عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا تُصَلُّوا فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ فَإِنَّهَا مِنَ الْجِنِّ خُلِقَتْ ، أَلَا تَرَوْنَ إِلَى عُيُونِهَا وَهَيْئَتِهَا إِذَا نَفَرَتْ ؟ وَصَلُّوا فِي مَرَابِدِ الْغَنَمِ فَإِنَّهَا هِيَ أَقْرَبُ مِنَ الرَّحْمَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَصَلُّوا فِي مَرَاحِ الْغَنَمِ فَإِنَّهَا بَرَكَةٌ مِنَ الرَّحْمَنِ " . ¤ وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالنَّسَائِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ وَقَدْ صَرَّحَ ابْنُ إِسْحَاقَ بِقَوْلِهِ حَدَّثَنِي . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اونٹوں کے باڑے میں نماز ادا نہ کرو کیونکہ ان کی پیدائش جنات سے ہوئی ہے کیا تم نے دیکھا نہیں کہ جب یہ سرکش ہو جائیں تو ان کی آنکھیں اور ان کی ہیئت کیسے ہو جاتی ہے ؟ تم لوگ بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کر لو کیونکہ وہ رحمت کے زیادہ قریب ہیں “ ۔ یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” تم لوگ بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کرو کیونکہ یہ رحمان کی طرف سے برکت ہیں“ ۔
یہ روایت امام ابن ماجہ اور امام نسائی رحمہ اللہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے امام أحمد کے رجال ” ثقہ “ ہیں ابن اسحاق نے اس بات کی صراحت کی ہے کہ میرے استاد نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ۔
یہ روایت امام ابن ماجہ اور امام نسائی رحمہ اللہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے امام أحمد کے رجال ” ثقہ “ ہیں ابن اسحاق نے اس بات کی صراحت کی ہے کہ میرے استاد نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُصَلِّي فِي مَرَابِدِ الْغَنَمِ وَلَا يُصَلِّي فِي مَرَابِدِ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ وَلَمْ يَذْكُرِ الْبَقَرَ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کر لیتے تھے آپ اونٹوں یا گائے کے باڑے میں نماز ادا نہیں کرتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے گائے کا ذکر نہیں کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے گائے کا ذکر نہیں کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " صَلُّوا فِي مَرَابِدِ الْغَنَمِ وَلَا تُصَلُّوا فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ - أَوْ مَبَارِكِ الْإِبِلِ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَأَحْمَدُ وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کر لو اونٹوں کے بارے میں ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) اونٹوں کو بٹھانے کی جگہ پر نماز ادا نہ کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اسے امام أحمد نے بھی نقل کیا ہے ، اور امام أحمد کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اسے امام أحمد نے بھی نقل کیا ہے ، اور امام أحمد کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
وَعَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَوَضَّئُوا مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ وَلَا تُصَلُّوا فِي مَنَاخِهَا، وَلَا تَوَضَّئُوا مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ وَصَلُّوا فِي مَرَابِضِهَا " . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ : " تَوَضَّئُوا مِنْ أَلْبَانِ الْإِبِلِ وَلَا تَوَضَّئُوا مِنْ أَلْبَانِ الْغَنَمِ " فَقَطْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کر لو اور ان کے باندھنے کی جگہ پر نماز ادا نہ کرو بکریوں کا گوشت کھانے کے بعد ازسر نو وضو نہ کرو اور ان کے باڑے میں نماز ادا کر لو “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت میں سے یہ حصہ نقل کیا ہے : ” اونٹ کا دودھ پینے کے بعد ازسر نو وضو کر لو اور بکری کا دودھ پینے کے بعد ازسر نو وضو نہ کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الصَّلَاةِ فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ قَالَ : " امْسَحْ رُغَامَهَا وَصَلِّ فِي مَرَاحِهَا فَإِنَّهَا مِنْ دَوَابِّ الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ نَجِيحٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ عَدِيٍّ : يُكْتَبُ حَدِيثُهُ وَلَا يُحْتَجُّ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا : تو آپ نے ارشاد فرمایا : تم اُن کے ناک پر ہاتھ پھیرو ( یا اُن سے مٹی کو صاف کر کے ان کی دیکھ بھال کرو ) اور ان کے باڑے میں نماز ادا کر لو کیونکہ یہ جنت کے جانوروں میں سے ہیں “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن جعفر بن نجیح ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔ أحمد بن عدی کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث کو نوٹ کیا جائے گا البتہ اس سے استدلال نہیں کیا جائے گا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن جعفر بن نجیح ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔ أحمد بن عدی کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث کو نوٹ کیا جائے گا البتہ اس سے استدلال نہیں کیا جائے گا ۔