❮
❯
حدیث نمبر: 2644
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفِي كُلِّ صَلَاةٍ قِرَاءَةٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : وَجَبَ هَذَا ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا أَرَى الْإِمَامَ إِذَا قَرَأَ إِلَّا كَانَ كَافِيًا " .
قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ إِلَى قَوْلِهِ : " وَجَبَ هَذَا " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ .
محمد محی الدین

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہر نماز میں قرأت کی جائے گی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! حاضرین میں سے ایک صاحب بولے : کیا یہ واجب ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں یہ سمجھتا ہوں کہ جب امام تلاوت کر رہا ہو تو وہ کافی ہو گی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، جو یہاں تک ہے ” یہ واجب ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2644
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «أخرجه سنن النسائي برقم: 923، وأخرجه سنن ابن ماجه برقم: 842، وأخرجه مسند أحمد برقم: 26982»