کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: صبح کی نماز کے وقت کا بیان
حدیث نمبر: 1783
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةَ الصُّبْحِ ثُمَّ نَنْصَرِفُ وَمَا يَعْرِفُ بَعْضُنَا بَعْضًا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں صبح کی نماز پڑھتے تھے تو ہم میں سے کوئی ایک دوسرے کو ( اندھیرا زیادہ ہونے کی وجہ سے ) پہچان نہیں سکتا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1783
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «البحر الزخار مسند البزار ومما روى محمد بن على بن ابى طالب وهو ابن الحنفية 574»
حدیث نمبر: 1784
وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي صَلَاةَ الْفَجْرِ إِذَا بَزَقَ الْفَجْرُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ يَزِيدَ الْأَوْدِيُّ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَالنَّسَائِيُّ ، وَحَدَّثَ عَنْهُ شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : لَمْ أَرَ لَهُ حَدِيثًا مُنْكَرًا إِذَا رَوَى عَنْهُ ثِقَةٌ ، وَإِنْ كَانَ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ فِي الْحَدِيثِ ، إِذَا رَوَى عَنْهُ ثِقَةٌ فَإِنَّهُ يُقْبَلُ حَدِيثُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز اس وقت ادا کر لیتے تھے جب صبح صادق ہو جاتی تھی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن یزید اؤدی ہے ، جسے یحیی بن معین اور امام نسائی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے شعبہ اور سفیان نے اس سے حدیث روایت کی ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : میں نے اس کے حوالے سے کوئی منکر روایت نہیں دیکھی جب کسی ” ثقہ “ شخص نے اس سے روایت نقل کی ہو یہ شخص اگرچہ حدیث میں قوی نہیں ہے ، لیکن جب کوئی ” ثقہ “ شخص اس سے حدیث روایت کرے گا ، تو اس کی نقل کردہ حدیث کو قبول کیا جائے گا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1784
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1785
وَعَنْ حَرْمَلَةَ قَالَ : انْطَلَقْتُ فِي وَفْدِ الْحَيِّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى بِنَا صَلَاةَ الصُّبْحِ ، فَلَمَّا سَلَّمَ جَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى وَجْهِ الَّذِي إِلَى جَنْبِي فَلَا أَكَادُ أَعْرِفُهُ مِنَ الْغَلَسِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصِنِي ، فَقَالَ : " اتَّقِ اللَّهَ ، وَإِنْ كُنْتَ فِي الْقَوْمِ فَسَمِعْتَهُمْ يَقُولُونَ لَكَ مَا يُعْجِبُكَ فَأْتِهِ ، وَإِنْ سَمِعْتَهُمْ يَقُولُونَ لَكَ مَا تَكْرَهُ فَدَعْهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ ضِرْغَامَةَ بْنِ عُلَيَّةَ بْنِ حَرْمَلَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ بِمَا فِيهِ هَهُنَا لَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ ، وَضِرْغَامَةُ وَحَرْمَلَةُ ذَكَرَهُمَا ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حرملہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں قبیلے کے وفد کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی جب آپ نے سلام پھیرا تو میں نے اپنے پہلو میں موجود شخص کے چہرے کی طرف دیکھا تو اندھیرا زیادہ ہونے کی وجہ سے میں اسے پہچان نہیں سکا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کوئی ہدایت کیجئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اللہ تعالی سے ڈرتے رہنا اگرچہ تم کچھ لوگوں کے درمیان موجود ہو اور تم ان لوگوں کو یہ کہتے ہوئے ۔ سنو کہ وہ تمہیں یہ کہیں جو چیز تمہیں اچھی لگتی ہے وہ تم کر لو اور خواہ تم انہیں یہ کہتے ہوئے سنو کہ وہ تمہیں کہیں جو چیز تمہیں ناپسند ہوتی ہے تم اسے چھوڑ دو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ضرغامہ بن علیہ بن حرملہ کی ان کے والد کے حوالے سے ان کے دادا سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر اس میں کیا ہے ، جو ہم نے یہاں ذکر کیا ہے ، اور اس پر تردید نہیں کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ضرغامہ اور حرملہ ان دونوں راویوں کا ذکر ابن حبان نے کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1785
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 1786
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : كُنَّ نِسَاءٌ يَشْهَدْنَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الصُّبْحَ ، فَيَنْصَرِفْنَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ مَا يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : خواتین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں صبح کی نماز میں شریک ہوتی تھیں پھر وہ اپنی چادریں لپیٹ کر واپس جاتی تھیں تو اندھیرے کی وجہ سے انہیں پہچانا نہیں جا سکتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف امام طبرانی کے استاد کا معاملہ مختلف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1786
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «1786 المعجم الكبير للطبراني باب الياء ؛ هذا ما اسند النساء هند بنت الحارث ، 19665 ، مصنف عبد الرزاق الصنعانى كتاب الصلاة ، باب وقت الصبح 2108 1787 البحر الزخار مسند البزار ومما روى جابر ، 1208 المسند للشاشى مسند بلال بن رباح رضى الله عنه ، جابر بن عبد الله 879 ، معرفة الصحابة لابي نعيم الاصبهاني باب الباء ، من اسمه بلال بلال بن رباح ابو عبد الله ، حديث 1059»
حدیث نمبر: 1787
وَعَنْ بِلَالٍ قَالَ : أَذَّنْتُ فِي غَدَاةٍ بَارِدَةٍ ، فَأَبْطَأَ النَّاسُ عَنِ الصَّلَاةِ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا لِلنَّاسِ يَا بِلَالُ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : حَبَسَهُمُ الْبَرْدُ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُمُ الْبَرْدَ " . قَالَ : فَرَأَيْتُهُمْ يَتَرَوَّحُونَ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ سَيَّارٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے ایک مرتبہ سردی میں صبح کی اذان دی تو لوگ نماز ادا کرنے کے لئے نہیں آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے بلال لوگوں کو کیا ہوا ہے ؟ میں نے عرض کی : سردی کی وجہ سے وہ نہیں آ سکے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ان سے سردی کو دور کر دے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ صبح کی نماز کے لئے آ رہے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن سیار ہے اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1787
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1788
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ يَقُولُ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ يُغَلِّسُ بِالصُّبْحِ كَمَا يُغَلِّسُ بِهَا ابْنُ الزُّبَيْرِ ، وَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ حِينَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ ، وَيَقُولُ : إِنَّهُ لَكمَا قَالَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - ( إِلَى غَسَقِ اللَّيْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا ) . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
عمرو بن دینار بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ صبح کی نماز اسی طرح اندھیرے میں ادا کرتے تھے جیسے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اسے اندھیرے میں ادا کرتے تھے ، اور مغرب کی نماز اس وقت ادا کر لیتے تھے جب سورج غروب ہو جاتا تھا وہ یہ کہتے تھے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” رات کے پھیلنے تک اور فجر کی تلاوت بے شک فجر کی تلاوت میں ( فرشتوں کی ) حاضری ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1788
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1789
وَعَنْ عِمَارَةَ بْنِ رُؤيْبَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا ، وَشَهِدَ أَنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ - دَخَلَ الْجَنَّةَ " . ¤ قُلْتُ : لَهُ فِي الصَّحِيحِ : " لَنْ يَلِجَ النَّارَ أَحَدٌ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص سورج نکلنے سے پہلے کی نماز اور اس کے غروب ہونے سے پہلے کی نماز ادا کرے اور اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ، تو وہ جنت میں جائے گا “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ” صحیح “ میں یہ حدیث منقول ہے : ” ایسا شخص جہنم میں داخل نہیں ہو گا ، جو سورج نکلنے سے پہلے والی اور اس کے غروب ہونے سے پہلے والی نماز ادا کرے “ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1789
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 1790
وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقُولُ : تَتَدَارَكُ الْحُرْسَانُ مِنْ مَلَائِكَةِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - حَارِسُ اللَّيْلِ وَحَارِسُ النَّهَارِ عِنْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ ، وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ ( وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا ) . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ . ¤
محمد محی الدین
ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ تعالی کی طرف سے مقرر کردہ فرشتے یکے بعد دیگرے آتے ہیں رات کے محافظ آتے ہیں ، اور دن کے محافظ صبح صادق کے وقت آتے ہیں اگر تم لوگ چاہو ( تو اس کی تائید میں ) یہ آیت پڑھ لو ” اور فجر کی تلاوت اور بے شک فجر کی تلاوت میں حاضری ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ابوعبیدہ نامی راوی نے اپنے والد ( سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1790
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف لانقطاعہ