مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ وَقْتِ صَلَاةِ الْعَصْرِ . باب: عصر کی نماز کا وقت
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَ أَبْعَدَ رَجُلَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ دَارًا مِنْ مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبُو لَبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ - مِنْ أَهْلِ قُبَاءٍ - وَأَبُو عَبَسِ بْنُ جَبْرٍ - وَمَسْكَنُهُ فِي بَنِي حَارِثَةَ - فَيُصَلِّيَانِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعَصْرَ ، ثُمَّ يَأْتِيَانِ قَوْمَهُمَا وَمَا صَلَّوْا لِتَعْجِيلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةَ الْعَصْرِ . ¤ قُلْتُ : لِأَنَسٍ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ فِي تَعْجِيلِ الْعَصْرِ غَيْرِ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ الْكَبِيرِ ثِقَاتٌ ، إِلَّا ابْنَ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ وَقَدْ عَنْعَنَهُ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے جن دو افراد کے گھر ، اللہ کے رسول کی مسجد سے سب سے زیادہ دور تھے ، وہ افراد یہ ہیں : سیدنا ابولبابہ بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ جن کا تعلق قباء سے ہے ، اور سیدنا ابوعبس بن جبر رضی اللہ عنہ جن کی رہائش گاہ بنو حارثہ کے محلے میں تھی ، لیکن یہ دونوں صاحبان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں عصر کی نماز ادا کرتے تھے ، اور پھر یہ دونوں اپنی قوم میں واپس چلے جاتے تھے ، اور اُن لوگوں نے ابھی تک نماز ادا نہیں کی ہوتی تھی ، اس کی وجہ یہ تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز جلدی ادا کر لیتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث ” صحیح “ میں بھی مذکور ہے ، جو عصر کی نماز جلدی ادا کرنے کے بارے میں ہے ، لیکن وہ اس حدیث کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، معجم کبیر کے رجال ” ثقہ “ ہیں ، صرف ابن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے ، وہ تدلیس کرنے والا ہے ، اور اس نے یہ روایت ” عنعنہ “ کے ساتھ نقل کی ہے ۔