مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ الصَّلَاةِ فِي مَرَابِدِ الْغَنَمِ . باب: بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کرنا
وَعَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَوَضَّئُوا مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ وَلَا تُصَلُّوا فِي مَنَاخِهَا، وَلَا تَوَضَّئُوا مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ وَصَلُّوا فِي مَرَابِضِهَا " . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ : " تَوَضَّئُوا مِنْ أَلْبَانِ الْإِبِلِ وَلَا تَوَضَّئُوا مِنْ أَلْبَانِ الْغَنَمِ " فَقَطْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کر لو اور ان کے باندھنے کی جگہ پر نماز ادا نہ کرو بکریوں کا گوشت کھانے کے بعد ازسر نو وضو نہ کرو اور ان کے باڑے میں نماز ادا کر لو “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت میں سے یہ حصہ نقل کیا ہے : ” اونٹ کا دودھ پینے کے بعد ازسر نو وضو کر لو اور بکری کا دودھ پینے کے بعد ازسر نو وضو نہ کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔