حدیث نمبر: 1468
عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَمْرٍو الْبَجَلِيِّ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى عُمَرَ قَالَ : جَاءَ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ إِلَى عُمَرَ ، فَقَالَ : مَا جَاءَ بِكُمْ ؟ قَالُوا : جِئْنَاكَ لِنَسْأَلَكَ عَنْ ثَلَاثٍ . قَالَ : مَا هِيَ ؟ قَالُوا : صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ تَطَوُّعًا ، مَا هِيَ ؟ وَمَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ مِنَ امْرَأَتِهِ حَائِضًا ؟ وَعَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ . فَقَالَ : أَسَحَرَةٌ أَنْتُمْ ؟ قَالُوا : لَا وَاللَّهِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، مَا نَحْنُ بِسَحَرَةٍ . قَالَ : أَفَكَهَنَةٌ أَنْتُمْ ؟ قَالُوا : لَا ، فَقَالَ : لَقَدْ سَأَلْتُمُونِي عَنْ ثَلَاثٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُنَّ أَحَدٌ مُنْذُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَكُمْ ، فَقَالَ : أَمَّا صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ تَطَوُّعًا فَنُورٌ ، فَنَوِّرْ بَيْتَكَ مَا اسْتَطَعْتَ . وَأَمَّا الْحَائِضُ فَلَكَ مَا فَوْقَ الْإِزَارِ ، وَلَيْسَ لَكَ مَا تَحْتَهُ . وَأَمَّا الْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ فَتُفْرِغُ بِيَمِينِكَ عَلَى شِمَالِكَ ، ثُمَّ تُدْخِلُ يَدَكَ فِي الْإِنَاءِ فَتَغْسِلُ فَرْجَكَ وَمَا أَصَابَكَ ، ثُمَّ تَوَضَّأُ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ ، ثُمَّ تُفْرِغُ عَلَى رَأْسِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، تُدَلِّكُ رَأْسَكَ كُلَّ مَرَّةٍ . ¤ وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ هَذِهِ الطَّرِيقِ ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ ، وَكَذَلِكَ رِجَالُ أَحْمَدَ ، إِلَّا أَنَّ فِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ ، فَهُوَ مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین

امام طبرانی نے معجم اوسط میں عاصم بن عمرو بجلی کے حوالے سے سیدنا عمر کے غلام عمیر کا یہ بیان نقل کیا ہے : ” عراق سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم لوگ کس سلسلے میں آئے ہو ؟ انہوں نے بتایا : ہم آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں ، تاکہ ہم آپ سے تین چیزوں کے بارے میں دریافت کریں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ کیا ہے ؟ اُن لوگوں نے کہا: آدمی کا اپنے گھر میں نفل ادا کرنا ، یہ کیا ہے ؟ اور آدمی کے لیے اپنی حیض والی بیوی کے ساتھ کس حد تک تعلق رکھنا جائز ہے ؟ اور غسل جنابت کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہیں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تم لوگ جادوگر ہو ؟ انہوں نے کہا: جی نہیں ! اللہ کی قسم ! اے امیر المؤمنین ! ہم جادوگر نہیں ہیں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : پھر کیا تم لوگ کاہن ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگوں نے مجھ سے تین ایسی چیزوں کے بارے میں سوال کیا ہے کہ جب میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اُن کے بارے میں سوال کیا تھا ، اُس کے بعد سے لے کر ، اب تک تم سے پہلے کسی اور نے مجھ سے ان کے بارے میں سوال نہیں کیا ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بتایا : جہاں تک آدمی کے گھر میں نفل ادا کرنے کا تعلق ہے ، تو یہ نور ہے ، تم سے جہاں تک ہو سکے ، اپنے گھر کو نورانی کرو ، جہاں تک حیض والی عورت کے مسئلے کا تعلق ہے ، تو تہبند سے اوپر کا حصہ تمہارے لیے جائز ہے ، اس سے نیچے والا تمہارے لئے جائز نہیں ہے ، جہاں تک غسل جنابت کا تعلق ہے ، تو تم اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالو ، پھر اپنا ہاتھ برتن میں داخل کرو ، اور اپنی شرمگاہ کو ، اور جو مواد تمہیں لگا ہے ، اُسے دھو لو ، پھر تم نماز کے وضو کی طرح وضو کرو ، پھر تم اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈالو ، اور ہر مرتبہ اپنے سر کو مل لو !
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اس سند کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کے رجال ثقہ ہیں ، امام أحمد کے رجال بھی اسی طرح ہیں ، البتہ اس میں ایک شخص ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ، تو وہ مجہول ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1468
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف