مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ . باب: نماز میں قرأت کرنا
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ : قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاتِحَةَ الْكِتَابِ ثُمَّ قَالَ : " قَالَ رَبُّكُمُ : ابْنَ آدَمَ أَنْزَلْتُ عَلَيْكَ سَبْعَ آيَاتٍ ؛ ثَلَاثٌ لِي وَثَلَاثٌ لَكَ وَوَاحِدَةٌ بَيْنِي وَبَيْنَكَ فَأَمَّا الَّتِي لِي فَـ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ مِنْكَ الْعِبَادَةُ وَعَلَيَّ الْعَوْنُ ، وَأَمَّا الَّتِي لَكَ : اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت فاتحہ کی تلاوت کی پھر ارشاد فرمایا : تمہارا پروردگار فرماتا ہے اے ابن آدم میں نے تم پر سات آیات نازل کی ہیں جن میں سے تین میرے لئے ہیں ، اور تین تمہارے لئے ہیں ، اور ایک میرے اور تمہارے درمیان ہے جہاں تک ان آیات کا تعلق ہے ، جو میرے لئے ہیں تو وہ یہ ہیں ” ہر طرح کی حمد اللہ تعالی کے لئے مخصوص ہے ، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے قیامت کے دن کا مالک ہے بے شک ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں ، اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں “ ۔ ( اللہ تعالی فرماتا ہے : ) تو عبادت تمہاری طرف سے ہو گئی اور مدد میرے ذمہ ہو گی جہاں تک ان آیات کا تعلق ہے ، جو تمہارے لئے ہیں ( تو وہ یہ ہیں ) ” تو ہمیں سیدھے راستے پر چلا ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا نہ کہ ان لوگوں کا جن پر غضب کیا گیا اور نہ ہی گمراہوں کا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ارقم ہے ، اور وہ متروک ہے ۔