مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ . باب: غسل جنابت کا بیان
وَعَنْ رَجُلٍ مِنَ الْقَوْمِ الَّذِينَ سَأَلُوا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالُوا لَهُ : إِنَّا أَتَيْنَاكَ نَسْأَلُكُ عَنْ ثَلَاثٍ : عَنْ صَلَاةِ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ تَطَوُّعًا ، وَعَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ ، وَعَنِ الرَّجُلِ مَا يَصْلُحُ لَهُ مِنَ امْرَأَتِهِ إِذَا كَانَتْ حَائِضًا . فَقَالَ : أَسُحَّارٌ أَنْتُمْ ؟ لَقَدْ سَأَلْتُمُونِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ مُنْذُ سَأَلْتُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ تَطَوُّعًا نُورٌ ، فَمَنْ شَاءَ نَوَّرَ بَيْتَهُ ، وَقَالَ فِيهِ : الْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ يَغْسِلُ فَرْجَهُ وَيَتَوَضَّأُ ، ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا ، وَقَالَ فِي الْحَائِضِ : لَهُ مَا فَوْقَ الْإِزَارِ . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ قِصَّةَ الصَّلَاةِ فِي الْبَيْتِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ هَكَذَا عَنْ رَجُلٍ لَمْ يُسَمِّهِ ، عَنْ عَمْرٍو . ¤ان افراد میں سے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : جنہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تھا ، اُن لوگوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ کہا: ہم آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں ، تاکہ آپ سے تین چیزوں کے بارے میں سوال کریں ، یہ کہ آدمی کا اپنے گھر میں نقل نماز ادا کرنا ، غسل جنابت ، اور جب عورت حیض کی حالت میں ہو ، تو مرد اس کے ساتھ کس حد تک تعلق رکھ سکتا ہے ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تم لوگ جادوگر ہو ؟ جب سے میں نے ان چیزوں کے بارے میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا ، اُس کے بعد کبھی کسی نے ، اس کے بارے میں مجھ سے سوال نہیں کیا ، اور اب تم نے مجھ سے ( ان امور کے بارے میں ) سوال کیا ہے ، پھر انہوں نے بتایا : آدمی کا اپنے گھر میں نفل ادا کرنا نور ہے ، اب جو شخص چاہے ، وہ اپنے گھر کو نورانی کر دے ، اس روایت میں انہوں نے یہ فرمایا : غسل جنابت کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنی شرمگاہ دھوئے گا ، وضو کرے گا ، اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈالے گا ، حیض والی عورت کے بارے میں انہوں نے یہ فرمایا : تہ بند سے اوپر ، اُس کے ساتھ تعلق رکھا جا سکتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) : میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس میں سے ” گھر میں نماز ادا کرنے “ کا واقعہ روایت کیا ہے ، یہ روایت امام أحمد نے اسی طرح ایک شخص کے حوالے سے ، عمرو سے نقل کی ہے ، اور انہوں نے اُس شخص کا نام بیان نہیں کیا ہے ۔