مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي بَوْلِ الصَّبِيِّ وَالْجَارِيَةِ . باب: بچے اور بچی کے پیشاب کا حکم
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَاءَتْ أُمُّ الْفَضْلِ بِنْتُ الْحَارِثِ بِأُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ الْعَبَّاسِ ، فَوَضَعَتْهَا فِي حِجْرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَالَتْ ، فَاخْتَلَجَتْهَا أُمُّ الْفَضْلِ ، ثُمَّ لَكَمَتْ بَيْنَ كَتِفَيْهَا ، ثُمَّ اخْتَلَجَتْهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَعْطِنِي قَدَحًا مِنْ مَاءٍ " فَصَبَّهُ عَلَى مَبَالِهَا ، ثُمَّ قَالَ : " اسْكُبُوا الْمَاءَ فِي سَبِيلِ الْبَوْلِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَأَبُو زُرْعَةَ وَأَبُو حَاتِمٍ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ وَوَثَّقَهُ فِي أُخْرَى . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدہ ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا ( جو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ہیں ) وہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو لے کر آئیں ، اور انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں بٹھا لیا ، اُس بچی نے پیشاب کر دیا ، سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا کو اس پر شرمندگی ہوئی تو انہوں نے بچی کے دونوں کندھوں کے درمیان مارا ، پھر انہیں شرمندگی ہوئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم مجھے پانی کا پیالہ دو ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پانی اس پیشاب پر بہا دیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پیشاب کی جگہ پر پانی بہا دیا کرو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عبداللہ ہے ، جسے امام أحمد ، ابوزرعہ ابوحاتم ، امام نسائی رحمہ اللہ اور ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے ”ضعیف“ قرار دیا ہے ، اور دوسری روایت کے مطابق انہوں نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔