مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ وَقْتِ صَلَاةِ الْعَصْرِ . باب: عصر کی نماز کا وقت
وَعَنْ أَبِي طَرِيفٍ قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَيْثُ حَاصَرَ الطَّائِفَ ، فَكَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ حِينًا لَوْ أَنَّ رَجُلًا رَمَى لَرَأَى مَوَاقِعَ نَبْلِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ فَقَالَ : يُصَلِّي الْعَصْرَ . وَصَوَابُهُ : الْمَغْرِبُ . كَمَا رَوَاهُ أَحْمَدُ فَقَالَ : كَانَ يُصَلِّي بِنَا صَلَاةَ الْمَغْرِبِ ، وَسَيَأْتِي - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - وَفِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُمَيْرَةَ هَكَذَا قَالَ الطَّبَرَانِيُّ . وَعِنْدَ أَحْمَدَ : الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي شُمَيْلَةَ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . قُلْتُ : الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سُمَيْرٍ ، وَيُقَالُ : ابْنُ سُمَيْرَةَ ، ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤سیدنا ابوطریف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ، یہ اُس وقت کی بات ہے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ کیا ہوا تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز اس وقت ادا کی کہ اگر کوئی شخص تیر پھینکتا ، تو وہ اپنے تیر کے گرنے کی جگہ کو دیکھ سکتا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت عصر کی نماز ادا کی “ حالانکہ درست یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت مغرب کی نماز ادا کی تھی ، جیسا کہ امام أحمد نے یہ روایت نقل کی ہے ، جس میں اُن کے یہ الفاظ ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی ۔ “
یہ روایت آگے چل کر آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا ، اس کی سند میں ایک راوی ولید بن عبداللہ ابوسمیرہ ہے ، امام طبرانی نے اسی طرح کہا: ہے ، جب کہ امام أحمد نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ولید بن عبداللہ بن ابوشمیلہ ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، میں یہ کہتا ہوں : یہ ولید بن عبداللہ بن ابوسمیر ہے ، اور ایک قول کے مطابق اس کا نام ابن سمیرہ ہے ، اس کا تذکرہ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔