عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُحَيْنَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " هَلْ قَرَأَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مَعِي آنِفًا " قَالُوا : نَعَمْ قَالَ : إِنِّي أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ " فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ مَعَهُ حِينَ قَالَ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ وَيَأْتِي الْكَلَامُ عَلَيْهِ بَعْدَ هَذَا الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم میں سے کسی نے میرے ساتھ تلاوت کی ہے لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں بھی سوچ رہا تھا کہ کیا وجہ ہے کہ قرآن میں میرے ساتھ مقابلہ کیا جا رہا ہے ، ( راوی بیان کرتے ہیں ) پھر لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں تلاوت کرنے سے باز آ گئے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی :
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں اس روایت پر کلام اس کے بعد والی حدیث کے بعد آئے گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں اس روایت پر کلام اس کے بعد والی حدیث کے بعد آئے گا ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كَانُوا يَقْرَءُونَ خَلْفَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " خَلَطْتُمْ عَلَيَّ الْقُرْآنَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پہلے لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تلاوت کر لیتے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم نے مجھ پر قرآن کی تلاوت کو خلط ملط کر دیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى صَلَاةً يُجْهَرُ فِيهَا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : " أَتَقُرَءُونَ خَلْفِي ؟ " فَقَالَ بَعْضُهُمْ : إِنَّا لَنَفْعَلُ قَالَ : " لَا تَفْعَلُوا إِنِّي أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ ؟ " قَالَ : فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِتَمَامِهِ وَأَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ الْبَزَّارَ قَالَ : أَخْطَأَ فِيهِ ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ حَيْثُ قَالَ : عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ وَابْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ أُكَيْمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابن بحینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز ادا کی جس میں بلند آواز میں تلاوت کی جاتی ہے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کے فارغ ہوئے تو آپ نے دریافت کیا : کیا تم لوگ میرے پیچھے تلاوت کرتے ہو ؟ تو کچھ لوگوں نے عرض کی : ہم نے ایسا کیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ایسا نہ کرو ! میں بھی یہ سوچ رہا تھا کہ کیا وجہ ہے کہ قرآن میں میرا مقابلہ کیا جا رہا ہے راوی بیان کرتے ہیں : تو لوگ ان نمازوں میں بلند آواز میں قرأت کرنے سے باز آ گئے جن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بلند آواز میں تلاوت کیا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے مکمل روایت کے طور پر نقل کی ہے ، جب کہ امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں البتہ امام بزار نے یہ بات کہی ہے ۔ ابن شہاب کے بھتیجے نے اس روایت میں غلطی کی ہے ، جو یہ کہا: ہے کہ یہ سیدنا ابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے حالانکہ معمر اور ابن عیینہ نے اسے زہری کے حوالے سے ابن اکیمہ کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے مکمل روایت کے طور پر نقل کی ہے ، جب کہ امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں البتہ امام بزار نے یہ بات کہی ہے ۔ ابن شہاب کے بھتیجے نے اس روایت میں غلطی کی ہے ، جو یہ کہا: ہے کہ یہ سیدنا ابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے حالانکہ معمر اور ابن عیینہ نے اسے زہری کے حوالے سے ابن اکیمہ کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ۔
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى بِأَصْحَابِهِ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهِ فَقَالَ . ¤ " أَتَقْرَءُونَ فِي صَلَاتِكُمْ خَلْفَ الْإِمَامِ وَالْإِمَامُ يَقْرَأُ ؟ " فَسَكَتُوا قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ قَائِلٌ - أَوْ قَالَ قَائِلُونَ - : إِنَّا لَنَفْعَلُ قَالَ : " فَلَا تَفْعَلُوا لِيَقْرَأْ أَحَدُكُمْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي نَفْسِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو نماز پڑھائی جب آپ نے نماز مکمل کی تو آپ نے لوگوں کی طرف رخ کیا اور ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ اپنے امام کے پیچھے نماز میں قرأت کرتے ہوا ؟ جب امام قرأت کر رہا ہو ؟ لوگ خاموش رہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہ بات ارشاد فرمائی تو ایک شخص نے یا کچھ لوگوں نے یہ عرض کی : ہم ایسا کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم ایسا نہ کرو تم میں سے کوئی ایک دل میں سورت فاتحہ پڑھ لیا کرے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ لَنَا : " هَلْ تَقُرَءُونَ مَعِي إِذَا كُنْتُمْ فِي الصَّلَاةِ ؟ " قُلْنَا : نَعَمْ ، قَالَ : " فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ مَسْلَمَةُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کی جب آپ نے نماز ختم کی تو آپ نے دریافت کیا : تم لوگ جب نماز میں تھے تو کیا میرے ساتھ قرأت کر رہے تھے ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ایسا نہ کرو البتہ سورت فاتحہ کا معاملہ مختلف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلمہ بن علی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلمہ بن علی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفِي كُلِّ صَلَاةٍ قِرَاءَةٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : وَجَبَ هَذَا ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا أَرَى الْإِمَامَ إِذَا قَرَأَ إِلَّا كَانَ كَافِيًا " . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ إِلَى قَوْلِهِ : " وَجَبَ هَذَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہر نماز میں قرأت کی جائے گی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! حاضرین میں سے ایک صاحب بولے : کیا یہ واجب ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں یہ سمجھتا ہوں کہ جب امام تلاوت کر رہا ہو تو وہ کافی ہو گی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، جو یہاں تک ہے ” یہ واجب ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
وَعَنْ جَهْرٍ قَالَ : قَرَأْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : جَهْرُ ! أَسْمِعْ رَبَّكَ وَلَا تُسْمِعْنِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَهْرٍ لَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جہر بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تلاوت کی جب آپ نے نماز ختم کی تو آپ نے فرمایا : اے جہر تم اپنے پروردگار کو سناؤ تم مجھے نہ سناؤ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے عبداللہ بن جہر کا ذکر کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے عبداللہ بن جہر کا ذکر کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ : يَا فُلَانُ لَا تَقْرَأْ خَلْفَ الْإِمَامِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ إِمَامًا لَا يَقْرَأُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے فرمایا : اے فلاں تم امام کے پیچھے تلاوت نہ کرو البتہ اگر امام کوئی ایسا ہو جو تلاوت نہ کر رہا ہو تو معاملہ مختلف ہے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ ؟ قَالَ : أَنْصِتْ لِلْقُرْآنِ فَإِنَّ فِي الصَّلَاةِ شُغْلًا وَسَيَكْفِيكَ ذَلِكَ الْإِمَامُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
ابووائل بیان کرتے ہیں : ایک شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا: اے ابوعبدالرحن کیا میں امام کے پیچھے قرأت کروں گا ، تو انہوں نے فرمایا : تم قرآن ( کی تلاوت ) کے لئے خاموش رہو کیونکہ نماز میں مشغولیت ہوتی ہے امام تمہارے لئے کفایت کر جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ لَا يَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ وَكَانَ إِبْرَاهِيمُ يَأْخُذُ بِهِ وَكَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ إِذَا كَانَ إِمَامًا قَرَأَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ وَلَا يَقْرَأُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ بِشَيْءٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِبْرَاهِيمُ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ امام کے پیچھے تلاوت نہیں کیا کرتے تھے ابراہیم نخعی اس کے مطابق فتوی دیا کرتے تھے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جب امام ہوتے تھے تو پہلی دو رکعات میں تلاوت کرتے تھے ، اور آخری دو رکعات میں کوئی تلاوت نہیں کرتے تھے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ابراہیم نخعی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ابراہیم نخعی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ فَقِرَاءَةُ الْإِمَامِ لَهُ قِرَاءَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ أَبُو هَارُونَ الْعَبْدِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جس شخص کا امام ہو ، تو امام کی قرأت اس کی قرأت شمار ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوہارون عبدی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوہارون عبدی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ : جَاءَ هِشَامُ بْنُ عَامِرٍ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَسْرَعَ الْمَشْيَ فَدَخَلَ فِي الصَّلَاةِ وَقَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ فَجَهَرَ بِالْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قِيلَ لَهُ : أَتَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ ؟ قَالَ : إِنَّا لَنَفْعَلُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
حمید بن ہلال بیان کرتے ہیں : ہشام بن عامر نماز کے لئے آئے وہ تیزی سے چلتے ہوئے آئے اور نماز میں شامل ہو گئے ان کا سانس پھولا ہوا تھا انہوں نے امام کے پیچھے بلند آواز میں تلاوت شروع کر دی جب انہوں نے نماز مکمل کی تو ان سے کہا: گیا کیا آپ امام کے پیچھے تلاوت کر رہے تھے انہوں نے فرمایا : ہم ایسا کیا کرتے ہیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ قَرَأَ خَلْفَ الْإِمَامِ فَلْيَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ " . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جس نے امام کے پیچھے تلاوت کرنی ہو وہ سورت فاتحہ پڑھ لے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث منقول ہے ، جو اس سیاق کے بغیر ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كُلُّ صَلَاةٍ لَا يُقْرَأُ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ فَهِيَ خِدَاجٌ فَهِيَ خِدَاجٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” ہر وہ نماز جس میں سورت فاتحہ کی تلاوت نہ کی جائے وہ نامکمل ہوتی ہے وہ نامکمل ہوتی ہے وہ نامکمل ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كُلُّ صَلَاةٍ لَا يُقْرَأُ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَخِدْجَةٌ فَخِدْجَةٌ فَخِدْجَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النَّشِيطِيُّ قَالَ أَبُو زُرْعَةَ : نَسْأَلُ اللَّهَ السَّلَامَةَ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ہر وہ نماز جس میں سورت فاتحہ کی تلاوت نہ کی جائے وہ نامکمل ہوتی ہے نامکمل ہوتی ہے نامکمل ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن سلیمان نشیطی ہے امام ابوزرعہ کہتے ہیں : ہم اللہ تعالیٰ سے سلامتی کا سوال کرتے ہیں یہ قوی نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن سلیمان نشیطی ہے امام ابوزرعہ کہتے ہیں : ہم اللہ تعالیٰ سے سلامتی کا سوال کرتے ہیں یہ قوی نہیں ہے ۔
وَعَنْ مِهْرَانَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِأُمِّ الْكِتَابِ فِي صَلَاتِهِ فَهِيَ خِدَاجٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : لَا يُرْوَى عَنْ مِهْرَانَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ قُلْتُ : وَفِي إِسْنَادِهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مہران نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ” جو شخص اپنی نماز میں سورت فاتحہ نہیں پڑھتا تو وہ نماز نامکمل ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا مہران کے حوالے سے یہ روایت صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کی سند میں ایک جماعت ایسی ہے جن لوگوں میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا مہران کے حوالے سے یہ روایت صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کی سند میں ایک جماعت ایسی ہے جن لوگوں میں واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " تَقْرَءُونَ خَلْفِي ؟ " قَالُوا : نَعَمْ قَالَ : " فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم لوگ میرے پیچھے تلاوت کرتے ہو لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ایسا نہ کرو البتہ سورت فاتحہ کا معاملہ مختلف ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس میں ایک شخص ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس میں ایک شخص ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ۔
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَعَلَّكُمْ تَقُرَءُونَ وَالْإِمَامُ يَقْرَأُ ؟ " قَالَهَا ثَلَاثًا ، قَالُوا : إِنَّا لَنَفْعَلُ ذَلِكَ قَالَ : " فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا أَنْ يَقْرَأَ أَحَدُكُمْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي نَفْسِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : شاید تم لوگ اس وقت تلاوت کرتے ہو جب امام تلاوت کر رہا ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ دریافت کی تو لوگوں نے عرض کی : ہم ایسا کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم ایسا نہ کرو البتہ کوئی شخص اپنے دل میں سورت فاتحہ پڑھ لیا کرے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ عَنْ أَبِيهِ وَكَانَ أَبُوهُ أَسِيرًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا تُقْبَلُ صَلَاةٌ لَا يُقْرَأُ فِيهَا بِأُمِّ الْكِتَابِ " . ¤ وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ وَقَدْ رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
دیہات سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں : ان کے والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسیر کے طور پر رہے تھے وہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” وہ نماز قبول نہیں ہوتی جس میں سورت فاتحہ کی تلاوت نہ کی گئی ہو “ ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ : قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاتِحَةَ الْكِتَابِ ثُمَّ قَالَ : " قَالَ رَبُّكُمُ : ابْنَ آدَمَ أَنْزَلْتُ عَلَيْكَ سَبْعَ آيَاتٍ ؛ ثَلَاثٌ لِي وَثَلَاثٌ لَكَ وَوَاحِدَةٌ بَيْنِي وَبَيْنَكَ فَأَمَّا الَّتِي لِي فَـ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ مِنْكَ الْعِبَادَةُ وَعَلَيَّ الْعَوْنُ ، وَأَمَّا الَّتِي لَكَ : اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت فاتحہ کی تلاوت کی پھر ارشاد فرمایا : تمہارا پروردگار فرماتا ہے اے ابن آدم میں نے تم پر سات آیات نازل کی ہیں جن میں سے تین میرے لئے ہیں ، اور تین تمہارے لئے ہیں ، اور ایک میرے اور تمہارے درمیان ہے جہاں تک ان آیات کا تعلق ہے ، جو میرے لئے ہیں تو وہ یہ ہیں ” ہر طرح کی حمد اللہ تعالی کے لئے مخصوص ہے ، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے قیامت کے دن کا مالک ہے بے شک ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں ، اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں “ ۔ ( اللہ تعالی فرماتا ہے : ) تو عبادت تمہاری طرف سے ہو گئی اور مدد میرے ذمہ ہو گی جہاں تک ان آیات کا تعلق ہے ، جو تمہارے لئے ہیں ( تو وہ یہ ہیں ) ” تو ہمیں سیدھے راستے پر چلا ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا نہ کہ ان لوگوں کا جن پر غضب کیا گیا اور نہ ہی گمراہوں کا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ارقم ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ارقم ہے ، اور وہ متروک ہے ۔