حدیث نمبر: 2639
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُحَيْنَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " هَلْ قَرَأَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مَعِي آنِفًا " قَالُوا : نَعَمْ قَالَ : إِنِّي أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ " فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ مَعَهُ حِينَ قَالَ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ وَيَأْتِي الْكَلَامُ عَلَيْهِ بَعْدَ هَذَا الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم میں سے کسی نے میرے ساتھ تلاوت کی ہے لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں بھی سوچ رہا تھا کہ کیا وجہ ہے کہ قرآن میں میرے ساتھ مقابلہ کیا جا رہا ہے ، ( راوی بیان کرتے ہیں ) پھر لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں تلاوت کرنے سے باز آ گئے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی : یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں اس روایت پر کلام اس کے بعد والی حدیث کے بعد آئے گا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2639
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح