حدیث نمبر: 1766
عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَسْفِرُوا بِالْفَجْرِ ، فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا محمود بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” صبح کی نماز روشن کر کے ادا کرو کیونکہ یہ زیادہ اجر کے حصول کا باعث ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حدیث نمبر: 1767
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَزَالُ أُمَّتِي عَلَى الْفِطْرَةِ مَا أَسْفَرُوا بِصَلَاةِ الْفَجْرِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَالْبُخَارِيُّ وَأَبُو حَاتِمٍ وَابْنُ حِبَّانَ ، وَقَالَ ابْنُ خِرَاشٍ : كَانَ يَضَعُ الْحَدِيثَ ، وَوَثَّقَهُ أَحْمَدُ فِي رِوَايَةٍ ، وَضَعَّفَهُ فِي أُخْرَى . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” میری امت اس وقت تک فطرت پر گامزن رہے گی جب تک وہ فجر کی نماز روشنی میں ادا کرتے رہیں گئے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حفص بن سلیمان ہے ، جسے یحیی بن معین امام بخاری رحمہ اللہ ابوحاتم اور ابن حبان نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ابن خراش کہتے ہیں : یہ حدیث ایجاد کرتا تھا ایک روایت کے مطابق امام أحمد نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور ایک روایت کے مطابق انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حفص بن سلیمان ہے ، جسے یحیی بن معین امام بخاری رحمہ اللہ ابوحاتم اور ابن حبان نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ابن خراش کہتے ہیں : یہ حدیث ایجاد کرتا تھا ایک روایت کے مطابق امام أحمد نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور ایک روایت کے مطابق انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 1768
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَسْفِرُوا بِصَلَاةِ الْفَجْرِ ، فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ ، أَوَ أَعْظَمُ لِأَجْرِكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ : اخْتُلِفَ فِيهِ عَلَى زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، قُلْتُ : وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَالْبُخَارِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ عَدِيٍّ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ ، وَضَعَّفَهُ فِي أُخْرَى . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” فجر کی نماز روشنی میں ادا کرو کیونکہ یہ زیادہ اجر کا باعث ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) یہ تمہارے لئے زیادہ اجر کا باعث ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں : اس میں زید بن اسلم پر اختلاف کیا گیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عبدالملک نوفلی ہے ، جسے امام أحمد امام بخاری رحمہ اللہ امام نسائی رحمہ اللہ اور ابن عدی نے ضعیف قرار دیا ہے ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور دوسری روایت کے مطابق انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں : اس میں زید بن اسلم پر اختلاف کیا گیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عبدالملک نوفلی ہے ، جسے امام أحمد امام بخاری رحمہ اللہ امام نسائی رحمہ اللہ اور ابن عدی نے ضعیف قرار دیا ہے ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور دوسری روایت کے مطابق انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 1769
وَعَنْ بِلَالٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَسْفِرُوا بِالْفَجْرِ ، فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ سَيَّارٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” فجر کی نماز روشن کر کے ادا کرو کیونکہ یہ زیادہ اجر کا باعث ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن سیار ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن سیار ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حدیث نمبر: 1770
وَعَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَسْفِرُوا بِالْفَجْرِ ، فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِأَجْرِكُمْ ، أَوْ لِلْأَجْرِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عاصم بن عمر بن قتادہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” فجر کی نماز روشن کر کے ادا کرو کیونکہ یہ تمہارے لئے زیادہ اجر کا باعث ہے ۔ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) یہ زیادہ اجر کا باعث ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 1771
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَسْفِرُوا بِصَلَاةِ الصُّبْحِ ; فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُعَلَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَاسِطِيُّ ، قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ : كَذَّابٌ . وَضَعَّفَهُ النَّاسُ ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : أَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ . قُلْتُ : قِيلَ لَهُ عِنْدَ الْمَوْتِ : أَلَا تَسْتَغْفِرُ اللَّهَ ، قَالَ : أَلَا أَرْجُو أَنْ يُغْفَرَ لِي وَقَدْ وَضَعْتُ فِي فَضْلِ عَلِيٍّ سَبْعِينَ حَدِيثًا ? . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” صبح کی نماز روشن کر کے ادا کرو کیونکہ یہ زیادہ اجر کا باعث ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی معلی بن عبدالرحمن واسطی ہے امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں : یہ کذاب ہے لوگوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : مجھے یہ امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا میں یہ کہتا ہوں : اس شخص سے موت کے وقت یہ کہا: گیا کہ کیا تم اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب نہیں کرو گے اس نے کہا: کیا میں اس بات کی امید نہ رکھوں کہ میری مغفرت ہو جائے گی جب کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فضائل کے بارے میں ستر احادیث ایجاد کی ہوئی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی معلی بن عبدالرحمن واسطی ہے امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں : یہ کذاب ہے لوگوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : مجھے یہ امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا میں یہ کہتا ہوں : اس شخص سے موت کے وقت یہ کہا: گیا کہ کیا تم اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب نہیں کرو گے اس نے کہا: کیا میں اس بات کی امید نہ رکھوں کہ میری مغفرت ہو جائے گی جب کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فضائل کے بارے میں ستر احادیث ایجاد کی ہوئی ہیں ۔
حدیث نمبر: 1772
وَعَنِ ابْنِ بُجَيْدٍ عَنْ جَدَّتِهِ حَوَّاءَ - وَكَانَتْ مِنَ الْمُبَايِعَاتِ - قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَسْفِرُوا بِالْفَجْرِ ، فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحُنَيْنِيُّ ضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤
محمد محی الدین
ابن بجید نے اپنی دادی سیدہ حواء رضی اللہ عنہما جو بیعت کرنے والی خواتین میں سے ایک ہیں ( یعنی جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر اسلام قبول کرنے کا شرف حاصل کیا ہے ) وہ بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” فجر کی نماز روشن کر کے ادا کرو کیونکہ یہ زیادہ اجر کا باعث ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم حنینی ہے ، اسے امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات“ میں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم حنینی ہے ، اسے امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات“ میں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 1773
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ يُسْفِرُ بِصَلَاةِ الْفَجْرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن یزید بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فجر کی نماز روشنی میں ادا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 1774
وَعَنْ الْحَارِثِ بْنِ سُوِيدٍ قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقُولُ : تَجَوَّزُوا فِي الصَّلَاةِ ; فَإِنَّ خَلْفَكُمُ الْكَبِيرَ وَالضَّعِيفَ وَذَا الْحَاجَةِ ، وَكُنَّا نُصَلِّي مَعَ إِمَامِنَا الْفَجْرَ وَعَلَيْنَا ثِيَابُنَا ، فَيَقْرَأُ السُّورَةَ مِنَ الْمِئِينَ ، ثُمَّ نَنْطَلِقُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ ، فَنَجِدُهُ فِي الصَّلَاةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
حارث بن سوید بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نماز کو مختصر ادا کیا کرو کیونکہ تمہارے پیچھے عمر رسیدہ کام کاج والے لوگ ہوتے ہیں ہم جب اپنے امام کی اقتداء میں فجر کی نماز ادا کرتے ، تو ہمارے کپڑے ہمارے جسم پر ہوتے ، اور پھر امام دو سو آیتوں والی سورت پڑھنی شروع کر دیتا ، پھر ہم سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس جاتے تو انہیں نماز کی حالت میں پاتے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 1775
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِبِلَالٍ : " نَوِّرْ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى يُبْصِرَ الْقَوْمُ مَوَاقِعَ نَبْلِهِمْ مِنَ الْإِسْفَارِ " . ¤ قُلْتُ : لِرَافِعٍ حَدِيثٌ فِي الْإِسْفَارِ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا صبح کی نماز میں روشنی ہونے دو یہاں تک کہ لوگ روشنی کی وجہ سے یہ دیکھ سکیں کہ تیر جہاں گرتا ہے ( یعنی اتنی دور تک کی چیز انہیں نظر آئے ) ۔ میں یہ کہتا ہوں : سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روشنی میں نماز ادا کرنے سے متعلق ایک اور حدیث بھی ہے ، جو اس کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 1776
وَلِرَافِعٍ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْكَبِيرِ أَيْضًا : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " نَوِّرُوا بِالصُّبْحِ بِقَدْرِ مَا يُبْصِرُ الْقَوْمُ مَوَاقِعَ نَبْلِهِمْ " . ¤ وَهُمَا مِنْ رِوَايَةِ هُرَيْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، وَقَدْ ذَكَرَهُمَا ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي أَحَدٍ مِنْهُمَا جَرْحًا وَلَا تَعْدِيلًا . قُلْتُ : وَهُرَيْرٌ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ : يَرْوِي عَنْ أَبِيهِ .
محمد محی الدین
امام طبرانی نے معجم کبیر ہی میں ، سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” صبح کی نماز اتنی روشنی میں ادا کرو کہ لوگ اتنی دور تک دیکھ سکیں کہ جتنی دور تیر جا کے گرتا ہے “ ۔
یہ دونوں روایات ہریر بن عبدالرحمن بن رافع بن خدیج نے نقل کی ہیں ان دونوں راویوں کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ، اور ان دونوں نے ان میں سے کسی ایک کے بارے میں کوئی جرح یا تعدیل نقل نہیں کی ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : کہ ہریر نامی راوی کا تذکرہ ابن حبان نے کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے ، اس نے اپنے والد سے روایات نقل کی ہیں ۔
یہ دونوں روایات ہریر بن عبدالرحمن بن رافع بن خدیج نے نقل کی ہیں ان دونوں راویوں کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ، اور ان دونوں نے ان میں سے کسی ایک کے بارے میں کوئی جرح یا تعدیل نقل نہیں کی ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : کہ ہریر نامی راوی کا تذکرہ ابن حبان نے کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے ، اس نے اپنے والد سے روایات نقل کی ہیں ۔