حدیث نمبر: 2641
وَعَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى صَلَاةً يُجْهَرُ فِيهَا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : " أَتَقُرَءُونَ خَلْفِي ؟ " فَقَالَ بَعْضُهُمْ : إِنَّا لَنَفْعَلُ قَالَ : " لَا تَفْعَلُوا إِنِّي أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ ؟ " قَالَ : فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِتَمَامِهِ وَأَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ الْبَزَّارَ قَالَ : أَخْطَأَ فِيهِ ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ حَيْثُ قَالَ : عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ وَابْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ أُكَيْمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابن بحینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز ادا کی جس میں بلند آواز میں تلاوت کی جاتی ہے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کے فارغ ہوئے تو آپ نے دریافت کیا : کیا تم لوگ میرے پیچھے تلاوت کرتے ہو ؟ تو کچھ لوگوں نے عرض کی : ہم نے ایسا کیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ایسا نہ کرو ! میں بھی یہ سوچ رہا تھا کہ کیا وجہ ہے کہ قرآن میں میرا مقابلہ کیا جا رہا ہے راوی بیان کرتے ہیں : تو لوگ ان نمازوں میں بلند آواز میں قرأت کرنے سے باز آ گئے جن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بلند آواز میں تلاوت کیا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے مکمل روایت کے طور پر نقل کی ہے ، جب کہ امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں البتہ امام بزار نے یہ بات کہی ہے ۔ ابن شہاب کے بھتیجے نے اس روایت میں غلطی کی ہے ، جو یہ کہا: ہے کہ یہ سیدنا ابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے حالانکہ معمر اور ابن عیینہ نے اسے زہری کے حوالے سے ابن اکیمہ کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2641
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔