کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: بچے اور بچی کے پیشاب کا حکم
عَنْ أَبِي لَيْلَى قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَى صَدْرِهِ أَوْ بَطْنِهِ الْحَسَنُ أَوِ الْحُسَيْنُ - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - فَبَالَ ، فَرَأَيْتُ بَوْلَهُ أَسَارِيعَ ، فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَقَالَ : " دَعُوا ابْنِي ، لَا تُفْزِعُوهُ حَتَّى يَقْضِيَ بَوْلَهُ " ثُمَّ أَتْبَعَهُ الْمَاءَ ، ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ بَيْتَ تَمْرِ الصَّدَقَةِ وَمَعَهُ الْغُلَامُ ، فَأَخَذَ تَمْرَةً فَجَعَلَهَا فِي فِيهِ، فَاسْتَخْرَجَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ : " إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لَنَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابولیلی بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ، آپ کے سینے پر ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ پر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ یا شاید سیدنا حسین رضی اللہ عنہ موجود تھے ، انہوں نے پیشاب کر دیا ، میں نے ان کے پیشاب کی لکیریں دیکھیں ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھے تو آپ نے ارشاد فرمایا : میرے بیٹے کو رہنے دو ! اسے پریشان نہ کرو ، جب تک یہ پیشاب مکمل نہیں کر لیتا ، پھر آپ نے اُس پر پانی ڈال دیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھے اور اس گھر میں داخل ہوئے ، جس میں صدقہ کی کھجوریں موجود تھیں ، آپ کے ساتھ وہ بچہ بھی تھا ، اُس نے ایک کھجور پکڑی اور اپنے منہ میں ڈال لی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ باہر نکال دی اور ارشاد فرمایا : صدقہ ، ہمارے لیے حلال نہیں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1568
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَاءَتْ أُمُّ الْفَضْلِ بِنْتُ الْحَارِثِ بِأُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ الْعَبَّاسِ ، فَوَضَعَتْهَا فِي حِجْرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَالَتْ ، فَاخْتَلَجَتْهَا أُمُّ الْفَضْلِ ، ثُمَّ لَكَمَتْ بَيْنَ كَتِفَيْهَا ، ثُمَّ اخْتَلَجَتْهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَعْطِنِي قَدَحًا مِنْ مَاءٍ " فَصَبَّهُ عَلَى مَبَالِهَا ، ثُمَّ قَالَ : " اسْكُبُوا الْمَاءَ فِي سَبِيلِ الْبَوْلِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَأَبُو زُرْعَةَ وَأَبُو حَاتِمٍ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ وَوَثَّقَهُ فِي أُخْرَى . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدہ ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا ( جو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ہیں ) وہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو لے کر آئیں ، اور انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں بٹھا لیا ، اُس بچی نے پیشاب کر دیا ، سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا کو اس پر شرمندگی ہوئی تو انہوں نے بچی کے دونوں کندھوں کے درمیان مارا ، پھر انہیں شرمندگی ہوئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم مجھے پانی کا پیالہ دو ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پانی اس پیشاب پر بہا دیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پیشاب کی جگہ پر پانی بہا دیا کرو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عبداللہ ہے ، جسے امام أحمد ، ابوزرعہ ابوحاتم ، امام نسائی رحمہ اللہ اور ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے ”ضعیف“ قرار دیا ہے ، اور دوسری روایت کے مطابق انہوں نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1569
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَاقِدٌ فِي بَعْضِ بُيُوتِهِ عَلَى قَفَاهُ إِذْ جَاءَ الْحَسَنُ يَدْرُجُ ، حَتَّى قَعَدَ عَلَى صَدْرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ بَالَ عَلَى صَدْرِهِ ، فَجِئْتُ أُمِيطُهُ عَنْهُ فَانْتَبَهَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " وَيْحَكَ يَا أَنَسُ ، دَعِ ابْنِي وَثَمَرَةَ فُؤَادِي ; فَإِنَّهُ مَنْ آذَى هَذَا فَقَدَ آذَانِي ، وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ " ، ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَى الْبَوْلِ صِبًا ، فَقَالَ : " يُصَبُّ عَلَى بَوْلِ الْغُلَامِ ، وَيُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ نَافِعٌ أَبُو هُرْمُزَ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی گھر میں سوئے ہوئے تھے ، اسی دوران سیدنا حسن رضی اللہ عنہ آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے پر بیٹھ گئے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے پر پیشاب کر دیا ، میں انہیں ہٹانے لگا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو گئے ، آپ نے فرمایا : اے انس ! تمہارا ستیاناس ہو ، میرے بیٹے کو اور میری جان کے ٹکڑے کو چھوڑ دو ! کیونکہ جو شخص اس کو اذیت پہنچائے گا ، وہ مجھے اذیت پہنچائے گا ، اور جو مجھے اذیت پہنچائے گا ، وہ اللہ تعالیٰ کو اذیت پہنچائے گا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور وہ پیشاب پر بہا دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بچے کے پیشاب پر پانی ڈال دیا جائے گا ، اور بچی کے پیشاب کو دھویا جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نافع ابوہلال ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1570
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُتِيَ بِالْحُسَيْنِ ، فَجَعَلَ يُقَبِّلُهُ [ وَهُوَ فِي حِجْرِهِ ] فَبَالَ ، فَذَهَبُوا لِيَتَنَاوَلُوهُ فَقَالَ : " ذَرُوهُ " فَتَرَكَهُ حَتَّى فَرَغَ مِنْ بَوْلِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو لایا گیا ، تو آپ نے انہیں بوسہ دینا شروع کیا ، انہوں نے آپ کی گود میں پیشاب کر دیا ، لوگوں نے انہیں الگ کرنا چاہا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسے رہنے دو ! آپ نے انہیں رہنے دیا یہاں تک کہ وہ پیشاب سے فارغ ہوئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1571
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ نَائِمًا عِنْدَهَا وَحُسَيْنٌ يَحْبُو فِي الْبَيْتِ ، فَغَفَلَتْ عَنْهُ ، فَحَبَا حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَعِدَ عَلَى بَطْنِهِ ، ثُمَّ وَضَعَ ذَكَرَهُ فِي سُرَّتِهِ فَبَالَ . قَالَتْ : فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُمْتُ إِلَيْهِ ، فَحَطَطْتُهُ عَنْ بَطْنِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَعِي ابْنِي " فَلَمَّا قَضَى بِوَلَهُ أَخَذَ كُوزًا مِنْ مَاءٍ فَصَبَّهُ ثُمَّ قَالَ : " إِنَّهُ يُصَبُّ مِنْ بَوْلِ الْغُلَامِ ، وَيُغْسَلُ مِنَ الْجَارِيَةِ " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیده زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں سوئے ہوئے تھے ، اور حسین گھر میں گھٹنوں کے بل چل رہے تھے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی ان سے توجہ ہٹی ، تو وہ گھٹنوں کے بل چلتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کے پیٹ پر چڑھ گئے ، پھر انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناف پر اپنی شرمگاہ رکھی اور پیشاب کر دیا ، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو گئے ، میں اٹھ کر حسین کی طرف بڑھی اور انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے ہٹانا چاہا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے بیٹے کو رہنے دو ! جب انہوں نے پیشاب کر لیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا برتن لے کر اُس پر بہا دیا ، اور ارشاد فرمایا : بچے کے پیشاب پر پانی ڈال دیا جائے گا ، اور بچی کے پیشاب کو دھویا جائے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1572
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُتِيَ بِصَبِيٍّ فَبَالَ عَلَيْهِ ، فَنَضَحَهُ ، وَأُتِيَ بِجَارِيَةٍ ، فَبَالَتْ عَلَيْهِ فَغَسَلَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بچے کو لایا گیا ، اُس نے آپ پر پیشاب کر دیا ، تو آپ نے اس پیشاب پر پانی چھڑک دیا ، اگر کسی بچی کو لایا جاتا ، اور وہ آپ پر پیشاب کر دیتی ، تو آپ اُسے دھو لیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1573
درجۂ حدیث محدثین: إسناده اس
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ الْحَسَنَ أَوِ الْحُسَيْنِ بَالَ عَلَى بَطْنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَزْرِمُوا ابْنِي - أَوْ لَا تَسْتَعْجِلُوهُ - " فَتَرَكَهُ حَتَّى قَضَى بَوْلَهُ ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - لِأَنَّ فِي طَرِيقِهِ وِجَادَةً . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے ( جب وہ بچے تھے ) ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ پر پیشاب کر دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے بیٹے کو پریشان نہ کرو ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس سے جلدی نہ کرواؤ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رہنے دیا ، یہاں تک کہ انہوں نے پیشاب کر لیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر اُس پر بہا دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ، اگر اللہ نے چاہا ، کیونکہ اس کی سند میں ” وجادہ “ پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1574
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا كَانَ الْغُلَامُ لَمْ يَطْعَمِ الطَّعَامَ صُبَّ عَلَى بَوْلِهِ ، وَإِذَا كَانَتِ الْجَارِيَةُ غَسَلَهُ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ مَوْقُوفًا عَلَيْهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب بچہ ایسا ہو کہ وہ کچھ کھاتا نہ ہو ، تو اُس کے پیشاب پر پانی ڈال دیا جائے گا اور اگر بچی ہو ، تو اُس ( کے پیشاب کو ) کو دھو لیا جائے گا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابوداؤد نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا پر ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ،
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1575
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف