وَعَنْ أَبِي الرَّبِيعِ قَالَ : كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - فِي جِنَازَةٍ ، فَسَمِعْتُ صَوْتَ إِنْسَانٍ يَصِيحُ ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ فَأَسْكَتَهُ . قُلْتُ : أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، لِمَ أَسْكَتَّهُ ؟ قَالَ : إِنَّهُ يَتَأَذَّى بِهِ الْمَيِّتُ حَتَّى يَدْخُلَ قَبْرَهُ ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنِّي أُصَلِّي مَعَكَ الصُّبْحَ ثُمَّ أَلْتَفِتُ فَلَا أَرَى وَجْهَ جَلِيسِي ، وَأَحْيَانًا تُسْفِرُ . قَالَ : كَذَلِكَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي ، وَأَحْبَبْتُ أَنْ أُصَلِّيَهَا كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّيهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . وَأَبُو الرَّبِيعِ قَالَ فِيهِ الدَّارَقُطْنِيُّ : مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوربیح بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ایک جنازے میں شریک ہوا میں نے ایک شخص کو بلند آواز میں چیخ کر کچھ کہتے ہوئے سنا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس شخص کو پیغام بھیج کر اسے خاموش کروا دیا میں نے کہا: اے ابوعبدالرحمن آپ نے اسے خاموش کیوں کروایا ہے انہوں نے فرمایا : اس کی وجہ سے میت کو اذیت ہوتی ہے ، جب تک وہ میت اپنی قبر میں داخل نہیں ہو جاتی میں نے ان سے کہا: میں نے آپ کی اقتداء میں صبح کی نماز ادا کی تھی پھر میں نے توجہ کی تو مجھے اپنے ساتھ والا کوئی شخص نظر نہیں آ رہا تھا اور بعض اوقات آپ اسے روشنی میں ادا کرتے ہیں تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے ، تو مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں اسے اسی طرح ادا کروں جس طرح میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ابوربیع نامی راوی کے بارے میں امام دارقطنی رحمہ اللہ نے یہ فرمایا ہے کہ یہ مجہول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ابوربیع نامی راوی کے بارے میں امام دارقطنی رحمہ اللہ نے یہ فرمایا ہے کہ یہ مجہول ہے ۔
وَعَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصُّنَابِحِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَنْ تَزَالَ أُمَّتِي بِخَيْرٍ مَا لَمْ يَعْمَلُوا بِثَلَاثٍ : مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ انْتِظَارَ الظَّلَامِ مُضَاهَاةَ الْيَهُودِ ، وَمَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْفَجْرَ انْمِحَاقَ النُّجُومِ مُضَاهَاةَ النَّصَارَى ، وَمَا لَمْ يَكِلُوا الْجَنَائِزَ إِلَى أَهْلِهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ الصَّلْتُ بْنُ الْعَوَّامِ وَهُوَ مَجْهُولٌ - قَالَهُ الْحُسَيْنِيُّ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوعبدالرحمن صنابحی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” میری امت مسلسل بھلائی پر گامزن رہے گی جب تک وہ تین کام نہیں کریں گے جب تک وہ مغرب کو اتنا مؤخر نہیں کرتے کہ تاریکیوں کا انتظار کریں جو یہودیوں کا طریقہ ہے ، اور جب تک وہ فجر کو اتنا مؤخر نہیں کرتے کہ ستاروں کے چھپ جانے کا انتظار کریں جو عیسائیوں کا طریقہ ہے ، اور جب تک وہ جنائز کو اس کے اہل کے حوالے نہیں کرتے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صلت بن عوام ہے ، اور وہ مجہول ہے یہ بات حسینی نے بیان کی ہے ، اس سے پہلے مغرب کی نماز سے متعلق باب میں کچھ احادیث گزر چکی ہیں جو اس موضوع سے متعلق ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صلت بن عوام ہے ، اور وہ مجہول ہے یہ بات حسینی نے بیان کی ہے ، اس سے پہلے مغرب کی نماز سے متعلق باب میں کچھ احادیث گزر چکی ہیں جو اس موضوع سے متعلق ہیں ۔
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ فَقَالَ : " صَلِّهَا مَعِي الْيَوْمَ وَغَدًا " فَلَمَّا كَانَ بِقَاعِ نَمِرَةَ بِالْجُحْفَةِ صَلَّاهَا حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِذِي طُوًى أَخَّرَهَا حَتَّى قَالَ النَّاسُ : أَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالُوا : لَوْ صَلَّيْنَا . فَخَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّاهَا أَمَامَ الشَّمْسِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ : " مَا قُلْتُمْ ؟ " قَالُوا : قُلْنَا لَوْ صَلَّيْنَا . قَالَ : " لَوْ فَعَلْتُمْ أَصَابَكُمْ عَذَابٌ " ، ثُمَّ دَعَا السَّائِلَ فَقَالَ : " الصَّلَاةُ مَا بَيْنَ هَاتَيْنِ الْوَقْتَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْهُ ، وَعَلِيٌّ لَمْ يُدْرِكْ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صبح کی نماز کے وقت کے بارے میں دریافت کیا : تو آپ نے ارشاد فرمایا : تم آج اور کل یہ نماز میری اقتداء میں ادا کرنا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حجفہ میں نمرہ کے میدان میں پہنچے تو آپ نے یہ نماز اس وقت ادا کر لی جب صبح صادق ہوئی تھی پھر جب آپ ذی طوی کے مقام پر پہنچے تو آپ نے اسے مؤخر کیا یہاں تک کہ لوگ یہ کہنے لگے کہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ہے پھر لوگوں نے کہا: مناسب یہ ہے کہ لوگ نماز پڑھ لیں اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ نے یہ نماز سورج کے سامنے ادا کی پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا : تم لوگوں نے کیا کہا: تھا لوگوں نے عرض کی : ہم نے یہ کہا: تھا کہ اگر ہم نماز پڑھ لیں تو بہتر ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تم لوگ ایسا کرتے تو تمہیں عذاب لاحق ہوتا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کرنے والے شخص کو بلایا اور ارشاد فرمایا : نماز کا وقت ان دو اوقات کے درمیان ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں علی بن عبداللہ بن عباس کی سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور علی نامی شخص نے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں علی بن عبداللہ بن عباس کی سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور علی نامی شخص نے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - قَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ ، فَصَلَّى حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ ، ثُمَّ أَسْفَرَ بَعْدُ ، ثُمَّ قَالَ : " أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ ؟ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ وَقْتٌ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صبح کی نماز کے وقت کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے یہ نماز اس وقت ادا کی جب صبح صادق ہو گئی تھی پھر اس کے بعد ( اگلے دن وہ نماز ) آپ نے روشنی میں ادا کی پھر آپ نے فرمایا : صبح کی نماز کے وقت کے بارے میں دریافت کرنے والا شخص کہاں ہے ؟ ان دو کے درمیان مخصوص وقت ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَارِيَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى الْفَجْرَ يَوْمًا بِغَلَسٍ ، ثُمَّ صَلَّاهَا يَوْمًا بَعْدَ مَا أَسْفَرَ ، ثُمَّ قَالَ : " مَا بَيْنَهُمَا وَقْتٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ ، وَلَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ الزُّهْرِيِّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن یزید بن جاریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز اندھیرے میں ادا کی پھر ایک دن آپ نے اسے روشنی ہو جانے کے بعد ادا کیا پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ان دونوں کے درمیان وقت ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں عبیداللہ بن عبداللہ بن ثعلبہ بن صعیر کی نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور ان کے حوالے سے زہری کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں عبیداللہ بن عبداللہ بن ثعلبہ بن صعیر کی نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور ان کے حوالے سے زہری کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِغَلَسٍ ، ثُمَّ صَلَّاهَا مِنَ الْغَدِ فَأَسْفَرَ ، ثُمَّ قَالَ : " أَيْنَ السَّائِلُ ؟ " فَقَالَ : أَنَا ، فَقَالَ : " الْوَقْتُ فِيمَا بَيْنَ أَمْسِ وَالْيَوْمَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صبح کی نماز کے وقت کے بارے میں دریافت کیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اندھیرے میں نماز ادا کی پھر اگلے دن آپ نے وہ روشنی میں ادا کی پھر آپ نے فرمایا : سوال کرنے والا شخص کہاں ہے ؟ اس شخص نے کہا: میں ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وقت وہ ہے ، جو کل اور آج ( کے اوقات ) کے درمیان کا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس میں کمزور ہونا پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس میں کمزور ہونا پایا جاتا ہے ۔