مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ وَقْتِ صَلَاةِ الْعَصْرِ . باب: عصر کی نماز کا وقت
حدیث نمبر: 1713
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ - يَعْنِي الْعَصْرَ - فُرِضَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَضَيَّعُوهَا ، فَمَنْ حَافَظَ [ مِنْكُمُ الْيَوْمَ ] عَلَيْهَا أُعْطِيَ أَجْرَهَا مَرَّتَيْنِ ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَهَا حَتَّى يُرَى الشَّاهِدُ ، - يَعْنِي النَّجْمَ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ ثِقَةٌ مُدَلِّسٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک یہ نماز ( راوی کہتے ہیں : یعنی عصر کی نماز ) تم سے پہلے لوگوں پر فرض قرار دی گئی تھی ، لیکن انہوں نے اُسے ضائع کر دیا ، تم میں سے آج جو اس کی حفاظت کرے گا ، اُسے اس کا دگنا اجر دیا جائے گا ، اور پھر اس کے بعد کوئی ( نفل ) نماز ادا نہیں کی جائے گی ، یہاں تک ” شاہد “ دکھائی دے “ ( راوی کہتے ہیں : اس سے مراد ستارہ ہے ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، وہ ” ثقہ “ ہے ، تدلیس کرنے والا ہے ۔