حدیث نمبر: 1566
عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ كَانَ يَلْقَى مِنَ الْمَذْيِ شِدَّةً ، فَسَدَّدَ رَجُلًا إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ذَلِكَ الْمَذْيُ ، وَكُلُّ فَحْلٍ يَمْذِي، تَغْسِلُهُ بِالْمَاءِ وَتَوَضَّأْ وَصَلِّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ عَطَاءِ بْنِ عَجْلَانَ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو مذی کی وجہ سے مشکل کا سامنا کرنا پڑتا تھا ، انہوں نے ایک شخص کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ مذی ہے ، اور ہر مرد کی مذی خارج ہوتی ہے ، تم اسے پانی کے ذریعے دھو کر وضو کرو اور نماز ادا کر لو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں عطاء بن عجلان کی نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور محدثین کا اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں عطاء بن عجلان کی نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور محدثین کا اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔
حدیث نمبر: 1567
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : بَعَثَ عَلِيٌّ رَجُلًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْأَلُهُ عَنِ الْمَذْيِ ، فَكَرِهَ أَنْ يَكُونَ هُوَ الَّذِي يَسْأَلُهُ لِمَكَانِ فَاطِمَةَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الرَّجُلُ يَرَى الْمَرْأَةَ فَيَمْذِي ، أَعَلَيْهِ الْغُسْلُ ؟ فَقَالَ : " تِلْكَ يَلْقَاهَا فُحُولَةُ الرِّجَالِ ، يُجْزِئُكَ مِنْ ذَلِكَ الْوُضُوءُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو هَارُونَ الْعَبْدِيُّ ، وَأَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا ، تاکہ وہ آپ سے مذی کے بارے میں دریافت کرے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرنا اس لئے مناسب نہیں سمجھا کیونکہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ان کی اہلیہ تھیں ، اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایک شخص کسی عورت کو دیکھتا ہے ، تو اُس کی مذی خارج ہو جاتی ہے ، کیا اس پر غسل لازم ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس چیز کا سامنا جوان مردوں کو کرنا پڑتا ہے ، ایسی صورت میں تمہارے لئے وضو کفایت کر جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوہارون عبدی ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوہارون عبدی ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔