کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جوتوں میں نماز ادا کرنا
حدیث نمبر: 2238
عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ جَارِيَةَ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مجمع بن جاریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جوتوں میں نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عیاض ہے ، اور وہ منکر الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2238
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2239
وَعَنْ مُجَمِّعِ بْنِ يَعْقُوبَ عَنْ غُلَامٍ مِنْ أَهْلِ قُبَاءَ أَدْرَكَهُ شَيْخًا أَنَّهُ قَالَ : جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِقُبَاءَ فَجَلَسَ فِي فَمِ الْأُجُمِ وَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ فَاسْتَسْقَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسُقِيَ فَشَرِبَ وَأَنَا عَنْ يَمِينِهِ وَأَنَا أُحَدِّثُ الْقَوْمَ فَنَاوَلَنِي فَشَرِبْتُ وَحَفِظْتُ أَنَّهُ صَلَّى بِنَا يَوْمَئِذٍ وَعَلَيْهِ نَعْلَانِ لَمْ يَنْزِعْهُمَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَسَمَّاهُ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي حَبِيبَةَ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُ أَحْمَدَ مُوَثَّقُونَ وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ مُخْتَصَرًا : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى فِي نَعْلَيْنِ وَقَالَ : لَا نَعْلَمُ رَوَى عَنِ ابْنِ أَبِي حَبِيبَةَ إِلَّا هَذَا . ¤
محمد محی الدین
مجمع بن یعقوب نے اہل قباء سے تعلق رکھنے والے ایک لڑکے کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ، جس نے ایک بزرگ کو پایا ہے ، جو یہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس قباء تشریف لائے آپ قلعے کے دروازے میں تشریف فرما ہوئے لوگ آپ کے پاس اکھٹے ہو گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پینے کے لئے کچھ مانگا ، تو آپ کو پانی دیا گیا میں آپ کے دائیں طرف موجود تھا اور میں لوگوں میں سب سے کم سن تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پانی میری طرف بڑھایا میں نے پی لیا مجھے یہ بات یاد ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی تھی تو آپ نے جوتے پہنے ہوئے تھے آپ نے انہیں اتارا نہیں تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے انہوں نے اس صحابی کا نام سیدنا عبداللہ بن ابوحبیبہ رضی اللہ عنہ نقل کیا ہے ایک اور روایت میں بھی اسی طرح ہے یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اور امام بزار نے اسے مختصر روایت کے طور پر نقل کیا ہے : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتوں میں نماز ادا کی “ ۔ وہ فرماتے ہیں : ہمارے علم کے مطابق ابن ابوحبیبہ - کے حوالے سے صرف یہ روایت منقول ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2239
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن، رجال احمد موثقون اور شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے۔
حدیث نمبر: 2240
وَعَنْ زِيَادٍ الْحَارِثِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ : أَنْتَ الَّذِي تَنْهَى النَّاسَ أَنْ يُصَلُّوا فِي نِعَالِهِمْ ؟ قَالَ : هَا وَرَبِّ هَذِهِ الْحُرْمَةِ ، هَا وَرَبِّ هَذِهِ الْحُرْمَةِ ، هَا وَرَبِّ هَذِهِ الْحُرْمَةِ ، لَقَدْ رَأَيْتُ مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي إِلَى هَذَا الْمَقَامِ فِي نَعْلَيْهِ ثُمَّ انْصَرَفَ وَهُمَا عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ خَلَا زِيَادَ بْنَ الْأَوْبَرِ الْحَارِثِيَّ فَإِنِّي لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ بِثِقَةٍ وَلَا ضَعْفٍ . ¤
محمد محی الدین
زیاد حارثی بیان کرتے ہیں : میں نے ایک شخص کو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کرتے ہوئے سنا : آپ ہی وہ فرد ہیں جو لوگوں کو اس بات سے منع کرتے ہیں کہ وہ جوتوں میں نماز ادا کریں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی ہاں ! اس حرمت کے پروردگار کی قسم ! جی ہاں ! اس حرمت کے پروردگار کی قسم جی ہاں ! اس حرمت کے پروردگار کی قسم میں نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مقام کی طرف رُخ کر کے جوتوں میں نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے ، جب آپ نے نماز مکمل کی تو آپ نے جوتے پہنے ہوئے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام بزار نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں صرف زیاد بن اوبر حارثی کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ میں نے کسی شخص کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا کہ کسی نے اسے ” ثقہ “ یا ضعیف قرار دیا ہو ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2240
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2241
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي قَائِمًا وَقَاعِدًا وَحَافِيًا وَمُنْتَعِلًا وَيَنْفَتِلُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ زِيَادٌ الْحَارِثِيُّ وَقَدْ تَقَدَّمَ الْكَلَامُ فِيهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر ، بیٹھ کر ، جوتا پہنے بغیر ، جوتا پہن کر ( ہر طریقے سے ) نماز ادا کر لیتے تھے ، اور آپ ( نماز سے فارغ ہونے کے بعد ) دائیں طرف یا بائیں طرف ( یعنی کسی بھی طرف سے ) اُٹھ جایا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زیاد حارثی ہے ، جس کے بارے میں کلام پہلے گزر چکا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2241
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2242
وَعَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ الْعَدَوِيِّ قَالَ : حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ الْأَعْرَابِيَّ قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُصَلِّي وَعَلَيْهِ نَعْلَانِ مِنْ بَقَرٍ فَتَفَلَ عَنْ يَسَارِهِ ثُمَّ حَكَّ حَيْثُ تَفَلَ بِنَعْلِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
حمید بن ہلال عدوی بیان کرتے ہیں : مجھے اس شخص نے یہ بات بتائی ہے ، جس نے ایک دیہاتی کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نماز ادا کر رہے تھے آپ نے گائے کی کھال کے جوتے پہنے ہوئے تھے آپ نے اپنے بائیں طرف تھوک دیا اور پھر جس جگہ پر آپ نے تھوکا تھا آپ نے اپنے جوتے سے اسے مل دیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2242
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2243
وَعَنْ عَطَاءٍ - رَجُلٍ مِنْ بَنِي شَيْبَةَ وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا - قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي عِنْدَ هَذَا الْمَقَامِ عَلَيْهِ نَعْلَانِ سِبْتِيَّتَانِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْأَسَدِيُّ وَهُمَا اثْنَانِ وَكِلَاهُمَا وُثِّقَ وَفِي أَحَدِهِمَا ضَعْفٌ كَثِيرٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عطاء نے ، بنوشیبہ سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ، جو بڑے عمر رسیدہ شخص تھے وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مقام کے پاس نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا آپ نے سبتی جوتے پہنے ہوئے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن قاسم اسدی ہے ، اور یہ دو افراد ہیں ، اور ان دونوں کو ” ثقہ “ قرار دیا گیا ہے ان میں سے ایک میں زیادہ ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2243
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2244
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " زَيْنُ الصَّلَاةِ الْحِذَاءُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ اللَّخْمِيُّ وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” نماز کی زینت جوتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حجاج لخمی ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2244
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ موضوع
تخریج حدیث «مسند ابي يعلي الموصلي مسند على بن ابي طالب رضى الله عنه ، 509»
حدیث نمبر: 2245
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَفِيهِ بَحْرُ بْنُ مَرَّارٍ أَحَدُ مَنِ اخْتَلَطَ وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَفِي إِسْنَادِ أَبِي يَعْلَى، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ أَبُو بَحْرٍ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَجَمَاعَةٌ وَكَانَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ حَسَنَ الرَّأْيِ فِيهِ وَحُدِّثَ عَنْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جوتوں میں نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بحر بن مرار ہے ، جو ان افراد میں سے ایک ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گئے تھے یحییٰ بن معین نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے امام ابویعلیٰ کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عثمان ابوبحر ہے ، جسے امام أحمد اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے یحیی بن سعید القطان اس کے بارے میں اچھی رائے رکھتے تھے ، اور اس کے حوالے سے حدیث روایت کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2245
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2246
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " خَالِفُوا الْيَهُودَ وَصَلُّوا فِي خِفَافِكُمْ وَنِعَالِكُمْ فَإِنَّهُمْ لَا يُصَلُّونَ فِي خِفَافِهِمْ وَلَا نِعَالِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” یہودیوں کے برخلاف کرو اور موزوں اور جوتوں میں نماز ادا کر لو کیونکہ وہ لوگ جوتوں اور موزوں میں نماز ادا نہیں کرتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2246
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن, قال الهيثمي: رواه البزار، وإسناده حسن (2/53)
حدیث نمبر: 2247
وَلَهُ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْأَوْسَطِ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى فِي النَّعْلَيْنِ وَالْخُفَّيْنِ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ الصَّلَاةُ فِي النَّعْلَيْنِ فَقَطْ وَمَدَارُ الْحَدِيثَيْنِ عَلَى عُمَرَ بْنِ نَبْهَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَرَوَى أَبُو يَعْلَى مِنْهُ الصَّلَاةَ فِي الْخُفَّيْنِ . ¤
محمد محی الدین
«»ان صحابی کے حوالے سے امام طبرانی نے معجم اوسط میں یہ بات نقل کی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتوں اور موزوں میں : نماز ادا کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا صرف یہ حصہ منقول ہے کہ آپ نے جوتوں میں نماز ادا کی ہے ان دونوں احادیث کا مدار عمر بن نبهان نامی راوی پر ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے امام ابویعلیٰ نے اس روایت میں سے صرف موزوں میں نماز ادا کرنے والا حصہ نقل کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2247
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2248
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى فِي نَعْلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ النَّضْرُ أَبُو عُمَرَ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتوں میں نماز ادا کی تھی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نضر ابوعمر ہے ، اور وہ انتہائی ” ضعیف“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2248
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
حدیث نمبر: 2249
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ الصَّلَاةُ فِي النَّعْلَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ وَتَكَلَّمَ النَّاسُ فِيهِ كَمَا ذَكَرَهُ الْمِزِّيُّ عَنِ الْخَطِيبِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : نماز کی تکمیل میں یہ بات شامل ہے کہ جوتے پہن کر نماز ادا کی جائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن عاصم ہے لوگوں نے اس کے بارے میں کلام کیا ہے جیسا کہ مزی نے خطیب کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2249
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2250
وَعَنْ فَيْرُوزَ الدَّيْلَمِيِّ أَنَّ وَفْدَ ثَقِيفٍ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : رَأَيْنَاهُ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْنِ مُتَقَابِلَتَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ثقیف قبیلے کا وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا وہ لوگ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو برابر کے جوتے پہن کر نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ،
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2250
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 2251
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى وَفِي نَعْلَيْهِ أَثَرُ طِينٍ وَعَلَيْهِ كِسَاءٌ ، فَجَعْلَ يَتَّقِي أَنْ يُصِيبَ الْكِسَاءَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی آپ کے جوتوں پر مٹی کا نشان موجود تھا آپ نے چادر اوڑھی ہوئی تھی اور آپ اس بات سے بچنے کی کوشش کر رہے تھے کہ مٹی چادر پر لگے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عثمان ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2251
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2252
وَعَنِ الْهِرْمَاسِ بْنِ زِيَادٍ الْبَاهِلِيِّ قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ہرماس بن زیاد باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جوتے پہن کر نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور یہ روایت ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2252
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف۔
حدیث نمبر: 2253
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَخَلَعْنَا نِعَالَنَا، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ : " لِمَ خَلَعْتُمْ نِعَالَكُمْ ؟ " قَالُوا : رَأَيْنَاكَ خَلَعْتَ فَخَلَعْنَا قَالَ : " إِنِّي مَلِلْتُ مِنْهُمَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی تو آپ نے جوتے اتار دیے تو ہم نے بھی جوتے اتار دیے جب آپ نے نماز مکمل کی تو آپ نے دریافت کیا : تم لوگوں نے اپنے جوتے کیوں اتار دیے تھے ؟ لوگوں نے عرض کی : ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے جوتے اتارے ہیں تو ہم نے بھی اتار دیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں ان سے اُکتا گیا تھا ( یعنی تھک گیا تھا ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبیداللہ عرزمی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2253
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2254
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ خَلَا شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَزْرَقَ ، فَإِنِّي لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جوتے پہن کر نماز ادا کر لیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام طبرانی کے استاد محمد بن عبدالرحمن ازرق کے علاوہ اس کے تمام رجال ” ثقہ “ ہیں ، میں اس شخص سے واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2254
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2255
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَلَا يَخْلَعْهُمَا عَنْ يَمِينِهِ فَيَأْثَمَ، وَلَا مِنْ خَلْفِهِ فَيَأْثَمَ بِهِمَا صَاحِبُهُ، وَلَكِنْ لِيَخْلَعْهُمَا بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ زِيَادٌ الْجَصَّاصُ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَابْنُ الْمَدِينِيِّ وَغَيْرُهُمَا وَذَكَرُهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب کوئی شخص نماز ادا کرتے ہوئے جوتے اتارے تو وہ اتار کر دائیں طرف نہ رکھے ورنہ وہ گناہ گار ہو گا ، اور اپنے پیچھے بھی نہ رکھے ورنہ اس کے ذریعے اپنے ساتھی کو گناہگار کرے گا وہ انہیں اتار کر دونوں گھٹنوں کے درمیان رکھ لے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زیاد جصاص ہے ، اسے یحیی بن معین اور ابن مدینی اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات“ میں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2255
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «المعجم الصغير للطبراني من اسمه محمد 799 ، المعجم الاوسط للطبراني باب العين باب الميم من اسمه محمد حديث 5377»
حدیث نمبر: 2256
وَعَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ : أَقَمْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نِصْفَ شَهْرٍ فَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي وَعَلَيْهِ نَعْلَانِ مُتَقَابِلَتَانِ وَرَأَيْتُهُ يَبْزُقُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ الصَّلَاةَ فِي النَّعْلَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اوس بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں پندرہ دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ٹھہرا رہا میں نے آپ کو نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا آپ نے جوتے پہنے ہوئے ہوتے تھے ، اور میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ دائیں طرف بھی تھوک دیتے تھے ، اور بائیں طرف بھی تھوک دیتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت میں سے صرف جوتے پہن کر نماز ادا کرنے والا حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2256
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح، اس کے راوی ثقہ ہیں۔
حدیث نمبر: 2257
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَشْرَبُ قَائِمًا وَقَاعِدًا، وَيُصَلِّي مُنْتَعِلًا وَحَافِيًا، وَيَتْفُلُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر دونوں طرح سے ) پیتے ہوئے دیکھا ہے ، جوتا پہن کر اور جوتا پہنے بغیر نماز ادا کرتے ہوئے اور دائیں طرف اور بائیں طرف ( یعنی دونوں طرف ) تھوکتے ہوئے دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2257
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 2258
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى بِالنَّاسِ فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ، فَلَمَّا حَسَّ بِهِ النَّاسُ خَلَعُوا نِعَالَهُمْ ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ : " إِنَّ الْمَلَكَ أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّ بِنَعْلَيَّ أَذًى ، فَإِذَا جَاءَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَقْلِبْ نَعْلَيْهِ فَإِنْ رَأَى فِيهِمَا شَيْئًا فَلْيَمْسَحْهُمَا ثُمَّ يُصَلِّي فِيهِمَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : " ثُمَّ لِيُصَلِّ فِيهِمَا أَوْ لِيَخْلَعْهُمَا إِنْ بَدَا لَهُ " وَفِي إِسْنَادِهِمَا عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ الْبَصْرِيُّ ، سَكَنَ مَكَّةَ ، ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھاتے ہوئے اپنے جوتے اتار دیے جب لوگوں کو یہ بات محسوس ہوئی ، تو انہوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیے جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا : فرشتہ میرے پاس آیا اور اس نے مجھے یہ بتایا : میرے جوتوں پر گندگی لگی ہوئی ہے ، جب کوئی شخص مسجد میں آئے تو وہ اپنا جوتا پلٹ کر دیکھ لے اگر اسے ان میں سے کوئی چیز نظر آئے تو انہیں پونچھ لے اور پھر اس میں نماز ادا کر لے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” پھر وہ ان دونوں میں نماز ادا کر لے یا اگر اسے مناسب لگے ، تو انہیں اتار دے “ ۔ ان دونوں کی سند میں ایک راوی عباد بن کثیر بصری ہے ، جس نے مکہ میں رہائش اختیار کی تھی اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2258
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2259
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : خَلَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَعْلَيْهِ فَخَلَعَ مَنْ خَلْفَهُ فَقَالَ : " مَا حَمَلَكُمْ أَنْ خَلَعْتُمْ نِعَالَكُمْ ؟ " قَالُوا : رَأَيْنَاكَ خَلَعْتُ فَخَلَعْنَا فَقَالَ : " إِنْ جِبْرِيلَ أَخْبَرَنِي أَنَّ فِيهِمَا قَذِرًا فَخَلَعْتُهُمَا لِذَلِكَ ، فَلَا تَخْلَعُوا نِعَالَكُمْ " ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ : فَكَانُوا لَا يَخْلَعُونَ نِعَالَهُمْ قَالَ : وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ قَالَ الْبَزَّارُ : لَا نَعْلَمُ رَوَاهُ هَكَذَا إِلَّا أَبُو حَمْزَةَ انْتَهَى ، وَأَبُو حَمْزَةَ هُوَ مَيْمُونٌ الْأَعْوَرُ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتے اتار دیے تو آپ کے پیچھے موجود لوگوں نے بھی جوتے اتار دیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم لوگوں نے اپنے جوتے کیوں اتارے ہیں ؟ لوگوں نے عرض کی : ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اتارے ہیں تو ہم نے بھی اتار دیے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جبرائیل نے مجھے یہ بتایا ہے کہ ان میں گندگی لگی ہوئی تھی میں نے اس وجہ سے انہیں اتار دیا تھا تم لوگ اپنے جوتے نہ اتارو ! راوی بیان کرتے ہیں : ابراہیم نخعی فرماتے ہیں : لوگ اپنے جوتے نہیں اتارا کرتے تھے راوی بیان کرتے ہیں : میں نے ابراہیم نخعی کو جوتے پہن کر نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے امام بزار بیان کرتے ہیں : ہمارے علم کے مطابق اس روایت کو اس طرح صرف ابوحمزہ نے نقل کیا ہے ان کی بات یہاں ختم ہو گئی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) ابوحمزہ نامی راوی میمون اعور ہے ، اور ” ضعیف“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2259
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف، اس کا راوی میمون بن صاحب
حدیث نمبر: 2260
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : لَمْ يَخْلَعِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَعْلَيْهِ فِي الصَّلَاةِ إِلَّا مَرَّةً فَخَلَعَ الْقَوْمُ نِعَالَهُمْ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لِمَ خَلَعْتُمْ نِعَالَكُمْ ؟ " قَالُوا : رَأَيْنَاكَ خَلَعْتَ فَخَلَعْنَا فَقَالَ : " إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَخْبَرَنِي أَنَّ فِيهِمَا قَذَرًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے دوران اپنے جوتے صرف ایک مرتبہ اتارے تھے ( آپ کو دیکھ کر ) لوگوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیے ( نماز کے بعد ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم لوگوں نے اپنے جوتے کیوں اتارے ہیں ؟ لوگوں نے عرض کی : ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اتار دیے ہیں تو ہم نے بھی اتار دیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جبرائیل نے مجھے بتایا تھا کہ ان پر گندگی لگی ہوئی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں اسے امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2260
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 2261
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَخَلَعَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ نِعَالَهُمْ ، فَخَلَعَ الصَّفُّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ أَيْضًا نِعَالَهُمْ فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لِمَ خَلَعْتُمْ نِعَالَكُمْ ؟ " قَالُوا : خَلَعْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَخَلَعَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيكَ نِعَالَهُمْ فَخَلَعْنَا نِعَالَنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَذَكَرَ أَنَّ فِي نَعْلَيَّ قَذِرًا فَخَلَعْتُهُمَا ، فَصَلُّوا فِي نِعَالِكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھاتے ہوئے اپنے جوتے اتار دیے آپ اس وقت نماز کی حالت میں تھے آپ کے پیچھے والی صف کے لوگوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیے اس کے پیچھے والی صف کے لوگوں نے بھی جوتے اتار دیے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو آپ نے دریافت کیا : تم لوگوں نے اپنے جوتے کیوں اتار دیے تھے ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے اتارے تھے ، تو آپ کے بعد والی صف والوں نے اتار دیے تو ہم نے بھی اتار دیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جبرئیل میرے پاس آئے اور انہوں نے یہ بات ذکر کی کہ میرے جوتوں پر گندگی لگی ہوئی تھی ، تو میں نے انہیں اتار دیا تم لوگ اپنے جوتوں میں نماز ادا کر لو !
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ربیع بن بدر ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2261
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف، اس کے راوی ربیع بن بدر کے ضعیف ہونے کی وجہ سے۔