حدیث نمبر: 1778
وَعَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصُّنَابِحِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَنْ تَزَالَ أُمَّتِي بِخَيْرٍ مَا لَمْ يَعْمَلُوا بِثَلَاثٍ : مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ انْتِظَارَ الظَّلَامِ مُضَاهَاةَ الْيَهُودِ ، وَمَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْفَجْرَ انْمِحَاقَ النُّجُومِ مُضَاهَاةَ النَّصَارَى ، وَمَا لَمْ يَكِلُوا الْجَنَائِزَ إِلَى أَهْلِهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ الصَّلْتُ بْنُ الْعَوَّامِ وَهُوَ مَجْهُولٌ - قَالَهُ الْحُسَيْنِيُّ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوعبدالرحمن صنابحی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” میری امت مسلسل بھلائی پر گامزن رہے گی جب تک وہ تین کام نہیں کریں گے جب تک وہ مغرب کو اتنا مؤخر نہیں کرتے کہ تاریکیوں کا انتظار کریں جو یہودیوں کا طریقہ ہے ، اور جب تک وہ فجر کو اتنا مؤخر نہیں کرتے کہ ستاروں کے چھپ جانے کا انتظار کریں جو عیسائیوں کا طریقہ ہے ، اور جب تک وہ جنائز کو اس کے اہل کے حوالے نہیں کرتے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صلت بن عوام ہے ، اور وہ مجہول ہے یہ بات حسینی نے بیان کی ہے ، اس سے پہلے مغرب کی نماز سے متعلق باب میں کچھ احادیث گزر چکی ہیں جو اس موضوع سے متعلق ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1778
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «مسند احمد بن حنبل اول مسند الكوفيين ، حديث ابي عبد الله الصنابحى 18690»