مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ . باب: نماز میں قرأت کرنا
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى بِأَصْحَابِهِ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهِ فَقَالَ . ¤ " أَتَقْرَءُونَ فِي صَلَاتِكُمْ خَلْفَ الْإِمَامِ وَالْإِمَامُ يَقْرَأُ ؟ " فَسَكَتُوا قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ قَائِلٌ - أَوْ قَالَ قَائِلُونَ - : إِنَّا لَنَفْعَلُ قَالَ : " فَلَا تَفْعَلُوا لِيَقْرَأْ أَحَدُكُمْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي نَفْسِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو نماز پڑھائی جب آپ نے نماز مکمل کی تو آپ نے لوگوں کی طرف رخ کیا اور ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ اپنے امام کے پیچھے نماز میں قرأت کرتے ہوا ؟ جب امام قرأت کر رہا ہو ؟ لوگ خاموش رہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہ بات ارشاد فرمائی تو ایک شخص نے یا کچھ لوگوں نے یہ عرض کی : ہم ایسا کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم ایسا نہ کرو تم میں سے کوئی ایک دل میں سورت فاتحہ پڑھ لیا کرے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔