مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ . باب: غسل جنابت کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : كَمْ يَكْفِينِي مِنَ الْوُضُوءِ ؟ قَالَ : مُدٌّ . قَالَ : كَمْ يَكْفِينِي مِنَ الْغُسْلِ ؟ قَالَ : صَاعٌ . قَالَ : فَقَالَ الرَّجُلُ : لَا يَكْفِينِي . قَالَ : لَا أُمَّ لَكَ ، قَدْ كَفَى مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ ، رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ الْكَلَامُ عَلَيْهِ وَعَلَى غَيْرِهِ مِنْ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ فِيمَا يُجْزِئُ مِنَ الْمَاءِ لِلْوُضُوءِ وَالْغُسْلِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک شخص نے دریافت کیا : میرے لئے وضو کے لئے کتنا پانی کفایت کر جائے گا ؟ انہوں نے فرمایا : ایک مد ، اُس شخص نے دریافت کیا : میرے غسل کے لئے کتنا پانی کفایت کر جائے گا ؟ انہوں نے فرمایا : ایک صاع ، اُس شخص نے کہا: یہ تو میرے لئے کافی نہیں ہو گا ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : تمہاری ماں نہ رہے ، یہ پانی اُن کے لیے کفایت کر جاتا تھا ، جو تم سے بہتر تھے اور وہ اللہ کے رسول ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اُس پر کلام پہلے گزر چکا ہے ، اور دیگر احادیث بھی پہلے گزر چکی ہیں ، جو اس باب میں ہے ، جس میں یہ مذکور ہے : کہ وضو اور غسل کے لئے کتنا پانی کفایت کرتا ہے ؟