کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: قبروں کے درمیان نماز ادا کرنا یا انہیں مساجد بنا لینا یا ان کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرنا
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَدْخِلْ عَلَيَّ أَصْحَابِي " فَدَخَلُوا عَلَيْهِ ، فَكَشَفَ الْقِنَاعَ ثُمَّ قَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” میرے اصحاب کو میرے پاس لے کے آؤ آپ کے اصحاب آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ ہٹایا اور پھر ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ یہودیوں پر لعنت کرے جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2057
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اللہ تعالیٰ یہودیوں پر لعنت کرے جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنا لیا تھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2058
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مِنْ شَرَارِ النَّاسِ مَنْ تُدْرِكُهُمُ السَّاعَةُ وَهُمْ أَحْيَاءٌ ، وَمَنْ يَتَّخِذِ الْقُبُورَ مَسَاجِدَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” لوگوں میں سب سے برے وہ لوگ ہوں گے جنہیں قیامت آ لے گی ، اور وہ اس وقت زندہ ہوں گے اور وہ لوگ ( سب سے زیادہ برے ) ہیں جو قبروں کو مساجد بنا لیتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2059
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تُصَلُّوا إِلَى قَبْرٍ وَلَا تُصَلُّوا عَلَى قَبْرٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَيْسَانَ الْمَرْوَزِيُّ ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” قبر کی طرف رُخ کر کے نماز ادا نہ کرو اور قبر پر نماز ادا نہ کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن کیسان مروزی ہے ، جسے ابوحاتم نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2060
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبراني من اسمه عبد الله وما اسند عبد الله بن عباس رضي الله عنهما عكرمة عن ابن عباس 11841»
وَعَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : لَقِيتُ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ فَقُلْتُ : مَا أَعْمَلَنِي إِلَى الشَّامِ غَيْرُكَ ، فَحَدِّثْنِي بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " اللَّهُمَّ ارْحَمْنَا وَاغْفِرْ لَنَا " وَنَهَانَا أَنْ نُصَلِّيَ إِلَى الْقُبُورِ أَوْ نَجْلِسَ عَلَيْهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
عون بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میری ملاقات سیدنا واثلہ بن اسقع سے ہوئی میں نے کہا: میری شام آمد کا مقصد صرف آپ سے ملاقات ہے ، آپ مجھے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جو آپ نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو ، تو انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اے اللہ ! تو ہم پر رحم فرما اور ہماری مغفرت کر دے “ ۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کو اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم قبروں کی طرف رُخ کر کے نماز ادا کریں یا ہم ان پر بیٹھ جائیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2061
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنِ الصَّلَاةِ بَيْنَ الْقُبُورِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کے درمیان نماز ادا کرنے سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2062
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
وَعَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ - قَالَ : قَالَ لِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ : " ائْذَنْ لِلنَّاسِ عَلَيَّ " فَأَذِنْتُ قَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ قَوْمًا اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسْجِدًا " ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ : " يَا عَلِيُّ ائْذَنْ لِلنَّاسِ عَلَيَّ " فَأَذِنْتُ لِلنَّاسِ عَلَيْهِ فَقَالَ " لَعَنَ اللَّهُ قَوْمًا اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسْجِدًا " ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ : " يَا عَلِيُّ ائْذَنْ لِلنَّاسِ " فَأَذِنْتُ لَهُمْ فَقَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ قَوْمًا اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسْجِدًا" ، ثَلَاثًا فِي مَرَضِ مَوْتِهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ أَبُو الرُّقَادِ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ حُنَيْفٍ الْمُؤَذِّنِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس بیماری کے دوران جس میں آپ کا وصال ہو گیا اس کے دوران مجھ سے یہ ارشاد فرمایا : لوگوں کو میرے پاس آنے کی اجازت دو میں نے اجازت دی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر لعنت کرے جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنا لیا تھا پھر آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی پھر جب آپ کو افاقہ ہوا تو آپ نے ارشاد فرمایا : اے علی لوگوں کو میرے پاس آنے کی اجازت دو میں نے آنے کی اجازت دی تو آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر لعنت کرے جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنا لیا تھا پھر آپ پر بے ہوشی طاری ہوئی جب آپ کو ہوش آیا تو آپ نے فرمایا : اے علی لوگوں کو میرے پاس آنے کی اجازت دو میں نے اجازت دی تو آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر لعنت کرے جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنا لیا تھا ۔ ( راوی کہتے ہیں : ) یعنی آپ نے اپنے مرض الموت کے دوران تین مرتبہ یہ بات ارشاد فرمائی “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابورقاد ہے ، اس کے حوالے سے حنیف مؤذن کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2063
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ " ، قَالَ : وَأَحْسَبُهُ قَالَ : "أَخْرِجُوا الْيَهُودَ مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ یہودیوں پر لعنت کرے جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنا لیا تھا “ ۔ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات بھی ارشاد فرمائی تھی : ” یہودیوں کو حجاز کی سرزمین سے نکال دینا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2064
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ يُتَّخَذَ قَبْرِي وَثَنًا ، فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى اشْتَدَّ غَضَبُهُ عَلَى قَوْمٍ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ صُهْبَانَ وَقَدِ اجْتَمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہا: ( یعنی یہ دعا کی : ) ” اے اللہ ! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میری قبر کو بت بنا دیا جائے بے شک اللہ تعالی کا غضب اس قوم پر شدید ہو گا جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنا لیا تھا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن صہبان ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2065
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً