مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعَوْرَةِ . باب: ستر کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : قُلْنَا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ : حَدِّثْنَا بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَأَيْتَ مِنْهُ وَلَا تُحَدِّثْنَا عَنْ غَيْرِكَ وَإِنْ كَانَ ثِقَةً قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا بَيْنَ السُّرَّةِ إِلَى الرُّكْبَةِ عَوْرَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ أَصْرَمُ بْنُ حَوْشَبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤امام ابوجعفر محمد بن علی ( یعنی امام باقر ) فرماتے ہیں : ہم نے سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ہمیں وہ حدیث بیان کیجئے جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو یا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے وہ چیز دیکھی ہو ، آپ اپنے علاوہ کسی اور کے حوالے سے ہمیں کوئی حدیث بیان نہ کیجئے گا خواہ وہ دوسرا شخص ” ثقہ “ ہی کیوں نہ ہو ، تو سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ناف سے لے کر گھٹنوں تک کا درمیانی حصہ ستر ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اصرم بن حوشب ہے ، اور وہ “” “” ضعیف “” “” ہے -