مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعَوْرَةِ . باب: ستر کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْأَسْوَاقِ وَبِلَالٌ مَعَهُ فَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ وَكَشَفَ عَنْ فَخِذَيْهِ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ فَقَالَ : " يَا بِلَالُ ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَجَلَسَ عَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ وَكَشَفَ عَنْ فَخِذَيْهِ ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ يَسْتَأْذِنُ فَقَالَ : " يَا بِلَالُ ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " ، فَدَخَلَ فَجَلَسَ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ وَكَشَفَ عَنْ فَخِذَيْهِ ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ يَسْتَأْذِنُ فَقَالَ : " ائْذَنْ لَهُ يَا بِلَالُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوًى تُصِيبُهُ " ، فَدَخَلَ عُثْمَانُ فَجَلَسَ قُبَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ وَكَشَفَ عَنْ فَخِذَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بازار میں ٹھہر گئے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ٹانگیں کنویں میں لٹکا دیں اور زانوں سے کپڑا ہٹا دیا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے اجازت مانگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے بلال ! انہیں اندر آنے کی اجازت دے دو اور اسے جنت کی خوشخبری دے دو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف بیٹھ گئے انہوں نے بھی اپنی ٹانگیں کنویں میں لٹکا دیں اور اپنے زانوں سے کپڑا ہٹا دیا پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے بھی اجازت مانگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے بلال ! اسے اجازت دے دو اور اسے جنت کی خوشخبری دے دو وہ اندر آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف بیٹھ گئے انہوں نے بھی اپنی ٹانگیں کنویں میں لٹکا لیں اور زانوں سے کپڑا ہٹا لیا پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے اجازت مانگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے بلال ! اسے بھی اجازت دے دو اور جنت کی خوشخبری دے دو لیکن اسے ایک آزمائش کا سامنا کرنا پڑے گا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اندر آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مد مقابل بیٹھ گئے انہوں نے کنویں میں ٹانگیں لٹکا لیں اور اپنے زانوں سے کپڑا ہٹا لیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔