کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ستر کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ خَتَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ عَلَى مَعْمَرٍ بِفِنَاءِ الْمَسْجِدِ مُحْتَبِيًا كَاشِفًا عَنْ طَرَفِ فَخِذِهِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خَمِّرْ فَخِذَكَ يَا مَعْمَرُ فَإِنَّ الْفَخِذَ عَوْرَةٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ عِنْدَ أَحْمَدَ أَيْضًا قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا مَعَهُ عَلَى مَعْمَرٍ وَفَخِذَاهُ مَكْشُوفَتَانِ فَقَالَ : "يَا مَعْمَرُ غَطِّ فَخِذَيْكَ فَإِنَّ الْفَخِذَيْنِ عَوْرَةٌ " . ¤ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي الْأُولَى : " فَإِنَّ الْفَخِذَ مِنَ الْعَوْرَةِ " وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا محمد بن عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سسرالی عزیز ہیں وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر مسجد کے صحن میں سے ایک بوڑھے شخص کے پاس سے ہوا جو احتباء کے طور پر بیٹھا ہوا تھا اور اس نے اپنے زانوں کو کھلا رکھا ہوا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : اے معمر ! تم اپنے زانوں کو ڈھانپ لو کیونکہ زانوں ستر کا حصہ ہے ۔ یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ان کے حوالے سے منقول ایک روایت جو امام أحمد ہی نے نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر معمر کے پاس سے ہوا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا عمر نے اپنے دونوں زانوں کھلے رکھے ہوئے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے معمر ! اپنے زانوں کو ڈھانپ لو کیونکہ دونوں زانوں ستر کا حصہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے پہلی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” بے شک زانوں ستر کا حصہ ہیں “ ۔ امام أحمد کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2232
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح ہو سکتا ہے کیونکہ اس کے تمام راوی ثقہ ہیں، جیسا کہ ہیثمی نے مجمع الزوائد میں صراحت کی ہے۔
وَعَنْ جَرْهَدٍ وَنَفَرٍ مِنْ أَسْلَمَ سِوَاهُ ذَوِي رِضًى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ عَلَى جَرْهَدٍ وَفَخِذُ جَرْهَدٍ مَكْشُوفَةٌ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا جَرْهَدُ غَطِّ فَخِذَكَ فَإِنَّ الْفَخِذَ عَوْرَةٌ " . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ جَرْهَدٍ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جرہد رضی اللہ عنہ اور ان کے علاوہ اسلم قبیلے سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد جو پسندیدہ افراد ہیں وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر سیدنا جرہد رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا سیدنا جرہد رضی اللہ عنہ نے مسجد میں اپنے زانوں کو کھلا رکھا ہوا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اے جرہد ! تم اپنے زانوں کو ڈھانپ لو کیونکہ زانوں ستر کا حصہ ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا جرہد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث کو امام ابوداؤد اور امام ترمذی نے بھی نقل کیا ہے
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2233
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «مسند احمد بن حنبل مسند المكيين حديث جريد الاسلمي 15652 ، صحيح ابن حبان كتاب الصلاة باب شروط الصلاة ذكر الأمر بتغطية فخذه إذ الفخذ عورة 1731 المستدرك على الصحيحين للحاكم كتاب اللباس ، 7426 مصنف عبد الرزاق الصنعاني باب ستر الرجل إذا اغتسل ، 1075 مصنف ابن ابي شيبة كتاب الادب ما يكره ان يظهر من جسد الرجل 26150 الآحاد والمثاني لابن ابي عاصم جرهد الاسلمي رضى الله عنه حديث 2097»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَوَّلُ مَا أُوحِيَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ قِيلَ لَهُ : اسْتَتِرَ، فَمَا رُؤِيَتْ عَوْرَتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ النَّضْرُ أَبُو عُمَرَ وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جو پہلی وحی کی گئی اس میں آپ سے یہ کہا: گیا : تم ستر کا خیال رکھو ! اُس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کو کبھی نہیں دیکھا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نضر ابوعمر ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2234
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : قُلْنَا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ : حَدِّثْنَا بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَأَيْتَ مِنْهُ وَلَا تُحَدِّثْنَا عَنْ غَيْرِكَ وَإِنْ كَانَ ثِقَةً قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا بَيْنَ السُّرَّةِ إِلَى الرُّكْبَةِ عَوْرَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ أَصْرَمُ بْنُ حَوْشَبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
امام ابوجعفر محمد بن علی ( یعنی امام باقر ) فرماتے ہیں : ہم نے سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ہمیں وہ حدیث بیان کیجئے جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو یا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے وہ چیز دیکھی ہو ، آپ اپنے علاوہ کسی اور کے حوالے سے ہمیں کوئی حدیث بیان نہ کیجئے گا خواہ وہ دوسرا شخص ” ثقہ “ ہی کیوں نہ ہو ، تو سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ناف سے لے کر گھٹنوں تک کا درمیانی حصہ ستر ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اصرم بن حوشب ہے ، اور وہ “” “” ضعیف “” “” ہے -
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2235
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْأَسْوَاقِ وَبِلَالٌ مَعَهُ فَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ وَكَشَفَ عَنْ فَخِذَيْهِ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ فَقَالَ : " يَا بِلَالُ ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَجَلَسَ عَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ وَكَشَفَ عَنْ فَخِذَيْهِ ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ يَسْتَأْذِنُ فَقَالَ : " يَا بِلَالُ ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " ، فَدَخَلَ فَجَلَسَ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ وَكَشَفَ عَنْ فَخِذَيْهِ ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ يَسْتَأْذِنُ فَقَالَ : " ائْذَنْ لَهُ يَا بِلَالُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوًى تُصِيبُهُ " ، فَدَخَلَ عُثْمَانُ فَجَلَسَ قُبَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ وَكَشَفَ عَنْ فَخِذَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بازار میں ٹھہر گئے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ٹانگیں کنویں میں لٹکا دیں اور زانوں سے کپڑا ہٹا دیا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے اجازت مانگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے بلال ! انہیں اندر آنے کی اجازت دے دو اور اسے جنت کی خوشخبری دے دو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف بیٹھ گئے انہوں نے بھی اپنی ٹانگیں کنویں میں لٹکا دیں اور اپنے زانوں سے کپڑا ہٹا دیا پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے بھی اجازت مانگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے بلال ! اسے اجازت دے دو اور اسے جنت کی خوشخبری دے دو وہ اندر آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف بیٹھ گئے انہوں نے بھی اپنی ٹانگیں کنویں میں لٹکا لیں اور زانوں سے کپڑا ہٹا لیا پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے اجازت مانگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے بلال ! اسے بھی اجازت دے دو اور جنت کی خوشخبری دے دو لیکن اسے ایک آزمائش کا سامنا کرنا پڑے گا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اندر آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مد مقابل بیٹھ گئے انہوں نے کنویں میں ٹانگیں لٹکا لیں اور اپنے زانوں سے کپڑا ہٹا لیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2236
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا بَأْسَ أَنْ يُقَلِّبَ الرَّجُلُ الْجَارِيَةَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَهَا مَا خَلَا عَوْرَتَهَا مَا بَيْنَ رُكْبَتِهَا إِلَى مَعْقِدِ الْإِزَارِ" . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ حَسَّانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ جب کوئی آدمی کوئی کنیز خریدنے کا ارادہ کرے تو اسے الٹ پلٹ کے دیکھ لے البتہ وہ اس کے ستر کو نہیں دیکھے گا ، جو اس کے گھٹنے سے لے کے اس کے تہبند باندھنے کی جگہ تک کا درمیانی حصہ ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح بن حسان ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2237
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف