حدیث نمبر: 1704
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : تَطْلُعُ الشَّمْسُ مِنْ جَهَنَّمَ فِي قَرْنِ شَيْطَانٍ أَوْ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ ، فَمَا تَرْتَفِعُ مِنْ قَصَبَةٍ إِلَّا فُتِحَ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ النَّارِ ، فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فُتِحَتْ أَبْوَابُهَا كُلُّهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، وَلَهُ طَرِيقٌ تَأْتِي فِي الْأَوْقَاتِ الَّتِي يُكْرَهُ فِيهَا الصَّلَاةُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سورج ، جہنم سے ، شیطان کے سینگ میں ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے ، جیسے ہی وہ ایک قصبہ ( پیمائش کا مخصوص پیمانہ ) جتنا بلند ہوتا ہے ، تو جہنم کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے ، یہاں تک کہ جب تک گرمی شدید ہو جائے ، تو اُس وقت اس کے تمام دروازے کھول دیے گئے ہوتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ، یہ ایک اور سند کے ساتھ بھی منقول ہے ، اور وہ روایت اس باب میں آئے گی ، جس میں اُن اوقات کا تذکرہ ہے ، جن میں نماز ادا کرنا مکروہ قرار دیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ، یہ ایک اور سند کے ساتھ بھی منقول ہے ، اور وہ روایت اس باب میں آئے گی ، جس میں اُن اوقات کا تذکرہ ہے ، جن میں نماز ادا کرنا مکروہ قرار دیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 1705
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَارِيَةٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَبْرِدُوا بِالظُّهْرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ سَلِيطٍ عَنْهُ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَ ابْنَ سَلِيطٍ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن جاریہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” ظہر کو ٹھنڈے وقت میں ادا کرو ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ابن سلیط کی سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، میں نے کسی کو ابن سلیط کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ابن سلیط کی سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، میں نے کسی کو ابن سلیط کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 1706
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ فِي أَيَّامِ الشِّتَاءِ ، وَمَا نَدْرِي أَمَا مَضَى مِنَ النَّهَارِ أَكْثَرُ أَوْ مَا بَقِيَ . ¤ قُلْتُ : لِأَنَسٍ حَدِيثٌ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ فِي تَقْدِيمِهَا فِي السَّفَرِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْتَحِلَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ رِوَايَةِ مُوسَى أَبِي الْعَلَاءِ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گرمی میں ظہر کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے کہ ہمیں اندازہ نہیں ہو پاتا تھا ، کہ دن کا زیادہ حصہ گزر چکا ہے ، یا باقی رہ گیا ہے ؟ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث امام ابوداؤد نے نقل کی ہے ، جس میں یہ بات ذکر کی گئی ہے : کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کے دوران روانہ ہونا ہوتا تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز کو جلدی ادا کر لیتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے موسیٰ ابوالعلاء کی نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے موسیٰ ابوالعلاء کی نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔