مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي بَوْلِ الصَّبِيِّ وَالْجَارِيَةِ . باب: بچے اور بچی کے پیشاب کا حکم
وَعَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ نَائِمًا عِنْدَهَا وَحُسَيْنٌ يَحْبُو فِي الْبَيْتِ ، فَغَفَلَتْ عَنْهُ ، فَحَبَا حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَعِدَ عَلَى بَطْنِهِ ، ثُمَّ وَضَعَ ذَكَرَهُ فِي سُرَّتِهِ فَبَالَ . قَالَتْ : فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُمْتُ إِلَيْهِ ، فَحَطَطْتُهُ عَنْ بَطْنِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَعِي ابْنِي " فَلَمَّا قَضَى بِوَلَهُ أَخَذَ كُوزًا مِنْ مَاءٍ فَصَبَّهُ ثُمَّ قَالَ : " إِنَّهُ يُصَبُّ مِنْ بَوْلِ الْغُلَامِ ، وَيُغْسَلُ مِنَ الْجَارِيَةِ " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤سیده زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں سوئے ہوئے تھے ، اور حسین گھر میں گھٹنوں کے بل چل رہے تھے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی ان سے توجہ ہٹی ، تو وہ گھٹنوں کے بل چلتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کے پیٹ پر چڑھ گئے ، پھر انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناف پر اپنی شرمگاہ رکھی اور پیشاب کر دیا ، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو گئے ، میں اٹھ کر حسین کی طرف بڑھی اور انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے ہٹانا چاہا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے بیٹے کو رہنے دو ! جب انہوں نے پیشاب کر لیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا برتن لے کر اُس پر بہا دیا ، اور ارشاد فرمایا : بچے کے پیشاب پر پانی ڈال دیا جائے گا ، اور بچی کے پیشاب کو دھویا جائے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔