کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: غسل جنابت کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : كَمْ يَكْفِينِي مِنَ الْوُضُوءِ ؟ قَالَ : مُدٌّ . قَالَ : كَمْ يَكْفِينِي مِنَ الْغُسْلِ ؟ قَالَ : صَاعٌ . قَالَ : فَقَالَ الرَّجُلُ : لَا يَكْفِينِي . قَالَ : لَا أُمَّ لَكَ ، قَدْ كَفَى مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ ، رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ الْكَلَامُ عَلَيْهِ وَعَلَى غَيْرِهِ مِنْ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ فِيمَا يُجْزِئُ مِنَ الْمَاءِ لِلْوُضُوءِ وَالْغُسْلِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک شخص نے دریافت کیا : میرے لئے وضو کے لئے کتنا پانی کفایت کر جائے گا ؟ انہوں نے فرمایا : ایک مد ، اُس شخص نے دریافت کیا : میرے غسل کے لئے کتنا پانی کفایت کر جائے گا ؟ انہوں نے فرمایا : ایک صاع ، اُس شخص نے کہا: یہ تو میرے لئے کافی نہیں ہو گا ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : تمہاری ماں نہ رہے ، یہ پانی اُن کے لیے کفایت کر جاتا تھا ، جو تم سے بہتر تھے اور وہ اللہ کے رسول ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اُس پر کلام پہلے گزر چکا ہے ، اور دیگر احادیث بھی پہلے گزر چکی ہیں ، جو اس باب میں ہے ، جس میں یہ مذکور ہے : کہ وضو اور غسل کے لئے کتنا پانی کفایت کرتا ہے ؟
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1464
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَصُبُّ بِيَدِهِ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا . قَالَ رَجُلٌ : إِنَّ شَعْرِي كَثِيرٌ . قَالَ : كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَكْثَرَ وَأَطْيَبَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ کے ذریعے اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈالتے تھے ، ایک شخص نے کہا: میرے بال تو بہت زیادہ ہیں ، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کے رسول کے بال تم سے زیادہ تھے ، اور زیادہ پاکیزہ تھے ۔
یہ روایت امام بزار اور امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1465
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ ، فَقَالَ : ثَلَاثًا ، فَقَالَ : إِنِّي كَثِيرُ الشَّعْرِ ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَكْثَرَ شَعْرًا وَأَطْيَبَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ تَضْعِيفًا لَيِّنًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک شخص نے اُن سے غسل جنابت کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے فرمایا : تین ، اس نے کہا: میرے بال زیادہ ہیں ، تو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال زیادہ تھے اور زیادہ پاکیزہ تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطیہ ہے ، اسے یحیی بن معین نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ، جو ایک کمزور تضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1466
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ رَجُلٍ مِنَ الْقَوْمِ الَّذِينَ سَأَلُوا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالُوا لَهُ : إِنَّا أَتَيْنَاكَ نَسْأَلُكُ عَنْ ثَلَاثٍ : عَنْ صَلَاةِ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ تَطَوُّعًا ، وَعَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ ، وَعَنِ الرَّجُلِ مَا يَصْلُحُ لَهُ مِنَ امْرَأَتِهِ إِذَا كَانَتْ حَائِضًا . فَقَالَ : أَسُحَّارٌ أَنْتُمْ ؟ لَقَدْ سَأَلْتُمُونِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ مُنْذُ سَأَلْتُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ تَطَوُّعًا نُورٌ ، فَمَنْ شَاءَ نَوَّرَ بَيْتَهُ ، وَقَالَ فِيهِ : الْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ يَغْسِلُ فَرْجَهُ وَيَتَوَضَّأُ ، ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا ، وَقَالَ فِي الْحَائِضِ : لَهُ مَا فَوْقَ الْإِزَارِ . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ قِصَّةَ الصَّلَاةِ فِي الْبَيْتِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ هَكَذَا عَنْ رَجُلٍ لَمْ يُسَمِّهِ ، عَنْ عَمْرٍو . ¤
محمد محی الدین
ان افراد میں سے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : جنہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تھا ، اُن لوگوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ کہا: ہم آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں ، تاکہ آپ سے تین چیزوں کے بارے میں سوال کریں ، یہ کہ آدمی کا اپنے گھر میں نقل نماز ادا کرنا ، غسل جنابت ، اور جب عورت حیض کی حالت میں ہو ، تو مرد اس کے ساتھ کس حد تک تعلق رکھ سکتا ہے ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تم لوگ جادوگر ہو ؟ جب سے میں نے ان چیزوں کے بارے میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا ، اُس کے بعد کبھی کسی نے ، اس کے بارے میں مجھ سے سوال نہیں کیا ، اور اب تم نے مجھ سے ( ان امور کے بارے میں ) سوال کیا ہے ، پھر انہوں نے بتایا : آدمی کا اپنے گھر میں نفل ادا کرنا نور ہے ، اب جو شخص چاہے ، وہ اپنے گھر کو نورانی کر دے ، اس روایت میں انہوں نے یہ فرمایا : غسل جنابت کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنی شرمگاہ دھوئے گا ، وضو کرے گا ، اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈالے گا ، حیض والی عورت کے بارے میں انہوں نے یہ فرمایا : تہ بند سے اوپر ، اُس کے ساتھ تعلق رکھا جا سکتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) : میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس میں سے ” گھر میں نماز ادا کرنے “ کا واقعہ روایت کیا ہے ،
یہ روایت امام أحمد نے اسی طرح ایک شخص کے حوالے سے ، عمرو سے نقل کی ہے ، اور انہوں نے اُس شخص کا نام بیان نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1467
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَمْرٍو الْبَجَلِيِّ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى عُمَرَ قَالَ : جَاءَ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ إِلَى عُمَرَ ، فَقَالَ : مَا جَاءَ بِكُمْ ؟ قَالُوا : جِئْنَاكَ لِنَسْأَلَكَ عَنْ ثَلَاثٍ . قَالَ : مَا هِيَ ؟ قَالُوا : صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ تَطَوُّعًا ، مَا هِيَ ؟ وَمَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ مِنَ امْرَأَتِهِ حَائِضًا ؟ وَعَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ . فَقَالَ : أَسَحَرَةٌ أَنْتُمْ ؟ قَالُوا : لَا وَاللَّهِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، مَا نَحْنُ بِسَحَرَةٍ . قَالَ : أَفَكَهَنَةٌ أَنْتُمْ ؟ قَالُوا : لَا ، فَقَالَ : لَقَدْ سَأَلْتُمُونِي عَنْ ثَلَاثٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُنَّ أَحَدٌ مُنْذُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَكُمْ ، فَقَالَ : أَمَّا صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ تَطَوُّعًا فَنُورٌ ، فَنَوِّرْ بَيْتَكَ مَا اسْتَطَعْتَ . وَأَمَّا الْحَائِضُ فَلَكَ مَا فَوْقَ الْإِزَارِ ، وَلَيْسَ لَكَ مَا تَحْتَهُ . وَأَمَّا الْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ فَتُفْرِغُ بِيَمِينِكَ عَلَى شِمَالِكَ ، ثُمَّ تُدْخِلُ يَدَكَ فِي الْإِنَاءِ فَتَغْسِلُ فَرْجَكَ وَمَا أَصَابَكَ ، ثُمَّ تَوَضَّأُ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ ، ثُمَّ تُفْرِغُ عَلَى رَأْسِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، تُدَلِّكُ رَأْسَكَ كُلَّ مَرَّةٍ . ¤ وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ هَذِهِ الطَّرِيقِ ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ ، وَكَذَلِكَ رِجَالُ أَحْمَدَ ، إِلَّا أَنَّ فِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ ، فَهُوَ مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی نے معجم اوسط میں عاصم بن عمرو بجلی کے حوالے سے سیدنا عمر کے غلام عمیر کا یہ بیان نقل کیا ہے : ” عراق سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم لوگ کس سلسلے میں آئے ہو ؟ انہوں نے بتایا : ہم آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں ، تاکہ ہم آپ سے تین چیزوں کے بارے میں دریافت کریں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ کیا ہے ؟ اُن لوگوں نے کہا: آدمی کا اپنے گھر میں نفل ادا کرنا ، یہ کیا ہے ؟ اور آدمی کے لیے اپنی حیض والی بیوی کے ساتھ کس حد تک تعلق رکھنا جائز ہے ؟ اور غسل جنابت کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہیں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تم لوگ جادوگر ہو ؟ انہوں نے کہا: جی نہیں ! اللہ کی قسم ! اے امیر المؤمنین ! ہم جادوگر نہیں ہیں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : پھر کیا تم لوگ کاہن ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگوں نے مجھ سے تین ایسی چیزوں کے بارے میں سوال کیا ہے کہ جب میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اُن کے بارے میں سوال کیا تھا ، اُس کے بعد سے لے کر ، اب تک تم سے پہلے کسی اور نے مجھ سے ان کے بارے میں سوال نہیں کیا ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بتایا : جہاں تک آدمی کے گھر میں نفل ادا کرنے کا تعلق ہے ، تو یہ نور ہے ، تم سے جہاں تک ہو سکے ، اپنے گھر کو نورانی کرو ، جہاں تک حیض والی عورت کے مسئلے کا تعلق ہے ، تو تہبند سے اوپر کا حصہ تمہارے لیے جائز ہے ، اس سے نیچے والا تمہارے لئے جائز نہیں ہے ، جہاں تک غسل جنابت کا تعلق ہے ، تو تم اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالو ، پھر اپنا ہاتھ برتن میں داخل کرو ، اور اپنی شرمگاہ کو ، اور جو مواد تمہیں لگا ہے ، اُسے دھو لو ، پھر تم نماز کے وضو کی طرح وضو کرو ، پھر تم اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈالو ، اور ہر مرتبہ اپنے سر کو مل لو !
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اس سند کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کے رجال ثقہ ہیں ، امام أحمد کے رجال بھی اسی طرح ہیں ، البتہ اس میں ایک شخص ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ، تو وہ مجہول ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1468
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ وَفْدَ ثَقِيفٍ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ بَارِدَةٌ ، فَمَا يَكْفِينَا مِنْ غُسْلِ الْجَنَابَةِ ؟ قَالَ : " أَمَّا أَنَا فَأُفِيضُ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثًا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ثقیف قبیلے کے وفد نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارا علاقہ ، ٹھنڈا علاقہ ہے ، تو غسل جنابت میں ہمارے لیے کیا چیز کفایت کرے گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں تو اپنے سر پر تین مرتبہ پانی بہا دیتا ہوں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1469
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ وَأَنَا ابْنُ ثَمَانِ سِنِينَ ، فَأَخَذَتْ أُمِّي بِيَدِي فَانْطَلَقَتْ بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ رَجُلٌ وَلَا امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَّا قَدْ أَتْحَفَتْكَ بِتُحْفَةٍ ، وَإِنِّي لَا أَقْدِرُ عَلَى مَا أُتْحِفُكَ بِهِ إِلَّا ابْنِي هَذَا ; فَخُذْهُ ، فَلْيَخْدِمْكَ مَا بَدَا لَكَ . فَخَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَشْرَ سِنِينَ ، فَمَا ضَرَبَنِي ضَرْبَةً ، وَلَا سَبَّنِي سَبَّةً ، وَلَا انْتَهَرَنِي ، وَلَا عَبَسَ فِي وَجْهِي ، وَكَانَ أَوَّلَ مَا أَوْصَانِي بِهِ أَنْ قَالَ : " يَا بُنَيَّ ، اكْتُمْ سِرِّي تَكُنْ مُؤْمِنًا " ، فَكَانَتْ أُمِّي وَأَزْوَاجُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْأَلْنَنِي عَنْ سِرِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَا أُخْبِرُهُنَّ بِهِ ، وَلَا أُخْبِرُ بِسِرِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحَدًا أَبَدًا ، وَقَالَ : " يَا بُنَيَّ ، عَلَيْكَ بِإِسْبَاغِ الْوُضُوءِ يُحِبُّكَ حَافِظَاكَ ، وَيُزَادُ فِي عُمُرِكَ ، وَيَا أَنَسُ ، بَالِغْ فِي الِاغْسَالِ مِنَ الْجَنَابَةِ ; فَإِنَّكَ تَخْرُجُ مِنْ مُغْتَسَلِكَ وَلَيْسَ عَلَيْكَ ذَنْبٌ وَلَا خَطِيئَةٌ " . قَالَ : قُلْتُ : كَيْفَ الْمُبَالَغَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " تَبُلُّ أُصُولَ الشَّعْرِ وَتُنَقِّي الْبَشَرَةَ . وَيَا بُنَيَّ ، إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا تَزَالَ عَلَى وُضُوءٍ ; فَإِنَّهُ مَنْ يَأْتِيهِ الْمَوْتُ وَهُوَ عَلَى وُضُوءٍ يُعْطَى الشَّهَادَةَ . وَيَا بُنَيَّ ، إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا تَزَالَ تُصَلِّي ; فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُصَلِّي عَلَيْكَ مَا دُمْتَ تُصَلِّي . وَيَا أَنَسُ ، إِذَا رَكَعْتَ فَأَمْكِنْ كَفَّيْكَ مِنْ رُكْبَتَيْكَ ، وَفَرِّجْ بَيْنَ أَصَابِعِكَ ، وَارْفَعْ مِرْفَقَيْكَ عَنْ جَنْبَيْكَ . وَيَا بُنَيَّ ، إِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ مِنَ الرُّكُوعِ فَأَمْكِنْ كُلَّ عُضْوٍ مِنْكَ مَوْضِعَهُ ; فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى مَنْ لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ بَيْنَ رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ . يَا بُنَيَّ إِذَا سَجَدْتَ فَأَمْكِنْ جَبْهَتَكَ وَكَفَّيْكَ مِنَ الْأَرْضِ ، وَلَا تَنْقُرْ نَقْرَ الدِّيكِ ، وَلَا تُقْعِ إِقْعَاءَ الْكَلْبِ - أَوْ قَالَ : الثَّعْلَبِ - وَإِيَّاكَ وَالِالْتِفَاتَ فِي الصَّلَاةِ ; فَإِنَّ الِالْتِفَاتَ فِي الصَّلَاةِ هَلَكَةٌ ، فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ فَفِي النَّافِلَةِ لَا فِي الْفَرِيضَةِ . وَيَا بُنَيَّ ، إِذَا خَرَجْتَ مِنْ بَيْتِكَ فَلَا تَقَعَنَّ عَيْنُكَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ إِلَّا سَلَّمْتَ عَلَيْهِ ; فَإِنَّكَ تَرْجِعُ مَغْفُورًا لَكَ . وَيَا بُنَيَّ ، إِذَا دَخَلْتَ مَنْزِلَكَ فَسَلِّمْ عَلَى نَفْسِكَ وَعَلَى أَهْلِ بَيْتِكَ . وَيَا بُنَيَّ ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تُصْبِحَ وَتُمْسِي وَلَيْسَ فِي قَلْبِكَ غِشٌّ لِأَحَدٍ ; فَإِنَّهُ أَهْوَنُ عَلَيْكَ فِي الْحِسَابِ . يَا بُنَيَّ ، إِنِ اتَّبَعْتَ وَصِيَّتِي فَلَا تَكُنْ فِي شَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِنَ الْمَوْتِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَزَادَ : " يَا بُنَيَّ ، إِذَا خَرَجْتَ مَنْ بَيَّتَكَ فَلَا يَقَعَنَّ بَصَرُكَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ إِلَّا ظَنَنْتَ أَنَّهُ لَهُ الْفَضْلُ عَلَيْكَ . يَا بُنَيَّ ، إِنَّ ذَلِكَ مِنْ سُنَّتِي ، وَمَنْ أَحْيَا سُنَّتِي فَقَدْ أَحَبَّنِي ، وَمَنْ أَحَبَّنِي كَانَ مَعِي فِي الْجَنَّةِ " . وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تھے ، اُس وقت میں آٹھ سال کا تھا ، میری والدہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! انصار سے تعلق رکھنے والے ہر مرد اور ہر عورت نے آپ کی خدمت میں کوئی تحفہ پیش کیا ہے ، میں آپ کی خدمت میں کوئی تحفہ پیش کرنے کی قدرت نہیں رکھتی ، البتہ میرا یہ بیٹا ہے ، آپ اسے ( خادم کے طور پر ) رکھ لیں ، جب تک آپ کو مناسب لگے گا ، یہ آپ کی خدمت کرتا رہے گا ۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : تو میں نے دس سال ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ، آپ نے کبھی مجھے مارا نہیں ، کبھی برا نہیں کہا: ، کبھی مجھے جھڑکا نہیں ، کبھی میرے سامنے ماتھے پر بل نہیں ڈالے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سب سے پہلے جو تلقین کی وہ یہ تھی کہ آپ نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! میرے ” ستر “ کو چھپا کے رکھنا ، تم مومن ہو جاؤ گے ، پھر میری والدہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج ، مجھ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ” ستر “ کے بارے میں دریافت کرتی تھیں ، تو میں انہیں اس بارے میں نہیں بتاتا تھا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ” ستر “ کے بارے میں ، میں کبھی کسی کو نہیں بتاؤں گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے میرے بیٹے ! تم پر لازم ہے کہ اچھی طرح وضو کرو ، تمہارے دونوں محافظ فرشتے تم سے محبت رکھیں گے ، تمہاری عمر لمبی ہو گی ، اور اے انس ! غسل جنابت میں مبالغہ کرنا ، کیونکہ جب تم غسل خانے سے نکلو گے ، تو تم پر کوئی گناہ اور کوئی خطاء نہیں ہو گی ، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ مبالغہ کیسے ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم بالوں کی جڑوں کو تر کرنا ، اور جلد کو صاف کرنا ۔ اے میرے بیٹے ! اگر تم سے ہو سکے ، تو تم ہمیشہ با وضو رہنا ، کیونکہ جس شخص کو ایسی حالت میں موت آئے کہ وہ باوضو ہو ، تو اُسے شہادت کا مرتبہ دیا جائے گا ۔ اے میرے بیٹے ! اگر تم سے ہو سکے ، تو تم نفل نماز ادا کرتے رہنا ، کیونکہ جب تک تم نماز ادا کرتے رہو گے ، فرشتے تمہارے لئے دعائے رحمت کرتے رہیں گے ۔ اے انس ! جب تم رکوع کرو ، تو اپنی ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر جما کے رکھنا ، اپنی کہنیاں کشادہ رکھنا ، اپنے بازؤں کو پہلو سے دور رکھنا ۔ اے میرے بیٹے ! جب تم رکوع سے سر اٹھاؤ ، تو اپنے ہر ایک عضو کو اس کی مخصوص جگہ پر ٹھہرا دینا ، کیونکہ قیامت کے دن ، اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف نظر رحمت نہیں کرے گا ، جو رکوع اور سجدے کے درمیان اپنی پشت کو سیدھا نہیں کرتا ہے ۔ اے میرے بیٹے ! جب تم سجدہ کرو ، تو اپنی پیشانی اور اپنی ہتھیلیاں زمین پر جما کے رکھنا ، تم مرغ کے ٹھونگا مارنے کی طرح ٹھونگے نہ مارنا ، اور تم کتے ۔ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) - لومڑی کی طرح ” اقعاء “ کے طور پر نہ بیٹھنا ، اور نماز کے دوران ادھر ادھر نہ دیکھنا ، کیونکہ نماز کے دوران ادھر ادھر دیکھنا ہلاکت کا باعث ہے ، اگر اُس کے بغیر چارہ نہ ہو ، تو نفل نماز میں ایسا کر لینا ، فرض میں ایسا نہ کرنا ۔ اے میرے بیٹے ! جب تم اپنے گھر سے نکلو ، تو تمہاری نظر اہل قبلہ میں سے ، جس شخص پر بھی پڑے ، تم اُسے سلام کرنا ، جب تم واپس آؤ گے ، تو تمہاری مغفرت ہو چکی ہو گی ۔ اے میرے بیٹے ! جب تم اپنے گھر میں داخل ہو ، تو اپنے اوپر ، اور اپنے اہل خانہ پر ، سلام بھیجنا ۔ اے میرے بیٹے ! اگر تم سے ہو سکے ، تو تم ایسی حالت میں صبح و شام کرنا ، کہ تمہارے دل میں کسی کے لئے کھوٹ ، یا کینہ نہ ہو ، اس طرح تمہارے لیے حساب دینا آسان ہو گا ۔ اے میرے بیٹے ! اگر تم نے میری ہدایت کی پیروی کی ، تو تمہارے نزدیک کوئی بھی چیز موت سے زیادہ محبوب نہیں ہو گی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس میں یہ الفاظ زائد ہیں : اے میرے بیٹے ! جب تم اپنے گھر سے نکلو ، تو تمہاری نگاہ اہل قبلہ میں سے ، جس شخص پر بھی پڑے ، تو تم بھی گمان کرنا کہ وہ تم پر فضیلت رکھتا ہے ۔ اے میرے بیٹے ! یہ چیز میری سنت ہے ، اور جو شخص میری سنت کا احیاء کرے گا ، وہ مجھ سے محبت رکھے گا ، اور جو شخص مجھ سے محبت رکھے گا ، وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن ابویزید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1470
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَكْفِي مِنْ غُسْلِ الْجَنَابَةِ سِتَّةُ أَمْدَادٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ ، وَقَدْ ضَعَّفُوهُ كُلُّهُمُ : الْبُخَارِيُّ ، وَيَحْيَى وَفِي إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ عَنْهُ ، وَالنَّسَائِيُّ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” غسل جنابت کے لیے چھ مد کفایت کر جاتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عبدالملک نوفلی ہے ، جسے تمام محدثین نے ”ضعیف“ قرار دیا ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ نے ، اور دو میں سے ایک روایت کے مطابق ، یحییٰ بن معین نے ، اور امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ، جبکہ ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1471
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ ، وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ رِوَايَةِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْفَنَّادِ ، وَقَالَ : لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مد ( پانی ) کے ذریعے وضو کر لیتے تھے ، اور ایک صاع کے ذریعے غسل کر لیتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے ابراہیم بن سلیمان فناد سے نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1472
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : السُّنَّةُ فِي الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ أَنْ تَغْسِلَ كَفَّكَ حَتَّى تُنَقِّيَ ، ثُمَّ تُدْخِلُ يَمِينَكَ فِي الْإِنَاءِ [ فَتَصُبُّ بِيَمِينِكَ عَلَى يِسَارِكَ ] فَتَغْسِلُ فَرْجَكَ حَتَّى تُنَقِّيَ ، ثُمَّ تَضْرِبُ يَسَارَكَ عَلَى الْحَائِطِ أَوِ الْأَرْضِ فَتُدَلِّكُهَا ، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَيْهَا بِيَمِينِكَ فَتَغْسِلُهَا ، ثُمَّ تَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، إِلَّا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ الْأَصْفَهَانِيَّ ، فَإِنِّي لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : غسل جنابت کا سنت طریقہ یہ ہے کہ تم اپنا ہاتھ دھوؤ ، یہاں تک کہ اسے اچھی طرح صاف کرو ، پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کرو ، اور دائیں ہاتھ کے ذریعے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالو ، اور اپنی شرمگاہ کو دھو لو ، یہاں تک کے اُسے اچھی طرح صاف کر لو ، پھر اپنا بایاں ہاتھ دیوار پر ، یا زمین پر رکھ کر اسے مل لو ، پھر اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے اس پر پانی ڈال کر اُسے دھو لو ، پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کرو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، صرف عبداللہ بن محمد بن عباس اصفہانی کا معاملہ مختلف ہے ، میں اُس سے واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1473
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ أَنَّهَا قَالَتْ : أَفْتِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ ، فَقَالَ : " تَبُلُّ أُصُولَ الشَّعْرِ ، وَتُنَقِّي الْبَشَرَةَ ; فَإِنَّ مِثْلَ الَّذِينَ لَا يُحْسِنُونَ الْغُسْلَ كَمَثَلِ شَجَرَةٍ أَصَابَهَا مَاءٌ ، فَلَا وَرَقُهَا يَنْبُتُ وَلَا أَصْلُهَا يُرْوَى ، فَاتَّقَوْا اللَّهَ وَأَحْسِنُوا الْغُسْلَ ; فَإِنَّهَا مِنَ الْأَمَانَةِ الَّتِي حُمِّلْتُمْ ، وَالسَّرَائِرِ الَّتِي اسْتُودِعْتُمْ " . قُلْتُ : كَمْ يَكْفِي الرَّأْسَ مِنَ الْمَاءِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " ثَلَاثُ حَثَيَاتٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طَرِيقِ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُمَا . ¤
محمد محی الدین
سیده میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : اُنہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں غسل جنابت کے بارے میں حکم بیان کیجیے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم بالوں کی جڑوں کو تر کرو ، اور جلد کو صاف کر لو ، جو لوگ اچھی طرح سے غسل نہیں کرتے ہیں ، اُن کی مثال اس درخت کی مانند ہے ، جس تک پانی پہنچ جاتا ہے ، لیکن نہ اس کا پتہ پھوٹتا ہے ، نہ اس کی جڑ سیراب ہوتی ہے ، تم لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرو ! اور اچھی طرح غسل کرو ، یہ ایک امانت ہے ، جو تمہارے ذمہ ڈالی گئی ہے ، اور ایک پوشیدہ چیز ہے ، جو تمہارے سپرد کی گئی ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! سر کے لیے کتنا پانی کفایت کرے گا ؟ آپ نے فرمایا : تین مرتبہ دونوں ہاتھ ملا کر ڈالنا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں عثمان بن عبدالرحمان کے حوالے سے ، عبدالحمید سے نقل کی ہے ، میں نے کسی کو ان دونوں کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1474
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ : كُنْتُ فِي النِّسْوَةِ اللَّاتِي أَهْدَيْنَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " اصْبُبْنَ إِذَا صَبَبْتُنَّ عَلَى رَأْسِهَا ثَلَاثًا فِي الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَأُمُّ حَكِيمٍ مُوَلَّاةُ أُمِّ عَطِيَّةَ لَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهَا . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں ان خواتین میں شامل تھی ، جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کو تیار کیا تھا ، آپ نے ارشاد فرمایا : جب تم اُس کے سر پر پانی ڈالو ، تو غسل جنابت میں تین مرتبہ پانی ڈالنا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کی کنیز ام حکیم کا ذکر کرتے ہوئے ، میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1475
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا اغْتَسَلَ فَتَحَ عَيْنَيْهِ وَأَدْخَلَ أُصْبُعَهُ فِي سُرَّتِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہیں وہ غسل کرتے ہوئے آنکھیں کھولتے تھے اور ناف میں انگلی داخل کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1476
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : أَجْمَرْتُ رَأْسِي إِجْمَارًا شَدِيدًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا عَائِشَةُ ، أَمَا عَلِمْتِ أَنَّ عَلَى كُلِّ شَعْرَةٍ جَنَابَةً " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ فِيهِ رَجُلًا لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے اپنے سر کے بالوں کو مضبوطی سے باندھا ہوا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے عائشہ ! کیا تمہیں علم نہیں ہے ؟ کہ ہر بال کے نیچے جنابت ہوتی ہے ؟
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ اس میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1477
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ سَالِمٍ خَادِمِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : كَنَ أَزْوَاجُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَجْعَلْنَ رُءُوسَهُنَّ أَرْبَعَةَ قُرُونٍ ، فَإِذَا اغْتَسَلْنَ جَمَعْنَهُ عَلَى وَسَطِ رُءُوسِهِنَّ ، وَلَمْ يَنْقُضْنَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ هَارُونَ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ أَكْثَرُ النَّاسِ ، وَوَثَّقَهُ قُتَيْبَةُ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سالم رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج سر کے بالوں کی چار چوٹیاں بناتی تھیں ، اور جب وہ غسل کرنے لگتی تھیں ، تو سر کے درمیان میں انہیں اکٹھا کر لیتی تھیں ، انہیں کھولتی نہیں تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ہارون ہے ، جسے زیادہ تر لوگوں نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، جبکہ قتیبہ اور دیگر حضرات نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1478
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا اغْتَسَلَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ حَيْضِهَا نَقَضَتْ شَعْرَهَا وَغَسَلَتْهُ بِخِطْمِيٍّ وَأُشْنَانٍ ، وَإِذَا اغْتَسَلَتْ مِنْ جَنَابَةٍ صَبَّتْ عَلَى رَأْسِهَا الْمَاءَ وَعَصَرَتْهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سَلَمَةُ بْنُ صُبَيْحٍ الْيَحْمَدِيُّ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب عورت حیض کے بعد غسل کرے گی ، تو اپنے بال کھولے گی اور انھیں خطمی اور اشنان کے ذریعے دھوئے گی ، لیکن جب وہ جنابت کے بعد غسل کرے گی ، تو اپنے سر پر پانی ڈال لے گی ، اور بالوں کو نچوڑ لے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلمہ بن صبیح یحمدی ہے ، میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1479
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف