مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ . باب: صبح کی نماز کے وقت کے بارے میں دیگر روایات
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ فَقَالَ : " صَلِّهَا مَعِي الْيَوْمَ وَغَدًا " فَلَمَّا كَانَ بِقَاعِ نَمِرَةَ بِالْجُحْفَةِ صَلَّاهَا حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِذِي طُوًى أَخَّرَهَا حَتَّى قَالَ النَّاسُ : أَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالُوا : لَوْ صَلَّيْنَا . فَخَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّاهَا أَمَامَ الشَّمْسِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ : " مَا قُلْتُمْ ؟ " قَالُوا : قُلْنَا لَوْ صَلَّيْنَا . قَالَ : " لَوْ فَعَلْتُمْ أَصَابَكُمْ عَذَابٌ " ، ثُمَّ دَعَا السَّائِلَ فَقَالَ : " الصَّلَاةُ مَا بَيْنَ هَاتَيْنِ الْوَقْتَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْهُ ، وَعَلِيٌّ لَمْ يُدْرِكْ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ . ¤سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صبح کی نماز کے وقت کے بارے میں دریافت کیا : تو آپ نے ارشاد فرمایا : تم آج اور کل یہ نماز میری اقتداء میں ادا کرنا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حجفہ میں نمرہ کے میدان میں پہنچے تو آپ نے یہ نماز اس وقت ادا کر لی جب صبح صادق ہوئی تھی پھر جب آپ ذی طوی کے مقام پر پہنچے تو آپ نے اسے مؤخر کیا یہاں تک کہ لوگ یہ کہنے لگے کہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ہے پھر لوگوں نے کہا: مناسب یہ ہے کہ لوگ نماز پڑھ لیں اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ نے یہ نماز سورج کے سامنے ادا کی پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا : تم لوگوں نے کیا کہا: تھا لوگوں نے عرض کی : ہم نے یہ کہا: تھا کہ اگر ہم نماز پڑھ لیں تو بہتر ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تم لوگ ایسا کرتے تو تمہیں عذاب لاحق ہوتا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کرنے والے شخص کو بلایا اور ارشاد فرمایا : نماز کا وقت ان دو اوقات کے درمیان ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں علی بن عبداللہ بن عباس کی سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور علی نامی شخص نے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔