وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ ) ( وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ ) . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز میں سورت بروج کی اور سورت الطارق کی تلاوت کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2706
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ أَنْ يُقْرَأَ بِالسَّمَاوَاتِ فِي الْعَشَاءِ . ¤ رَوَاهُمَا أَحْمَدُ وَفِيهِمَا أَبُو الْمُهَزِّمِ ضَعَّفَهُ شُعْبَةُ وَابْنُ الْمَدِينِيِّ وَأَبُو زُرْعَةَ وَأَبُو حَاتِمٍ وَالنَّسَائِيُّ وَقَالَ أَحْمَدُ : مَا أَقْرَبَ حَدِيثَهُ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بھی منقول ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تھا کہ عشاء کی نماز میں سماوات کی تلاوت کی جائے ۔ یہ دونوں روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں ۔ ان دونوں کی سند میں ایک راوی ابومہزم ہے ، جسے شعبہ علی بن مدینی ابوزرعہ ابوحاتم اور امام نسائی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے امام أحمد فرماتے ہیں یہ کتنا مقارب الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2707
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ بُرَيْدَةَ ( أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ صَلَّى بِأَصْحَابِهِ صَلَاةَ الْعِشَاءِ فَقَرَأَ فِيهَا ( اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ ) فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَفْرُغَ فَصَلَّى وَذَهَبَ فَقَالَ لَهُ مُعَاذٌ قَوْلًا شَدِيدًا ، فَأَتَى الرَّجُلُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاعْتَذَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ : إِنِّي كُنْتُ أَعْمَلَ فِي نَخْلٍ وَخِفْتُ عَلَى الْمَاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَلِّ بِـ ( وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا ) وَنَحْوِهَا مِنَ السُّوَرِ " ) . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریده رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا معاذ نے اپنے اصحاب کو عشاء کی نماز پڑھائی تو اس میں سورت القمر کی تلاوت کی ان کے فارغ ہونے سے پہلے ایک شخص اٹھا اس نے تنہا نماز ادا کی اور چلا گیا سیدنا معاذ نے اس کے بارے میں سخت کلمات کے وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کے سامنے عذر پیش کیا اس نے عرض کی میں نے کھجور کے باغ میں کام کرنا تھا مجھے پانی کے بارے میں اندیشہ تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے ) ارشاد فرمایا : تم سورت والشمس اور اس جیسی سورتوں کی تلاوت کر لیا کرو
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2708
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ : صَلَّى ابْنُ مَسْعُودٍ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ فَاسْتَفْتَحَ بِسُورَةِ الْأَنْفَالِ حَتَّى بَلَغَ : ( فَنِعْمَ الْمَوْلَى وَنِعْمَ النَّصِيرُ ) ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ قَرَأَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ بِسُورَتَيْنِ مِنَ الْمُفَصَّلِ . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : بِسُورَةِ الْمُفَصَّلِ . ¤ رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُمَا مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن یزید بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے عشاء کی نماز پڑھتے ہوئے سورت انفال کی تلاوت شروع کی جب وہ اس آیت پر پہنچے فنِعْمَ المَولى ونعم النصیر تو وہ رکوع میں چلے گئے پھر انہوں نے دوسری رکعت میں مفصل سورتوں سے تعلق رکھنے والی دو سورتوں کی تلاوت کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : مفصل سورتوں سے تعلق رکھنے والی ایک سورت کی تلاوت کی : دونوں روایات امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہیں ، اور ان دونوں کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2709
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔