مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي بَوْلِ الصَّبِيِّ وَالْجَارِيَةِ . باب: بچے اور بچی کے پیشاب کا حکم
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ الْحَسَنَ أَوِ الْحُسَيْنِ بَالَ عَلَى بَطْنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَزْرِمُوا ابْنِي - أَوْ لَا تَسْتَعْجِلُوهُ - " فَتَرَكَهُ حَتَّى قَضَى بَوْلَهُ ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - لِأَنَّ فِي طَرِيقِهِ وِجَادَةً . ¤سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے ( جب وہ بچے تھے ) ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ پر پیشاب کر دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے بیٹے کو پریشان نہ کرو ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس سے جلدی نہ کرواؤ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رہنے دیا ، یہاں تک کہ انہوں نے پیشاب کر لیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر اُس پر بہا دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ، اگر اللہ نے چاہا ، کیونکہ اس کی سند میں ” وجادہ “ پایا جاتا ہے ۔