حدیث نمبر: 2052
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا تُصَلُّوا فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ فَإِنَّهَا مِنَ الْجِنِّ خُلِقَتْ ، أَلَا تَرَوْنَ إِلَى عُيُونِهَا وَهَيْئَتِهَا إِذَا نَفَرَتْ ؟ وَصَلُّوا فِي مَرَابِدِ الْغَنَمِ فَإِنَّهَا هِيَ أَقْرَبُ مِنَ الرَّحْمَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَصَلُّوا فِي مَرَاحِ الْغَنَمِ فَإِنَّهَا بَرَكَةٌ مِنَ الرَّحْمَنِ " . ¤ وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالنَّسَائِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ وَقَدْ صَرَّحَ ابْنُ إِسْحَاقَ بِقَوْلِهِ حَدَّثَنِي . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اونٹوں کے باڑے میں نماز ادا نہ کرو کیونکہ ان کی پیدائش جنات سے ہوئی ہے کیا تم نے دیکھا نہیں کہ جب یہ سرکش ہو جائیں تو ان کی آنکھیں اور ان کی ہیئت کیسے ہو جاتی ہے ؟ تم لوگ بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کر لو کیونکہ وہ رحمت کے زیادہ قریب ہیں “ ۔ یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” تم لوگ بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کرو کیونکہ یہ رحمان کی طرف سے برکت ہیں“ ۔
یہ روایت امام ابن ماجہ اور امام نسائی رحمہ اللہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے امام أحمد کے رجال ” ثقہ “ ہیں ابن اسحاق نے اس بات کی صراحت کی ہے کہ میرے استاد نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2052
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔