کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: بسم اللہ الرحمن الرحیم کا بیان
حدیث نمبر: 2626
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْجَهْرِ بِبَسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فَقَالَ : كُنَّا نَقُولُ هِيَ قِرَاءَةُ الْأَعْرَابِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ أَبُو سَعْدٍ الْبَقَّالُ وَهُوَ ثِقَةٌ مُدَلِّسٌ وَقَدْ عَنْعَنَهُ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ان سے ( نماز کے دوران تلاوت کرتے ہوئے ) بلند آواز میں بسم الله الرحمنِ الرَّحِیمِ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے ارشاد فرمایا : ہم یہ سمجھے تھے کہ یہ دیہاتیوں کا تلاوت کا طریقہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوسعد بقال ہے وہ ” ثقہ “ ہے ، لیکن تدلیس کرنے والا ہے ، اس نے یہ روایت عنعنہ کے ساتھ نقل کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2626
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف، اس میں ابو سعد البقال مدلس ہے اور اس نے عنعنہ سے روایت کی ہے، جبکہ بقیہ رجال صحیح ہیں۔
حدیث نمبر: 2627
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسًا أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ أَوِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ؟ قَالَ : إِنَّكَ لَتَسْأَلُنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ قَبْلَكَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سعید بن یزید بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( بلند آواز سے تلاوت کا آغاز ) بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ پڑھ کر کرتے تھے ؟ یا الحمدللہ پڑھ کر کرتے تھے ؟ تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم نے مجھ سے ایک ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا ہے کہ تم سے پہلے کسی نے مجھ سے اس بارے میں دریافت نہیں کیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2627
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «مسند احمد بن حنبل ، مسند انس بن مالك رضي الله تعالى عنه 12476»
حدیث نمبر: 2628
وَعَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، - قَالَ نَافِعٌ : أَرَاهَا حَفْصَةَ - أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنْ قِرَاءَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : إِنَّكُمْ لَا تَسْتَطِيعُونَهَا قَالَ : فَقِيلَ : أَخْبِرِينَا بِهَا قَالَ : فَقَرَأَتْ قِرَاءَةً تَرَسَّلَتْ فِيهَا قَالَ : فَحَكَى لَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، ثُمَّ قَطَعَ ، الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، ثُمَّ قَطَعَ ، مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ محترمہ ، نافع نامی راوی بیان کرتے ہیں : میرا خیال ہے ، اس سے مراد سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں ، ان زوجہ محترمہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : تم لوگ اس کی استطاعت نہیں رکھتے ہو ان سے کہا: گیا آپ ہمیں اس کے بارے میں بتا تو دیں راوی بیان کرتے ہیں : تو انہوں نے قرأت کی انہوں نے آرام آرام سے تلاوت کی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر ابن ابوملیکہ نے ہمارے سامنے وہ تلاوت سے پہلے الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِین پڑھا پھر رک گئے الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ پڑھا پھر رک گئے پھر مَالِكِ يَوْمِ الدِّینِ پڑھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2628
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 2629
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ الصَّائِغِ قَالَ : سَأَلْتُ مَطَرًا الْوَرَّاقَ فَقُلْتُ : أَتَقْرَأُ بِبَسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَتَتَعَوَّذُ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ وَفِي كُلِّ سُورَةٍ تَفْتَتِحُهَا ؟ فَقَالَ : أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَسَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " هُمَا السَّكْتَتَانِ يَفْعَلُ فِي نَفْسِهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ وَإِذَا نَهَضَ مِنَ الْجُلُوسِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ رَيْحَانُ أَبُو غَسَّانَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابراہیم صائغ بیان کرتے ہیں : میں نے مطر الوراق سے سوال کیا میں نے کہا: کیا بسم الله الرحمن الرحيم اور أَعْوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّجِيْمِ ہر رکعت میں پڑھتے اور ہر سورت کے آغاز میں پڑھتے تو انہوں نے بتایا : قتادہ نے محمد بن سرین کے حوالے سے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ اور سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ” یہ دو خاموشیاں ہیں جو آدمی اپنے من میں کرے گا جب وہ نماز کا آغاز کرے گا ، اور جب وہ دو رکعات کے بعد قعدہ سے اٹھے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ریحان ابوغسان ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2629
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2630
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا قَرَأَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَزِأَ مِنْهُ الْمُشْرِكُونَ وَقَالُوا : مُحَمَّدٌ يَذْكُرُ إِلَهَ الْيَمَامَةِ كَانَ مُسَيْلِمَةَ يَتَسَمَّى الرَّحْمَنَ الرَّحِيمَ فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ لَا يُجْهَرَ بِهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ پڑھے تھے تو مشرکین آپ کا مذاق اڑاتے تھے وہ یہ کہتے تھے : کہ سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) یمامہ کے معبود کا ذکر کرتے ہیں کیونکہ مسیلمہ نے اپنا نام الرحمن الرحيم رکھا ہوا تھا جب یہ آیت نازل ہو گئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا کہ اس آیت کو بلند آواز میں نہ پڑھا جائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2630
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 2631
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُسِرُّ بِبَسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پست آواز میں بسم الله الرحمن الرحیم پڑھتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2631
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 2632
وَعَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ : كَانَ عَلِيٌّ وَعَبْدُ اللَّهِ لَا يَجْهَرَانِ بِبَسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَلَا بِالتَّعْوِيذِ وَلَا بِالتَّأْمِينِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ أَبُو سَعْدٍ الْبَقَّالُ وَهُوَ ثِقَةٌ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
ابووائل بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بسم اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ بلند آواز میں نہیں پڑھتے تھے اعوذ باللہ اور آمین بھی بلند آواز میں نہیں پڑھتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوسعد بقال ہے وہ ” ثقہ “ اور تدلیس کرنے والا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2632
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2633
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَجْهَرُ بِبَسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فِي الصَّلَاةِ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ خَلَا الْجَهْرَ بِهَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں بلند آواز میں بسم الله الرحمن الرحيم پڑھا کرتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے نقل کی ہے ، تاہم اس میں بلند آواز میں پڑھنے کا ذکر نہیں ہے -
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2633
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 2634
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَعْرِفُ خَاتِمَةَ السُّورَةِ حَتَّى تَنْزِلَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، فَإِذَا نَزَلَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ عَرِفَ أَنَّ السُّورَةَ قَدْ خُتِمَتْ وَاسْتُقْبِلَتْ - أَوِ ابْتُدِئَتْ سُورَةٌ أُخْرَى - . ¤ قُلْتُ : اقْتَصَرَ أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ عَلَى قَوْلِهِ : لَا يَعْرِفُ خَاتِمَةَ السُّورَةِ حَتَّى تَنْزِلَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سورت کے اختتام کا پتہ نہیں چلتا تھا یہاں تک کہ بسم الله الرحمن الرحيم نازل ہو گئی جب بسم الله الرحمن الرحیم نازل ہو گئی ، تب یہ بات پتہ چل گئی کہ یہ سورت ختم ہو گئی ہے اور اگلی سورت شروع ہو گئی ہے یا دوسری سورت کا آغاز ہو گیا ہے ( یعنی یہاں لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہو گیا ہے ) ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت میں سے صرف ان الفاظ کو نقل کیا ہے : “ آپ کو سورت کے خاتمے کا پتہ نہیں چلتا تھا یہاں تک کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم نازل ہو گئی “ ۔
یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2634
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 2635
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سَبْعُ آيَاتٍ إِحْدَاهُنَّ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، وَهِيَ سَبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ وَهِيَ أُمُّ الْقُرْآنِ ، وَفَاتِحَةُ الْكِتَابِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” الحمد لله رب العالمين سات آیات ہیں جن میں سے ایک بسم الله الرحْمنِ الرَّحِيمِ ہے یہی سبع مثانی ہے ، اور قرآن عظیم ہے یہی اُم القرآن اور فاتحہ الکتاب ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2635
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 2636
وَعَنْ عَلِيٍّ وَعَمَّارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَجْهَرُ بِبَسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ وَزُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ وَضَعَّفَهُ النَّاسُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بلند آواز میں بسم الله الرحمن الرحيم پڑھا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، جسے شعبہ ثوری اور زہیر بن معاویہ نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے یہ تدلیس کرنے والا ہے لوگوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2636
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2637
وَعَنْ نَافِعٍ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ يَبْدَأُ بِبَسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فِي أُمِّ الْقُرْآنِ وَفِي السُّورَةِ الَّتِي تَلِيهَا وَيَذْكُرُ أَنَّهُ سَمِعَ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب نماز کا آغاز کرتے تھے تو سورت فاتحہ سے پہلے بسم اللہ الرَّحْمنِ الرحیم پڑھتے تھے ، اور اس کے بعد والی سورت سے پہلے بھی بسم اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ پڑھتے تھے ، اور یہ بات ذکر کرتے تھے کہ انہوں نے یہ چیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عبداللہ بن عمر العمری ہے ، اور وہ انتہائی ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2637
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
حدیث نمبر: 2638
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَخْرُجْ مِنَ الْمَسْجِدِ حَتَّى أُعَلِّمَكَ آيَةً مِنْ سُورَةٍ لَمْ تَنْزِلْ عَلَى أَحَدٍ قَبْلِي غَيْرَ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ " فَخَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى بَلَغَ أُسْكُفَّةَ الْبَابِ قَالَ : " بِأَيِّ شَيْءٍ تَسْتَفْتِحُ صَلَاتَكَ وَقِرَاءَتَكَ ؟ " قُلْتُ : بِبَسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فَقَالَ : " هِيَ هِيَ " ثُمَّ أَخْرَجَ رِجْلَهُ الْأَخِرَيْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ وَهُوَ ضَعِيفٌ لِسُوءِ حِفْظِهِ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم مسجد سے باہر نہ جانا جب تک میں تمہیں ایک سورت کی ایک آیت کی تعلیم نہیں دے دیتا جو مجھ سے پہلے سیدنا سلیمان بن داؤد علیہما السلام کے علاوہ اور کسی پر نازل نہیں ہوئی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلنے لگے ، یہاں تک کہ آپ دروازے کی چوکھٹ پر پہنچے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنی تلاوت کا آغاز کس چیز کے ذریعے کرتے ہو میں نے عرض کی : بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہی ہے یہی ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرا پاؤں بھی باہر نکال لیا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم بن ابوالمخارق ہے ، اور وہ اپنے حافظے کی خرابی کی وجہ سے ضعیف ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی بھی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2638
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف