حدیث نمبر: 1570
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَاقِدٌ فِي بَعْضِ بُيُوتِهِ عَلَى قَفَاهُ إِذْ جَاءَ الْحَسَنُ يَدْرُجُ ، حَتَّى قَعَدَ عَلَى صَدْرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ بَالَ عَلَى صَدْرِهِ ، فَجِئْتُ أُمِيطُهُ عَنْهُ فَانْتَبَهَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " وَيْحَكَ يَا أَنَسُ ، دَعِ ابْنِي وَثَمَرَةَ فُؤَادِي ; فَإِنَّهُ مَنْ آذَى هَذَا فَقَدَ آذَانِي ، وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ " ، ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَى الْبَوْلِ صِبًا ، فَقَالَ : " يُصَبُّ عَلَى بَوْلِ الْغُلَامِ ، وَيُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ نَافِعٌ أَبُو هُرْمُزَ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی گھر میں سوئے ہوئے تھے ، اسی دوران سیدنا حسن رضی اللہ عنہ آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے پر بیٹھ گئے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے پر پیشاب کر دیا ، میں انہیں ہٹانے لگا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو گئے ، آپ نے فرمایا : اے انس ! تمہارا ستیاناس ہو ، میرے بیٹے کو اور میری جان کے ٹکڑے کو چھوڑ دو ! کیونکہ جو شخص اس کو اذیت پہنچائے گا ، وہ مجھے اذیت پہنچائے گا ، اور جو مجھے اذیت پہنچائے گا ، وہ اللہ تعالیٰ کو اذیت پہنچائے گا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور وہ پیشاب پر بہا دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بچے کے پیشاب پر پانی ڈال دیا جائے گا ، اور بچی کے پیشاب کو دھویا جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نافع ابوہلال ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1570
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف